کابل میں امریکہ کا قائم مقام!

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور بہترین سفارتکاری کے بعد آثار بتا رہے ہیں کہ نائن الیون کے بعد پیدا ہونیوالے دباؤ اور مشکلات سے اب پاکستان باہر نکل آیا ہے۔ پاکستان کی سول وعسکری قیادت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ افغان جنگ میں امریکہ کے نان نیٹو اتحادی بننے کی پاکستان نے کیا قیمت چکائی ہے۔ اس وقت تک اگرچہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ طالبان مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا، تاہم انخلاء کیلئے ایک مکمل روڈ میپ بن چکا ہے۔ دوسرا مرحلہ انٹرا افغان ڈائیلاگ سے شروع ہوگا۔ حقیقت میں یہ مرحلہ انتہائی حساس ہوگا، اسی مرحلے میں فیصلہ ہوگا کہ کابل میں طالبان کا سیاسی کردار کیا ہوگا اور دیگر افغان سیاسی جماعتوں کیساتھ ان کے تعلقات کیسے ہوں گے۔ پاکستان نے افغان بحران سے نکلنے کیلئے راستہ دینے میں مدد دی ہے، اسی کے نتیجے میں مغربی فضائی کمپنیاں پاکستان واپس آئی ہیں، امریکی حکام کی متعصبانہ پابندیوں کی گرہ کھل گئی ہے، اقوام متحدہ کی طرف سے بھی سفارتکاروں کیلئے پاکستان ایک فیملی اسٹیشن کے طور پر قبولیت کا درجہ پاچکا ہے۔ برطانوی شاہی جوڑے کا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، جس کے بعد سیاحت کیلئے پاکستان کو موسٹ فیورٹ قرار دیا جاچکا ہے۔ یورپی ممالک پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کررہے ہیں اور پاکستان کو سفر کیلئے موزوں قرار دے رہے ہیں۔ امکان ہے کہ اب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) بھی پاکستان کا نام گرے لسٹ سے باہر نکال دے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے پاکستان کے حالیہ دورے میں مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ اس تمام اہم پییش رفت سے ہماری حکومت کس قدر فائدہ اُٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ اہم ترین سوال ہمارے سامنے سر اُٹھائے کھڑا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی داخلی سیاست ہیجانی اور اضطرابی کیفیت میں گھری ہوئی ہے۔ جب کابل میں انٹرا افغان ڈائیلاگ شروع ہوگا اس وقت ہمیں داخلی طور پر مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی، لیکن یہ حکومت اس صلاحیت سے محروم ہے۔ حکومت اس وقت تنقید سننا نہیں چاہتی، جب حکمران صرف خوشامد سننے اور اپنی پسند کی خبریں پڑھنے کے عادی ہوجائیں تو وہ عوامی جذبات، ملکی مسائل اور حکومتی ناکامیوں کے ادراک سے محروم ہوجاتے ہیں، اور دراصل یہی ان کے اقتدار کے اختتام کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اگر حکمرانوں کو حکومت اور عوام کے درمیان پھیلتی خلیج کا ادراک ہوجائے تو وہ بے چینی کا علاج کرسکتے ہیں اور اس کے تدارک کیلئے اقدامات بھی، ورنہ زوال تو اقتدار کا مقدر ہے۔ بیدار مغز حکمرانوں کا عرصہ حکمرانی ہمیشہ طویل ہوتا ہے۔ بیدار مغز حکمران کی انگلی عوامی نبض پر ہو تی ہے، عوامی نبض پر انگلی رکھنے کیلئے سچ اور آزاد ذرائع اطلاعات ناگزیر ہوتے ہیں۔ خوشامد حکمرانوں کی بیدار مغزی کو گہری نیند سلا دیتی ہے۔ اپنی ذات پر حد درجہ اعتماد نے وزیراعظم کو نرگسیت کا شکار کر دیا ہے، اسی لئے حکومت میڈیا سے گھبرا کر اسے پابند کرنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے جبکہ اسے ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے پہل کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے ہمسائے میں بہت بڑی پیش رفت ہونے جارہی ہے کہ کڑی شرائط کیساتھ امریکہ کابل چھوڑ دینے کا روڈمیپ بنا چکا ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ امریکہ چھوڑی ہوئی جگہ پر افغانستان میں تیس ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی مانگ رہا ہے، اس کا مطلب ہوا کہ کابل میں بھارت امریکہ کا قائم مقام بنایا جارہا ہے۔ بھارتی فوجی کابل بھجوانے کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کی شہ پر پاکستان کی مشرقی سرحد کے بعد شمال کی جانب سے بھی بھارت آکر بیٹھ جائیگا۔ طالبان کیساتھ زلمے خلیل زاد کا معاہدہ تقریباً ہوگیا ہے، طے پایا ہے کہ طالبان آٹھ دس دن کیلئے جنگ بندی کریں گے، اس مدت کی تکمیل کے بعد معاہدے پر دستخط ہوں گے اور دس دن کے اندر بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے، افغان حکومت کی تحویل میں طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگا جبکہ بین الافغان مذاکرات کی پیش رفت کیساتھ امریکی افواج کے انخلا کے عمل کا آغاز ہوگا۔ اس وقت امریکی سی آئی اے، پینٹاگون اور امریکی انتظامیہ ایک صفحے پر ہیں، اس پورے عمل سے بھارت کو باہر رکھا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ زلمے خلیل زاد کیساتھ تعاون کیا گیا ہے۔ افغانستان میں مفاہمتی عمل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اب وہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ طالبان کا قومی حکومت میں کردار کیا ہوگا؟ شمالی اتحاد اور دیگر گروہوں کیساتھ ان کے تعلقات کیسے ہوں گے؟ یہی وجہ ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ بہت اہمیت کے حامل ہیں، لیکن پاکستان انٹرا افغان ڈائیلاگ میں حصہ دار نہیں ہوگا اور یہ مرحلہ امریکہ، افغانستان اور شمالی اتحاد کیلئے بہت بڑا امتحان ہوگا، یہ مرحلہ کامیاب نہ ہوسکا تو اس خطے میں امن نہیں ہوسکے گا۔