مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی صورتحال پر صائب مؤقف

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے تشدد پسند بھارت کو جس طرف دھکیل رہے ہیں اس سے واپسی مشکل ہوگی۔ پچھلے سال کی بھارتی فضائی جارحیت اور بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر جاری مظالم کے حوالے سے وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ بجا طور پر درست ہیں۔ بھارت کے حالیہ شہری قوانین کے اعلان اور پھر پارلیمان سے ان کی منظوری کے مراحل میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں جن خدشات کا اظہار کر رہی تھیں وہ حرف بحرف درست ثابت ہوئے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارتی جنتا پارٹی کی اٹھان ہی آر ایس ایس کے ہندو توا پر ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ سمیت متعدد حکومتی زعما ماضی میں آر ایس ایس اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے نہ صرف اہم عہدیدار رہے بلکہ وہ ہمیشہ سے ہندو بھارت کے سماجی و سیاسی فلسفہ کے علمبردار رہے۔ نریندر مودی جب ماضی میں گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے تو ان کے ادوار میں گجرات ریاست میںمسلم برداری کے ساتھ قدم قدم پر ناروا سلوک ہوا۔ ملازمتوں سے محرومی’ راشن کارڈ کی منسوخی اور پھر منصوبے کے تحت کیا گیا قتل عام اور دیگر متعدد واقعات ان کی سفاک ہندو توا سیاست کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ یہ بد قسمتی ہی ہے کہ سیکولر آئین رکھنے والے بھارت کی سیاست میں پچھلے ایک عشرہ کے دوران مختلف ریاستوں اور پھر مرکزی اسمبلی میں ہندو بھارت کے علمبرداروں کو جس طرح پذیرائی ملی وہ حیران کن ہے۔ گو دہلی کے حالیہ انتخابات میں ہندو توا کی جگہ عوامی خدمت اور سیکولر ازم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے لیکن یہ جنتا پارٹی کی ہندو سفاکیت کی سیاست اور عملی اقدامات کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ بھارتی پنجاب’ بنگال’ بہار اور چند دیگر ریاستوں نے نئے شہری قوانین کو اپنی ریاستوں میں نافذ کرنے سے انکار کردیا ہے بعض سیاسی و سماجی رہنما اور قانون دان اس قانون کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرچکے ہیں جنہیں یکجا کرکے ان کی سماعت بھی ہو رہی ہے تو دوسری طرف بھارت کے طول و عرض میں شہریت کے نئے قوانین کے خلاف عوامی احتجاج بھی جاری ہے۔ پچھلے تین ماہ سے جاری اس احتجاج کے دوران مجموعی طور پر 50سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکیں’ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں جانوروں کے حقوق اور موسمیات کے حوالے سے سرگرم عمل تنظیموں کو بھارت میں انسانی حقوق پر حملہ آور آر ایس ایس کے غنڈے دکھائی دیتے ہیں نا ان کی سرپرستی کرتی مودی سرکار کے عزائم۔ بعض ممالک کے نرم الفاظ میں احتجاج پر بھارت کا یہ کہنا کہ یہ اس کا داخلی مسئلہ ہے ایک حد تک تو درست ہے لیکن انسانی حقوق کے عالمی قوانین پر دستخط کرنے والوں میں بھارت بھی شامل ہے اس طور وہ انسانی حقوق کی پامالی اور پر امن مظاہرین کے مارے جانے کے واقعات کو داخلی معاملہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا۔ یہ امر بھی بہت افسوسناک ہے کہ بھارت میں پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے جتنے واقعات ہوئے ان میں شرپسندوں کو بھارتی پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل رہی اور ہے۔ پچھلے تین دنوں کے دوران دہلی میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات’ انسانی جانوں کے ضیاع اور مسلمانوں اور دلتوں کی املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی صدر ٹرمپ بھارت کے دورہ پر تھے۔ افسوس کہ چار ارب ڈالر کے معاہدوں نے دنیا کی سپریم طاقت کے سربراہ سے قوت گویائی چھین لی۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی سرپرستی میں ایک دہشت گرد ٹولے کی امن و انسانیت دشمن سرگرمیوں پر دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم نے جن باتوں کی طرف عالمی برادری کو متوجہ کیا ان سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ مقبوضہ وادی پچھلے 6ماہ سے دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ایک کروڑ کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہے میڈیا سنسر شپ اور کرفیو کی وجہ سے دنیا کو کچھ معلوم نہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم اور دیگر زعما پچھلے 6ماہ کے دوران تواتر کے ساتھ عالمی برادری کو بتا سمجھا رہے ہیں کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی رائے عامہ بھی حیران ہے کہ مہذب دنیا چند روایتی بیانات جاری کرکے یہ کیوں سمجھتی ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی چکی میں پستے کشمیریوں کو عالمی برادری نے قطعی طور پر مایوس کیا ہے۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان یا پھر فلسطین پر قابض یہودیوں کے لئے چند گھنٹوں میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے والی قوتوں کی کشمیریوں کی نسل کشی پر خاموشی گھنائونا جرم قرار پائے گا۔ پاکستانی حکومت اور رائے عامہ کے مختلف طبقات اپنی بساط کے مطابق مظلوم کشمیریوں کی دامے درمے سخنے حمایت کر رہے ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اور خصوصاً اقوام عالم کے بڑے ممالک بھی اپنی ذمہ داریوں کو بطور خاص سمجھیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں اور بعض دیگر بھارتی اقدامات پر پاکستان کا صبر و تحمل اس کی کمزوری نہیں۔ یہاں یہ عرض کرنا بجا طور پر درست ہوگا کہ پاکستان کا صبر و تحمل خطے کے وسیع تر مفادات’ امن اور انسانیت کے تحفظ کے لئے ہے۔ اپنی فضائی جارحیت کا نتیجہ بھارت پچھلے سال عملی طور پر د یکھ چکا ہے اب بھی اگر اس نے اپنے داخلی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی ڈرامہ کیا تو اس کے نتائج بھی بھارت کو بھگتنا ہوں گے۔