ملنے کا نہیں نایاب ہیں ہم

1970ء کی ابتداء یا شاید اس سے چند مہینے پہلے کا ذکر ہے یہ وہ دور تھا جب میں پاکستان کے ایک اہم قومی اخبار کے پشاور بیورو میں سٹی رپورٹر کی حیثیت سے کام کرتا تھا،ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کے ڈراموں میں بھی شرکت کی وجہ سے مذکورہ اخبار کیلئے سٹیج اور ریڈیو کے چیدہ چیدہ فنکاروں کے انٹر ویوز کر کے اخبار کے شوبز صفحے کو مہیا کرتا،ایک روز اطلاع ملی کہ لاہور اور کراچی کے بعد جہاں پشتو فلموں کاآغاز ہوچکا تھا،پشاور میں بھی ایک پشتو فلم کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں ایک تقریب مہورت کا انعقاد کیا گیا ہے،اس موقع کو کوریج دینے کیلئے مقررہ مقام پر پہنچا تو چھاتہ خان نامی ایک شخص فلم کی کاسٹ کے چند افراد کے ساتھ موجود تھے ،ایک دھان پان سی نازک اندام خوبصورت خدوخال کی لڑکی کو بطور ہیروئن متعارف کرایا گیا،جبکہ ہیرو کے طور پر ایک وجیہہ نوجوان ایمل خان سے بھی تعارف ہوا۔ہیروئن کے ساتھ اس کی ماں بھی موجود تھی،فلمی نام مہ جبین قزلباش رکھا گیا تھا اس ہیروئن کا،اس موقع پر فلم کی تفصیل بھی بتائی گئی اور حاضرین کے سامنے ہیروئن مہ جبین قزلباش نے میڈم نورجہاں کے کچھ مشہور نغمے بھی سنائے،اگرچہ تب اس کی آواز میں وہ پختگی نہیں تھی اور ابھی اسے موسیقی کے شعبے میں مزید تربیت کی ضرورت تھی تاہم اس کی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہورہی تھی اور پنڈتون نے ادھر ہی یہ پیشگوئی کی تھی کہ یہ لڑکی بہت آگے جائے گی،وہ فلم تو بوجوہ تکمیل پذیر نہ ہوسکی البتہ اسی فلم کے توسط سے فلم کے ہیرو ایمل خان اور ہیرئون مہ جبین قزلباش کے درمیان تعلقات اس قدر آگے بڑھے کہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
مہ جبین قزلباش کی شہرت بڑھتی رہی اور ایک روز جب راقم ٹیلیویژن کے ایک پشتو ڈرامے میں ڈرامہ کے پروڈیوسر انور خواجہ کی دعوت پر یونیورسٹی ٹائون میں اس زمانے میں پی ٹی وی کے عارضی دفتر میں پہنچا تو وہاں مہ جبین قزلباش بھی موجود تھیں،یوں پشتو فلموں میں کام کرنے سے پہلے اس نے ٹی وی کے ایک پشتوڈرامے کے ذریعے شوبز کی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھا،اس کے بعد مہ جبین کو انور خواجہ ہی نے پشتو موسیقی کے پروگراموں میں بھی بطور گلوکارہ شامل کر کے اسے ٹی وی ناظرین سے متعارف کرایا،کچھ ہی عرصے بعد ریڈیو پاکستان کے شعبہ موسیقی کے پروگرام آرگنائزر ارباب عبدالودود نے اس سے چند نغمے گوا کر اسے ریڈیو کے ذریعے صوبے کے گھر گھر متعارف کرایا،پھر اس نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور وہ ٹی وی ڈراموں کے علاوہ پشتو اور ہندکو پروگراموں کی اہم ضرورت بن گئی،جبکہ اس دوران اس سے ریڈیو کے ہمارے ایک ساتھی مرحوم عثمان خان نگینوی نے پشاور سے مری خاطر دنداسہ لانا،اودلبر جاناں گواکر اسے پاکستان گیر شہریت دلادی،یہاں تک کہ مختلف تقاریب میں اسے دنداسہ گرل کے نام سے تعارف کے طور پر بلایا جاتا،یوں شہرت اس کے آگے آگے بچھی جاتی اور وہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ باہر کی دنیا میں بھی اپنے فن کا لوہا منوانے مختلف شوز میں شرکت کر کے مزید شہرت کماتی رہی،ذاتی زندگی میں بھی وہ بہت ملنسار تھی اور خندہ پیشانی سے ہر ایک سے ملتی ،یوں شوبز کی دنیا میں اس نے احترام بھی بہت کمایا،تاہم بد قسمتی سے زندگی کے آخری ایام میں اس کی مالی حالت بہتر نہیں رہی اور جب کچھ عرصہ پہلے اس پر دل کا دورہ پڑا اور اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ موت وزیست کی کشمکش میں مبتلا رہی تو اس کا پرسان حال کوئی نہیں تھا،یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں شوبز سے وابستہ نامور لوگوں کی اکثریت اسی قسم کے حالات سے دوچار ہوتے ہیں اگرچہ اب کراچی اور لاہورمیں فلم اور ٹی وی انڈسڑی پھل پھول رہی ہے اوروہاں کے فنکار خوب خوب کمارہے ہیں ،تاہم اکثر وہاں سے بھی بعض فنکاروں کی حالت زار کے حوالے سے خبریں آجاتی ہیں،ایسا کیوں ہے؟اس پرضرور سوچنا چاہیئے جبکہ پشاور کے فنکاروں کی کسمپرسی نہایت واضح ہے ،کیوں کہ ایک تو پی ٹی وی جیسے ادارے نے ان سے منہ موڑ لیا ہے اور پہلے جس طرح پشتو اور ہندکو پروگراموں کی بہتات ہوتی تھی،جن میں کام کر کے یہ فنکار کسی نہ کسی طور گزر بسر کرلیتے تھے،مگر اب وہاں بھی تقریباً سناٹا چھایا ہوا ہے،ایک آدھ اور پشتو چینل بھی اگرچہ نجی شعبے میں سرگرم ہیں مگر وہاں بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے اور اس کی انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر بغیر معاوضوں کے پروگرام ہوتے رہیں تو اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔یوں خیبرپختونخوا کے فنکاروں کی حالت بقول شاعر کچھ ایسی ہے کہ
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مرجاتے ہیں
اخباری اطلاعات تو یہ ہیں کہ مہ جبین قزلباش کو دوران علاج حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے متعلقہ حکام کے توسط سے پانچ لاکھ روپے دینے کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ تاحال ان کے لواحقین کو ادا نہیں کئے گئے،یہ رقم ان کے اہل خاندان کو کب دی جائے گی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ،البتہ ان کی رحلت پر کم از کم وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار ضرور کیا ہے،جس پر پشتو کے ایک شعر کا اطلاق کیا جا سکتا ہے کہ جب میں زندہ تھا تو تم نے پوچھا تک نہیں اب مرنے کے بعد میری قبر پر یادوں کے دیئے روشن کرنے کا کیا فائدہ ،مہ جبین قزلباش کے جانے کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم