ٹریفک مسائل،رکشوں کی بھرمار اور علاج

انتظامیہ اور رکشہ والوں کے درمیان ایک بار پھرپھڈا پڑگیا ہے،ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے، اب کی بار صوبائی حکومت نے ایک لاکھ 60 ہزار رکشوں میں سے 36 ہزار رکشوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس ضمن میں رکشا یونین کی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں، صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رکشے جی ٹی روڑ پر نہیں آئیں گے اور نہ ہی رکشوں کے پرمٹوں کی تجدید کی جائے گی، رکشے والوں کا موقف ہے کہ ایک طرف وزیراعظم لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری طرف غریب عوام اور رکشہ ڈرائیور سے روزگار چھینا جارہا ہے اگر اس صورتحال پر نظرثانی نہیں کی گئی تو احتجاج کیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں صوبائی دارالحکومت پشاور کو خوبصورت بنانے کیلئے متعلقہ محکموں کی جانب سے اپنی اپنی سفارشات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو ارسال کی جارہی ہیں۔ ان میں پشاور میں چلنے والے رکشوں کے بارے میں دی جانے والی رپورٹ کے مطابق پشاور میں چلنے والے ایک لاکھ60 ہزار رکشوں میں 24ہزار قانونی (رجسٹرڈ) ہیں جبکہ باقی غیررجسٹرڈ ہیں، ان کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا مسئلہ گمبھیر ہورہا ہے،شہر میںٹریفک رش کے پیش نظر ایک لاکھ 36 ہزار رکشوں کا غیررجسٹرڈ رکشوں کو بند کرنے کی سفارشات کی گئی ہیں الٰہی بخش معروف نے کہا تھا
کہاں تک راز دل افشاء نہ کرتا
مثل ہے یہ کہ مرتا کیا نہ کرتا
پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ آج سے نہیں کئی دہائیوں سے گمبھیر چلا آرہا ہے، خصوصاً جب سرکاری ادارے مرحومہ جی ٹی ایس پر بعض حریص سیاستدانوں کی نظر پڑی اور اس ادارے کو ختم کرنے کا ڈول ڈالا گیا۔ اس ادارے کی بسوں کو اونے پونے فروخت کر کے شہر کو اسی ادارے کے تحت چلانے والی اومنی بس سروس سے”چھٹکارا”دلایا گیا تو نجی ٹرانسپورٹ مالکان نے عوام کے استحصال کی ایسی بنیادیں مزید استوار کیں جن کو روکنے والا کوئی نہیں تھا، یوں عوام پرائیویٹ بس مالکان کے نشانے پر آگئے، حالانکہ اس سے پہلے اگر یہی محدود تعداد میں نجی بسوں کو ہڑتال کی سوجھتی تھی تو جی ٹی ایس کی بسوں کی وجہ سے ایسی صورتحال کنٹرول میں رہا کرتی تھی، ان دنوں رکشوں کی اتنی بڑی تعداد بھی نہیں ہوتی تھی البتہ فورڈ ویگن ضرور چلتی تھیں بہرحال وقت گزرنے کیساتھ ساتھ جہاں شہر کی آبادی بڑھنے لگی اور شہر کے گرد ونواح میں بستیاں بسائی جانے لگیں تو رکشوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی لیکن جیسا کہ ہمارے ہاں وتیرہ ہے اس حوالے سے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف دیگر اضلاع سے بھی رکشوں کی بہت بڑی تعداد نے پشاور کا رخ کیا بلکہ خود یہاں پر غیررجسٹرڈ رکشوں کی بھی بہتات ہوگئی، جن سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس دوران میں ایک جانب ملک بھر میں کارفنانسنگ کے کاروبار کی وجہ سے موٹر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور بنکوں نے قرضوں پر گاڑیوں کا سودی کاروبار شروع کیا تو اس کیساتھ ہی لاتعداد موٹر سائیکلوں کی کمپنیوں نے بھی قسطوں پر موٹرسائیکل فروخت کرنا شروع کردیں، جبکہ سرکاری سطح پر مختلف ادوار میں کبھی یلوکیب اور کبھی گرین رنگ کی ٹیکسیوں کے منصوبوں کے ذریعے روزگار سکیموں کا آغاز کیا گیا، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ٹرانسپورٹ کے ان مختلف ذرائع سے سڑکوں پر اُمڈنے والی ٹریفک سے شہروں کی ڈیموگرافی پر کس قسم کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، بس ایک بھیڑچال کی طرح گاڑیاں، ٹیکسیاں، رکشے اور موٹر سائیکلیں شاہراہوں اور شہروں کے اندر سڑکوں پر لاپھینکی گئیں۔اب مگر کسی کو ان کا علاج نہیں سوجھ رہا یعنی صورتحال جون ایلیاء کے الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ
ہورہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
صورتحال اس نہج پر کیوں کر پہنچی ہے جس نے حکومت اور رکشہ والوں کے مابین تنازعات کھڑے کر دیئے ہیں اس پر غور کیا جائے توواضح صورت یہ دکھائی دیتی ہے کہ اگرچہ رکشوں کی بہتات کے مسئلے پر چند برس پہلے سابقہ ضلع ناظم حاجی غلام علی کے دور میں بھی مسئلہ پیدا ہوا تھا اور پھر اے این پی کے دور میں بھی یہ ہنگامہ بر پا ہوا تھا اور ایک بار رکشوں کو صبح اور شام کی شفٹ میں تبدیل کرنے کیلئے ان کی پشت پر سفید اور زرد رنگ پینٹ کر کے انہیں محدود تعداد میں سڑکوں پر لانے کی تدبیر کی گئی تھی مگر چند روز بعد اس حکومتی تدبیر کے بھی پرخچے اُڑا دیئے گئے تھے،تاہم جب سے بی آرٹی کی تعمیر شروع ہوئی ہے اور ابتدائی ڈیڑھ سال کے دوران ٹریفک کے انتہائی شدید مسائل سے شہریوں کو سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم بعد میں کھٹارہ بسوں، ویگنوں کو یا تو مکمل طور پر سڑک سے ہٹانے کا پلان بنایا گیایا پھر اچھی حالت والی بسوں کو رنگ روڈ اور سرکلر روڈ پر منتقل کر کے جی ٹی روڈ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کی سوچ اپنائی گئی، اسی کے تحت اب غیرقانونی رکشوں کو بھی جی ٹی روڈ پر سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم یہ اتنا آسان مسئلہ بھی نہیں ہے،اس لئے کہ بی آرٹی نے عملاً شہر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور مثلاً گل بہار،ہشتنگری وغیرہ کے اطراف کے لوگ فقیر آباد، دلہ زاک روڈ وغیرہ جانے کیلئے یقیناً رکشوں کا استعمال ہی کریں گے مگر حکومتی حکمت عملی سے انہیں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے، یعنی ایک رکشے سے وہ بی آرٹی کے ایک سمت اگر اُترنے اور پیدل سڑک عبور کر کے دوسری جانب پھر رکشہ لینے پر مجبور ہوں گے جو خاص طور پر بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں کیلئے بہت بڑا مسئلہ ہوگا،اس لئے ان مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی بنائی جائے، البتہ غیرقانونی(غیر رجسٹرڈ) رکشوں کو ختم کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی تائید نہیں کی جا سکتی۔