بیروزگاری اور جنازوں کا موسم

یہ پچھلی صدی کی ساتویں دہائی کا نواں سال (1979ئ) تھا’ مارشل لاء حکومت نے دیگر بہت سارے جرائد کیساتھ ہفت روزہ جدوجہد کراچی کی اشاعت بھی 3ماہ کیلئے معطل کر دی۔ نصیر میمن قدرے بہتر طبقے کے فرد تھے اور بھائیوں کے کاروبار میں بھی حصہ دار تھے (نصیر صاحب پرچے کے مالک تھے) دفتر میں ان کے علاوہ ہم کل چار افراد تھے’ دو کاتب(تب کتابت ہوتی تھی کمپوزنگ بعد میں آئی) ایک رفیق سومرو اور دوسرا میں۔ کاتب صاحبان چونکہ دوسرے اخبارات میں بھی کام کرتے تھے اس لئے تین ماہ کی بندش سے وہ کچھ زیادہ متاثر نہ ہوئے لیکن رفیق اور میرے لئے مسائل ہی مسائل تھے۔ ہمارا ذریعہ آمدنی کلی طور پر یہی ملازمت تھی۔ ہم دونوں ملازمت کے علاوہ پڑھتے بھی تھے’ اب پریشانی یہ ہوئی کیا کیا جائے؟ دیگر اخبارات وجرائد سے منسلک دوستوں سے مدد چاہی مگر مارشل لاء کی دو دھاری تلوار اور اوپر سے ہم زیرعتاب بھی۔ جناب عبدالحمید چھاپرا نے یقینا کچھ مدد بھی کی اور ڈھارس بھی بڑھائی لیکن مدد اور ڈھارس سے زیادہ روزگار کی تلاش تھی۔ اخبارات وجرائد کے دفاتر کی سیڑھیاں پرعزم انداز میں چڑھ کر مالکان وایڈیٹرز صاحبان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور کچھ دیر بعد منہ لٹکائے نیچے اُترتے۔ کچھ دن اسی بھاگ دوڑ میں گزرے، پھر ایک دن رفاقت خان یہ نوجوان سٹی کالج ناظم آباد میں سال سوئم کا طالب علم تھا، ہم تینوں مل کر ایک چھوٹے سے کوارٹر میں رہتے تھے اورنگی ٹائون کے اس کوارٹر میں ایک شب فیصلہ ہوا کہ رفاقت اپنی فیکٹری میں انچارج سے ہمارے لئے بات کرے گا اور اگر رضا مندی ہوئی تو اگلے روز ہم اس کیساتھ جائیں گے۔ رفاقت فیکٹری سے سیدھا کالج جاتا اور پھر واپس لوٹتا تھا۔ اس دن وہ واپس آیا تو اس نے بتایا کہ صبح دونوں میرے ساتھ چلو۔ہم دونوں نے اس فیکٹری میں 25یا 26 دن کام کیا۔ 26ویں یا 27 ویں دن مشین پر مزدوری کر رہے تھے کہ چوکیدار نے آکر بتایا کہ کوئی صاحب تم دونوں سے ملنے آئے ہیں۔ انچارج سے اجازت لے کر گیٹ پر پہنچے تو وہاں نصیر میمن، چھاپرا صاحب اور تنویر جمال موجود تھے۔ تینوں ہمیں گلے لگا کر محبت سے ملے اور فیکٹری منیجر کے پاس لے گئے، جہاں انہوں نے اپنے ایک ماتحت کو حساب بنانے کیلئے کہا اور تھوڑی ہی دیر میں ہمیں محنت کے دنوں کی اُجرت مل گئی۔فیکٹری سے باہر سڑک کے دوسری طرف ہوٹل میں آبیٹھے، جہاں چھاپرا صاحب اور تنویر جمال نے نصیرمیمن کی خوب کلاس لی۔ میمن کا موقف تھا کہ میں نے بالکل نہیں کہا کہ پابندی کے دنوں کی (تین ماہ) تنخواہ نہیں دوں گا۔ فیکٹری میں ان دونوں نے اپنی مرضی سے ملازمت کی، میں تو کل ان کے کوارٹر پر تنخواہ دینے گیا تو پتہ چلا کہ یہ دونوں یہاں ملازمت کرتے ہیں۔ مجھے افسوس کیساتھ غصہ بھی آیا اسی لئے تو تنویر اور آپ کو زحمت دی ساتھ آنے کی۔ اب دونوں بزرگ ہم پر برس پڑے، چھاپرا صاحب بولے میں نے تم دونوں سے کہا تھا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے کہا سر ہم گھبرائے بالکل نہیں چند جگہ کوشش کی لیکن بات نہیں بن پائی۔ سب کو پتہ تھا کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے۔ کسی پر بوجھ بننے سے بہتر یہی لگا کہ یہاں ملازمت کرلی جائے۔ ڈانٹ ڈپٹ کے بعد انہوں نے نصیر میمن کی طرف دیکھا تو اس نے ہم دونوں کو اس ماہ کی تنخواہیں دیں۔
41برس بعد یہ کہانی خود ستائی کیلئے نہیں آج کے ان حالات کی وجہ سے سنانے، لکھنے پر مجبور ہوا ہوں۔ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران مختلف شہروں میں 5قلم مزدور تنخواہیں نہ ملنے اور بیروزگاری کی وجہ سے وفات پاچکے، ابھی دو دن قبل رئوف کلاسراء نے دس پندرہ دن قبل وفات پانے والے ایک سینئر صحافی فصیح کے حوالے سے کالم لکھا۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پچھلے ڈیڑھ سال سے بحران کا شکار ہے۔ بحران کی زد میں آئے اداروں کے کچھ دوستوں کی داد رسی ہوئی اور کچھ اپنے ہی اداروں کی اندرونی وارداتوں کا شکار ہوگئے۔ میڈیا ورکرز کی بڑی اکثریت مسائل کا شکار ہے۔ خود ہم نے پچھلے چند برس لاہور کے جس ادارے میں ملازمت کی وہاں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود معاملات حل نہیں ہوئے، اس میں ایک پہلو اور بھی ہے وہ یہ کہ تھڑوں، چوپالوں اور پریس کلبوں میں بیٹھ کر ورکردوستی کا چولہا جلانے والے دیہاڑی بازوں نے ساتھیوں کی گردنوں پر پائوں رکھ کر اپنی قیمت وصول کرلی اور سادھو کے سادھو رہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کے دس سے 20 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ قلم مزدوری میں بیتایا وہ اب کیا کریں گے؟ اگلے روز ملتان کے ایک اخبار کی میگزین ایڈیٹر کو اے پی این ایس کا ایوارڈ ملا’ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوارڈ لینے والی یہ خاتون صحافی پچھلے ہفتے اپنے ادارے کی جانب سے فراغت نامہ وصول کرچکیں۔ پی ایف یو جے کا حال یہ ہے کہ ”اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے کوئی کہاں گرا کوئی کہاں”۔ سوشل میڈیا پر جاکر دیکھیں منہ اُٹھائے ہر شخص ساتھیوں کو چور’ لفافہ خور اور نجانے کیا کیا کہہ لکھ رہا ہے’ ان سارے دیانتداروں نے کبھی کسی قلم مزدور کے کچن میں جھانک کر نہیں دیکھا۔ اب برنا صاحب’ چھاپرا صاحب یا نثار عثمانی مرحوم جیسے قائدین بھی نہیں رہے جنہیں نوجوان ساتھی اولاد سے زیادہ عزیز ہوں اور جو مشکل حالات میں نتائج سے بے پرواہ ہو کر نعرہ مستانہ بلند کریں۔ لیکن کیا بیروزگار ہوئے یا تنخواہوں سے محروم قلم مزدورایک ایک کرکے مرتے رہیں گے اور جنازے پڑھے جاتے رہیں گے؟ مجھے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا۔