وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا

کیا آپ پشاور میں رہتے ہیں ؟ کسی نے ٹیلیفون کرکے پوچھا، جی رہتا تو میں پشاور ہی میں ہوں ، لیکن جہاں رہتا ہوں وہ پشاور نہیں کہلاتا، ان کا سوال عجیب نہیں تھا ، لیکن میرا جواب قدرے عجیب تھا ، اور غریب الوطنی کی حد تک غریب اور مسکین بھی ، لیکن میں اتنا بھی غریب الوطن نہیں ہوں ، جتنا کہ ڈاکٹر سید امجد حسین یا ان جیسے بہت سے پشاور ی ہیں جو دیار غیر میں رہ کر بھی پشاور شہر کو ‘ یک شہر آرزو’ کہہ کر پکارتے ہیں اور اگر پشاور کا تذکرہ چھیڑتے ہیں توڈاکٹر خالد حمید کے ہم آواز ہو کر کہہ اٹھتے ہیں کہ

کچھ آگرہ، نہ دلی پشاور کے سامنے
عالم میں انتخاب ہے یک شہر آرزو
ہم جب پشاور سے دور بہت دور جاکر پشاور کی یادوں کودل سے نہ بھلا سکنے والے دانشوروں، سوچکاروں ، یا لکھاریوں کا کوئی دل پارہ سنتے یا پڑھتے ہیں تو ہمیں یوں لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو ، بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی ، وہ بارش کا پانی
دماغ کی بجائے دل سے سوچنے والوں کے ان شعروں ، مصرعوں اور جملوں کا ایک ایک حرف کہتا نظر آتا ہے کہ
میرے بچپن کے دن ،کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے
سولہ دروازوں والی فصیل شہر کے اندر آباد اک جنت نما شہر پشاور کے باسیوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ وہ پشاور جسے وہ میرا پشاور کہہ کریاد کیا کرتے ہیں ، فصیل شہر کو عبور کرکے حد نظر تک پھیلے کنکریٹ جنگل کا روپ دھار چکا ہے ، جس کو دیکھ کر ہمیں پطرس بخاری کی روح سے معذرت کرتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ پشاور کے شمال میں بھی پشاور ہے اور پشاور کے جنوب ، مشرق اور مغرب میں بھی پشاور ہی آباد ہے ، اب اہالیان پشاور ، پشاور کی گلی گلی اور ہر گھر کی ڈیوڑھی اور مساجد سے منسلک کنوؤں کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی نہیں پیتے کہ وہاںروائتی کنویں ہی نہیں رہے ، اب نہ گھڑا گھڑولی کا شادیانے بجاتے من چلے ان کنوؤں سے پانی اکٹھا کرکے دلہا کو غسل کرواکر اس کے سر سہرا نہیں باندھتے اور نہ ہی دلہا کے گھوڑے کے ہم قدم کسی محنت کش کے سرپر رکھی بیٹری سے روشن ہونے والے قمقوں کا تاج دلہا کے سر بندھا ہوتا ہے ، نہ دلہا کی بارات کے ساتھ چلنے والے مزدوراپنے سروں پر کیروسین آئل کے پریشر سے روشن کئے جانے والے چراغ اٹھائے ہوتے ہیں جنہیں عرف عام میں ‘گیس’ کہہ کر پکارا جاتا تھا، اور نہ ہی گھوڑے کی باگو ں کو پکڑ کر بارات کا راستہ روکنے والے زور آور نذارانہ یا بھتہ وصول کرنے والے موجود ہیں ، نہ بچے کا ختنہ کروانے سے پہلے ان کو بھنگ پلوانے والے باقی رہ گئے ہیں اور نہ اسکی بچی ہوئی بھنگ ڈیک جانے والے موجود رہے ، اب نہ ٹپے ہیں ، نہ دوہڑے، نہ سٹھنیاں ، اور نہ مستے اور نہ اس لوک موسیقی کو زندہ رکھنے والیاں باقی بچی ہیں، نہ بچے کی پیدائش پر’ جمدا جیوے’ کا آوازہ لگاکر ڈھول باجے والے باقی رہے ،نہ بچے کی رسم آمین پر اسکے سر سہرا سجا کر اسے گھوڑی چڑھایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے سر پر کوڑیوں اورکھنکھناتے سکوں کی بارش کی جاتی ہے ، نہ چار بیتے کی محفلیں سجتی ہیں ، نہ رلے کے باغ ، سخی چشمہ،وزیر باغ اور شاہی باغ میں حرفی گو شعراء کا تانتا بندھتا ہے ،نہ ان کے درمیان معرکہ کے مشاعرے برپا ہوتے ہیں ،نہ شیر چائے اور باقر خوانیوں سے ان کی تواضع کی جاتی ہے اورنہ کمانی دار چاقو کی ردیف کے طرحی مصرعہ پر سچ مچ کمانی دار چاقو نکل آتے ہیں ، نہ کوئی خلتہ باقی بچا ہے نہ بٹیراور نہ بٹیر لڑانے والے ، نہ پہلوان ہیں نہ سوندھی مٹی کے اکھاڑے ، نہ وہ بازار ہیں نہ گلیاں ، اور نہ وہ رنگ رلیاں، راقم سطور جس پشاور کا ذکر کر رہا ہے ، وہ اس کے بچپن کے زمانے کا پشاور ہے ، لیکن جس پشاور سے فتح و کامرانی کے جھنڈے لہراتا سکندر اعظم گزرا تھا، جس پشاور میں گندھارا کی تہذیب اورثقافت پنپ رہی تھی یا جس پشاور کا تذکرہ فان یانگ نے اپنے سفر نامہ میں کیا تھا یا جہاں ہن قبائل نے حملہ کرکے بودھ بھکشووں کو افغانستان کے جنوب کی طرف دھکیلا تھا، وہ پشاور سولہ دروازوں والی فصیل شہر کے اندر مقید نہیں تھا ، اورر نہ ہی فصیل شہر کو پھلانگ کر چہار اطراف پھیل جانے والا پشاور تھا ، اس پشاور کو وادی پشاورر کہتے تھے جس کے قصبوں میں چارسدہ بھی تھا، نوشہرہ بھی ، اٹک بھی اور مردان بھی ، صدیاں گزریں وادی پشاور کے پہاڑوں سے اتر کر آنے والا پانی دریائے کابل کے ساتھ مل کر دریائے سندھ کا روپ دھارتا رہتاہے اور پانچ دریاؤں کے نگر سے گزر کر صوبہ سندھ کی آبیاری کرتا رہتا ہے ۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی گی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
کے مصداق پانی میں مل کر پانی ہوجاتا ہے ، لیکن اپنے لافانی ماضی کے نقش و نگار باقی چھوڑ کر اپنی ڈھائی ہزار برس قبل مسیح کی تاریخ کے اور اق پر ‘پشابور، پر پار سینا، پشکی پوراس، پشکا پور، شاپور، پولو شا پولو، دردستان، درسا، بگرام ، بہاگرام ، پیش آور، اور پیشہ ورجیسے نام رہتی دنیا تک باقی چھوڑ جاتا ہے ۔ظہیرالدین بابر نے پشاور کو پھولوں کا شہر بھی کہا تھا، اور پھولوں کو جس نام سے پکاریں وہ پھول ہی تورہتے ہیں
میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں
وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا