دہلی فساد فلم کا ٹریلر

بھارت کا دارالحکومت دہلی ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ کشیدگی کے جو بادل دہلی میں کچھ عرصہ سے عوام کے سروں پر منڈلا رہے تھے خونیں برسات بن کر پوری طرح برس گئے۔ شہریت کے متنازعہ اور متعصبانہ قوانین کیخلاف سراپا احتجاج مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں نے قیامت برپا کر دی۔ تین روز سے جاری حملوں میں سینتیس افراد ہلاک اور سینکٹروں زخمی ہو گئے۔ مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں محفوظ علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔ امیت شاہ کی ماتحت دہلی پولیس فسادیوں کو روکنے میں قطعی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ مسلمان علاقوں میں متاثرین نے بتایا کہ وہ پولیس سے حملہ آوروں کو روکنے کی درخواست کرتے رہے مگر پولیس اہلکاروں کا جواب تھا کہ انہیں کسی کارروائی کے احکامات نہیں ملے۔ اس طرح پولیس بلوائیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیکر تشدد کی بالواسطہ سرپرستی کرتی رہی۔ ایک مقام پر متاثرہ مسلمان دکاندار نے براہ راست دہلی پولیس پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا۔ دہلی پولیس کے اس کردار پر اعتراض کرنے والے عدلیہ کے ججوں کو انتقامی طور پر تبدیل کر کے دوردراز کے علاقوں میں بھیج دیا گیا۔
حالیہ لہر میں اندرا گاندھی کے قتل کیخلاف پھوٹ پڑنے والے تشدد کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی جب سکھ محافظوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہندوؤں نے دہلی میں سکھوں پر قیامت برپا کر دی تھی۔ بعد میں تشدد کا یہ انداز گجرات میں دیکھا گیا جہاں نریندر مودی وزیراعلیٰ تھے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی سرپرستی میں ہندوتوا کی جو سوچ پروان چڑھ کر ریاستی اداروں کی فیصلہ سازی پر حاوی ہورہی تھی آخرکار اب پوری طرح اپنے پر پرزے نکال چکی ہے۔ کشمیر تو مدتوں انتہاپسندی کی اس سوچ کی چکی میں پس ہی رہا ہے مگر اب یہ سلسلہ بھارتی مسلمانوں تک پہنچ گیا ہے جو اس سوچ کا اصل ہدف اور منزل تھا۔ یہ سوچ نئی بھی نہیں بلکہ اس انتہاپسندانہ سوچ سے گھبرا کر اور آنے والے حالات کو بھانپ کر بانیان پاکستان نے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ ان میں سب بہت لبرل اور اعتدال پسند تھے اور و ہ برسوں تک ہندو قیادت اورسماج کیساتھ اپنا وقت گزار چکے تھے۔ ان میں سے بہت سے مسلمان راہنما مغربی تعلیمی اداروں کے سندیافتہ تھے۔ ہندو سماج کیساتھ ان کے تعلقات اور رسم وراہ بہت گہری تھی مگر یہ ہندو ذہنیت کے مزاج آشنا تھے۔ ہندوسماج اور قیادت کیساتھ قربت نے ہی انہیں یہ بتا دیا تھا کہ ہندوسماج میں مسلمانوں کے برابری کا کوئی تصور نہیں اس فکر وسوچ میں یا تو مسلمانوں کو ہندو بن کر رہنا ہوگا یا پھر انہیں دوسرے درجے کا شہری بننا پڑے گا۔ مسلمان قیادت نے ہر ممکن طریقے سے ہندوستان کو متحد رکھ کر مسئلے کا باعزت اور برابری پر مبنی حل تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ہندو ذہنیت نے مسلمان قیادت کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا اور یہی مایوسی پہلے علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد کی صورت چھلک پڑی جس میں انہوں نے مسلمانوں کے الگ ریاستوں کا تصور پیش کیا۔ بعدازاں منٹو پارک لاہور میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں منظور ہونے والی قرارداد میں بات کچھ اور کھل کر سامنے آئی اور آخر ی قدم کے طور پر مسلم لیگ نے اس قرارداد کو اپنا دوٹوک موقف بنا کر الگ وطن سے کم کسی بات پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ متعصب اور مسلمان دشمن ہندو ذہنیت آج زیادہ توانا اور جدید وسائل سے لیس ہو چکی اس سوچ کو پنپنے اور وسعت پذیز ہونے کو بھارت کی ریاست اور اس کے وسائل حاصل ہو چکے ہیں۔ افراد کا ایک گروہ جنونیت پر آمادہ ہوجائے تو اسے کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے۔ قوانین کے ذریعے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ایسی کسی بھی سوچ کا تدارک کیا جا سکتا مگر جب ایک ریاست اور مملکت جنونیت کی راہ پر چل پڑے تو وہ ایک بڑی آبادی اور وسیع علاقے کیلئے تباہی کا باعث بنتی ہے۔ آج بھارت بطور ریاست جنونیت اور انتہا پسندی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ انتہا پسندی کی مخالف قوتیں روزبروز کمزور اور تنہا ہوتی جارہی ہیں، اس کے برعکس انتہا پسند حکومت کو فوج کا ساتھ حاصل ہو چکا ہے۔ عدلیہ بھی اس سوچ کے آگے سرنگوں اور دبی ہوئی ہے۔ اس طرح مظلوموں اور کمزوروں کیلئے اُمید کی کوئی کھڑکی کھلی نہیں رہی۔ دہلی میں جو کچھ ہورہا ہے بھارت کی جنونیت کا اظہار ہے۔ اس جنونیت کو اگر کشمیر میں ہی کنٹرول کیا جاتا تو آج یہ پورے بھارت میں یوں برہنہ ہو کر انسانوں پرعرصۂ حیات تنگ نہ کر رہی ہوتی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرنے کی بات کی ہے مگر پانی اب سر سے اونچا ہوچکا ہے۔ اب مشوروں اور تبصروں سے آگے بڑھ کر بھارت کو جنونیت کی راہ پر چلنے سے روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں بھارت کے متعصبانہ قوانین پر اس کیخلاف وہی رویہ اپنائیں جو انہوں نے گزشتہ عرصہ میں دہشتگردی کے معاملے میں اپنایا تھا۔ دہشتگردی تو کچھ گروہوں اور افراد کا عمل تھا یہاں تو ریاست دہشتگردی اور مذہبی اور نسلی تفاخر کی پُرخطر راہوں پر چل پڑی ہے۔ دہلی کے فسادات اس فلم کا محض ٹریلر ہیں، اصل فلم ابھی ریلیز ہونا باقی ہے کیونکہ جو نفرت ذہنوں میں بھر دی گئی وہ آتش فشاں کی طرح وقفے وقفے سے لاوہ اُگلتی رہے گی۔