ناقص طرز حکمرانی

جب بھی حکومت سے متعلق کوئی بری خبر عوام تک پہنچتی ہے، ان لوگوں کو اپنے دل ڈوبتے محسوس ہوتے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ یہ بری خبریں کسی ایک شعبے سے متعلق نہیں ہوتی۔ پچھلے پندرہ ماہ کے دوران گیارہ ارب کے نئے قرضوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ نواز شریف اور زرداری ادوار کے پورے پانچ پانچ سالوں کی مدت میںصرف دس کھرب تک کا اضافہ ہوا تھا۔ گندم کی قیمت میں بھی تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال تک بیس کلو کے تھیلے کی قیمت750روپے تھی جو اب بڑھ کر 980روپے ہو چکی ہے۔ یہ اس جنس کا حال ہے جو غریب آدمی کی بنیادی غذا ہے۔ چینی کی قیمتوں میں بھی پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ وہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو غریب کی زندگی کا پہیہ چلتے رہنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان دونوں چیزوں کی مناسب پیداوا رہونے کے باوجود کمی کا تاثر اور اس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ناقص حکمرانی اور بددیانتی کاواضح ثبوت ہے۔ اچھے اور قابل افراد بھی حکومت کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی اس کی تازہ مثال ہیں۔ اس بات میں کوئی باک نہیں کہ ایسے افراد جو سرکاری طم طراق سے بے نیاز ہو کر نظام میں رہتے ہوئے اسے ٹھیک کرنے کے لیے پرجوش ہوں، ان کا تحفظ ہر صورت ضروری ہوتا ہے۔ اب گنتی ہی کے ایسے قابل افراد رہ گئے ہیں جو عمران خان کی حکومت کے لیے خدمات سر انجام دے کر اب تک مایوس نہیں ہوئے۔ ستم بالائے ستم وزیر اعظم کے مشیر خزانہ کی جانب سے شبر زیدی پر کی جانے والی تنقید ٹھہری جبکہ وہ پہلے ہی آئی ایم ایف کی جانب سے غیر حقیقی اور ناقابل حصول ٹیکس اہداف کو قبول کرنے کے باعث دباو کا شکار تھے۔ عمران خان کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ ایسے میں ان کا حوصلہ بڑھاتے اور انہیں کا ہر طرح سے تحفظ یقینی بناتے۔ وزیر اعظم قابل افراد کی قدر نہیں کرتے۔ انہیں یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ یہاں اچھے افراد کی کمی نہیں اور اب وہ مقام آچکا ہے جب کوئی قابل اور لائق فرد حکومت کے لیے کام کرنے کو راضی نہیں ہے۔ آپ اسد عمر کی مثال لیجیے، جن کی قابلیت کے تاثر کو وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد شدید دھچکا لگا۔ انہیں عوامی سطح پرشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں یونہی بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ کیا اس کے بعد کوئی بھی نجی شعبے سے وابستہ ماہر حکومت کی مدد کرنے اور اس کے نتیجے میں اپنی عمر بھر کی کمائی عزت کو داو پر لگانے کے لیے تیار ہوگا؟ بیوروکریسی بھی احتساب اور معزولیت کے ڈر سے کچھ بھی کرنے سے کتراتی رہتی ہے۔ سیاسی مداخلت اور نا اہل حکام کے باعث بیوروکریسی ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ نیب کے قانون کی ترمیم اگرچہ درست سمت میں ایک اقدام ہے البتہ اس میں بہت تاخیر سے کام لیا گیا ہے۔ اعلیٰ سطح پر بھی حکومتی ناکامیاںعیاں ہیں۔ خیبر پختونخواہ جہاں اب تحریک انصاف کی حکومت کو چھ سال ہو گئے ہیں،میںدو وزراء کو ان کا موقف سنے بغیر ہی فارغ کر دیا گیا۔ یہ ان دونوں وزراء کی وزیر اعلیٰ سے بظاہر خوشگوار ملاقات کے بعد ہوا جس کے بعد انہیں سبکدوش کرنے کا اشارہ دے دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ انہیں بحال کرنے سے متعلق بھی کوئی احکام صادر نہیں کیے گئے جس کے باعث صورتحال مزید الجھ گئی۔ اب بھلا کوئی بھی ادارہ اس وقت تک کیسے مؤثر انداز میں چلایا جاسکتا ہے جب اس کے حقیقی سربراہ بے اختیار اور عملی سربراہ الجھاو کا شکار ہوں؟ اس سب کے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ وزیر اعظم بالکل ہی کسی شعبے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔انہوں نے خارجہ امور کوبہت اچھے انداز سے سنبھالا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ نہایت بہترین انداز میں اجاگر کر کے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا۔ امریکہ سمیت دیگر ممالک کے سربراہان انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حال ہی میں ان کا مہاتیر محمد کی جانب سے شاندارخیر مقدم کیا گیا حالانکہ ابھی چند ہفتے قبل ہی عمران خان نے ان کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں شرکت سے معذرت کی تھی۔ اس سے قبل عمران خان ملک کی دگر گوں معاشی حالات میںپیسے اکھٹے کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ عمران خان بطور وزیر اعظم تو پاکستان کے لیے قدر و عزت لے کر آتے ہیں البتہ بطور منتظم وہ صرف نا اہلی سے ہی پہچانے جانے لگے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام ہی رہنماوں میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہی ہیں البتہ اچھا حاکم وہی ہوتا ہے جو انہیں کھلے دل سے قبول کرے۔ اس معاملے میں سابق امریکی صدر رانلڈ ریگن کی مثال لی جا سکتی ہے ۔ وہ ایک وجیہ مرد تھے جو لکھا گیا نسخہ نہایت مؤثر انداز میں کہہ دینے پر قدرت رکھتے تھے۔ انہوں نے ملک چلانے کا ذمہ ماہرین کو دے رکھا تھا اورآج ان کا شمار کامیاب صدور میں ہوتا ہے۔ ان دنوں ہم عوامی اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں اس ناقص طرز حکمرانی کے بارے تشویش کا سنتے ہیں اور اس صورتحال سے جان خلاصی کے لیے کئی طرح کے حل بھی سوچے جا رہے ہیں۔ مگر ایسا کوئی بھی حل ان چاہے اور غیر متوقع نتائج لے کر آئے گا۔ ایسا کرنا ہمارے جمہوری عمل میں رخنہ اندازی کے برابر ہوگا ۔ اور ممکن ہے کہ ایسا کرنے سے وہ قوتیں ایک مرتبہ پھر سامنے آجائیں جن کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مذمت اور بیخ کنی کرتی آئی ہے۔ ہمیں کسی ایسے فارمولے کی ضرورت ہے جس میں عمران خان پاکستان کے چہرے کے طور پر سامنے رہیں البتہ حکومتی نظام کوئی ایسا قابل اور ماہر فرد چلائے جسے منتخب نمایندوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر آتا ہو۔ (بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)