خوف وہراس کی بلاوجہ فضا

پاکستان میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد اس حوالے سے ملک میں خوف کی جو فضا قائم ہوگئی ہے وہ سوائے غلط فہمیوں، ناقص معلومات اور کم فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس ضمن میں اگر حکومتی طرزعمل کا جائزہ لیا جائے تو اس میں نقائص اپنی جگہ لیکن کورونا وائرس کے حوالے سے جو انتظامات کئے گئے ہیں اگر ان کو حسب عادت حکومتی اعلانات سمجھنے کی بجائے اگر حقائق معلوم کئے جائیں تو اس کیلئے پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کی رپورٹ کافی ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں کورونا وائرس سے بہتر انداز میں نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو دیگر ممالک کے پاس اس وائرس کی تشخیص کے وقت موجود نہیں تھیں۔پاکستان میں کورونا کے دو مریضوں کی جلد نشاندہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر وائرس کی تشخیص کا بہتر نظام کام کر رہا ہے لہٰذا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان کی حکومت نے اس وائرس سے بچنے کیلئے اقدامات پہلے سے ہی کر رکھے تھے اور وہ اس سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، پاکستان کی جانب سے جس طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں وہ اس سے پہلے کسی دوسرے ملک کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص آغاز میں ہی ہو گئی ہے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بتایا کہ چند روز قبل ہی انہوں نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں قائم کیے گئے آئسولیشن وارڈ کا دورہ کیا تھا جہاں تمام انتظامات تسلی بخش تھے۔سفری پابندیوںکے حوالے سے ڈاٹر پالیتھا ماہیپالہ کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او سفری پابندیوں کے حق میں نہیں ہے۔ ان کے ادارے نے سکریننگ مشینیں، ماسکس اور دیگر ضروری اشیا پہلے ہی حکومت کو فراہم کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ادارے کے نمائندے وفاقی کمیٹیوں میں بھی شامل ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔وطن عزیزمیں روایت بد یہ رہی ہے کہ یہاں جیسے ہی کسی امر کا امکان ہی ظاہر ہو تو ایک تو افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور دوم یہ کہ خود ساختہ ماہرین اپنی رائے دے کر مسئلے کو سمجھنے کیلئے پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ لا علمی وشعور کی کمی ایسی چیز ہے جو ڈراورخوف کا ایسا ماحول پیدا کرتا ہے کہ ہوتا کچھ بھی نہیں لیکن وسوسے اور گمان انسانی اعصاب پر ایسا چھا جاتا ہے کہ قدم قدم پر سوتے جاگتے، خطرے میں گھرے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ کورونا وائرس اتنا خطرناک اور جان لیوا نہیں جتنا ہماری لاشعوری وکم علمی اورپروپیگنڈہ بازی نے اسے بنادیا ہے۔ بد قسمتی سے ملک میں عاقبت نااندیش اور خوف خدا سے عاری عناصر اس طرح کی صورتحال کو ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا موقع گردان کر وہ ضروری سازوسامان اور خوراک وادویات وغیرہ کی قلت پیدا کرتے ہیں بہرحال کرونا وائرس کی روک تھام اور اس سے بچائو کیلئے ماسک کسی طور مئوثر نہیں البتہ چونکہ یہ ایک نفسیاتی طور پر خود احتیاطی ہے اسلئے اسے ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔ منہ ڈھاپننے سے زیادہ ہاتھ دھونے اور ناک ومنہ اور آنکھوں کو بار بار نہ چھونے سے احتیاط کے تقاضے پورے ہوتے ہیں جس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں کراچی میں آغاخان ہسپتال کے ڈاکٹروں نے وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جو رہنمائی کی ہے اور جن امور کی ہدایت کی ہے اس پر صاد کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو جہاں ماسک ذخیرہ کرنے اور مہنگا فروخت کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے وہاں عوام کو بھی بلاوجہ سرگردان ہونے کی ضرورت نہیں۔بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ ارض وسماء میں ہر چیز ان کی مشیت واحکام کی پابند ہے اس طرح کے مواقع پر قرآن وسنت میں واضح احکامات اور طریقہ کار موجود ہے لہٰذا صرف مستنداحادیث اور قرآن وسنت سے رجوع کیا جائے اور ان سے مدد لی جائے، علاوہ مستند معالجین ہی کے مشوروں پر عمل کیا جائے اور ان کی ہدایات پر اعتماد کیا جائے۔سابقہ تجربات کی بناء پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے شکوک وشبہات اپنی جگہ لیکن ڈبلیو ایچ او کی تصدیق کے بعد مزیدبد گمانی کا شکار ہونے کی کوئی وجہ نہیں حکومتی اقدامات تسلی بخش ہیں اور ڈبلیو ایچ اوکی جانب سے ان کا اعتراف قابل اطمینان امر ہے۔