کرونا کا خوف

خوف کا تعلق حقیقت سے نہیں ہوتا۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے۔ حقیقت میں کوئی شئے کیسی بھی ہو اگر انسانی نفسیات اسے خوف کے زمرے میں داخل کر لے تو پھر اس کے حوالے سے عمل یا ردعمل کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔ ایک جاپانی ضرب المثل کے مطابق ”خوف بس اتنا ہی گہرا ہوتا ہے جتنی اجازت اسے دماغ دیتا ہے”۔یہ احساس تو شاید ہم سب کو ہے کہ خوف انسان کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے سامنے کھڑے ہونے سے راستے مسدود ہی نہیں ہوتے، دکھائی دینے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن برٹرینڈ رسل نے ایک بہت خوبصورت بات کہی تھی کہ خوف کو فتح کرنے میں ہی عقل اور بصیرت کا آغاز ہے۔شایدیہ سب باتیں کہنی آج کے دن اسلئے بہت ضروری محسوس ہو رہی ہیں کیونکہ میڈیا ایک خوف ہماری نفسیات میں ہمارے اذہان میں داخل کر چکا ہے اور دھیرے دھیرے اس خوف کو اب ہم اپنی جانب بڑھتا،مجسم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔مسلسل کتنے ہفتوں سے کرونا وائرس کی بات زبان زدخاص وعام ہے۔ یہ چین کے صوبے ووہان سے شروع ہوا۔ اس سے پہلے کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے کبھی ووہان کا نام بھی نہ سنا تھا۔عجیب وغریب ویڈیوز سامنے آتی رہیں۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی ہالی ووڈ کی فلم کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔کھڑے کھڑے لوگ گر رہے ہیں، مر رہے ہیں، پھر معلوم ہوا کہ چین میں راتوں رات ان لوگوں کیلئے ہسپتال تعمیر کر لیا گیا۔ خبریں آنے لگیں، دیگر ممالک چین سے اپنے لوگوں کو واپس لانے لگے۔وہاں بھی یہ وائرس دکھائی دینے لگا۔ پاکستانی حکومت نے اپنے طالبعلموں اور لوگوں کو ملک واپس لانے سے انکار کر دیا۔ پھر ایران سے بھی خبریں آنے لگیں۔ میڈیا آج کل اتنا متحرک ہے کہ وہ عام خبر کو بھی خوفناک بنا کر لوگوں کے ذہنوں پر طاری کر دیتا ہے، یہ تو ایک ایسا وائرس تھا جس سے لوگ مر رہے تھے اور کوئی علاج ابھی تک دریافت نہ ہوا تھا۔عالمی ادارہ صحت نے بھی اس کے وبائی ہونے اور ملکوں میں پھیل جانے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اعلان کر دیا۔ خوف میں اور اضافہ ہوگیا، دیگر ملکوں سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آنے لگیں۔ ایران پاکستان کے قریب ہے، ان کے وزیر صحت کو کورونا وائرس تشخیص ہوا، پریشانی اور بھی بڑھ گئی۔ایران سے لوگوں کی اموات کی خبریں جیسے جیسے آرہی تھیں ہم پریشان ہو رہے تھے، خوفزدہ ہورہے تھے۔ ادھر چین سے خبریں آنی بند نہ ہوئی تھیں۔ پھر اس تشویش میں کئی قسم کی افواہیں بھی رنگ پکڑ رہی تھیں۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی جانب سے چین کو تحفہ ہے اور چونکہ پاکستان سی پیک منصوبے میں چین کیلئے ممدوومعاون ہے اسلئے اس تحفے میں پاکستان کا حصہ بھی لازم ہے۔ یہ خوف ابھی تک پوری طرح ہمارے دلوں پر گرفت نہ کرپایا تھا کہ ایران سے پاکستانیوں کی واپسی ہوئی اور اس کے بعد ایک مریض کراچی اور ایک اسلام آباد میں موجود ہے۔یہ وائرس کتنے دن سے ان کے جسم کے اندر موجود تھا وہ ان دنوں میں کتنے لوگوں کویہ وائرس مستعار دے چکے ہیں اس کا حساب کرنا ذرامشکل ہوگا لیکن لوگوں کے خوف کا عالم یہ ہے کہ وہ پنجاب میں، بلوچستان میں، خیبرپختونخوا میں مُنہ پر ماسک لگائے گھومنا چاہتے ہیں۔ کسی کو یہ پرواہ نہیں کہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کو کھول کر یہ ہی انٹرنیٹ سے پڑھ لے کہ کرونا وائرس کا شکار کتنے فیصد لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی عمر کیا ہوتی ہے؟ کس عمر کے لوگوں کیلئے یہ وائرس سب سے خطرناک ہے، کیا اس وائرس کا حملہ دونوں جنسوں کیلئے ایک ہی جیسا خطرناک یا کسی ایک جنس کو اس سے زیادہ خطرہ ہے۔ کیا کرونا وائرس ایک متعدی بیماری ہے یا یہ وبائی امراض میں شمار ہورہا ہے۔ اس کے جراثیم کیا سانس کے ذریعے پھیلتے ہیں یا ہاتھ لگانے یا کسی چیز کے استعمال سے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ خبریں تو یہ بھی کہتی تھیں کہ کروناوائرس چمگادڑ کا گوشت کھانے سے پھیلا۔ پھر یہ بھی سنا کہ اس کی وجہ پینگوئن کا گوشت تھا۔ تحقیق اور علم دونوں ہی اس خوف کو سمجھنے اور پھر اس کا خطرہ محسوس کرنے کیلئے بہت اہم ہیں۔ لیکن کسی نے کہا تھا کہ خوف بھی خود جنم نہیں لیتا۔ لوگوں کو سکھانا اور سمجھانا پڑتا ہے اور جس چیز کی بنیاد ہی سمجھانے سکھانے یا تعلیم دینے پر ہو اس کا سدبات بھی یونہی کیا جا سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں لوگوں کو ماسک پہنتے دیکھ کر ہمارے ملک میں بھی ماسک پہننے کی ہاہاکار مچ گئی اور یقیناً اس کا فائدہ بھی لوگوں نے اُٹھایا ہوگا لیکن جب ایک عام ارزاں سی چیز بھی طلب کا حصہ بن جائے اور اس کی رسد کا مناسب بندوبست نہ کیا گیا ہو تو مارکیٹ میں اس کی کمی یا عدم موجودگی ایسی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ہراساں کر رکھا ہے لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ اس کے حوالے سے واویلا کیا جارہا ہے۔کیا اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور کئی بیماریاں نہیں جو اس سے پہلے بھی میڈیا ہمارے لئے خوف کی وجہ بنا چکا ہے اور کیا واقعی وہ اتنی ہی خطرناک تھیں۔برڈ فلو کے حوالے سے ہم کتنی خبریں پڑھتے رہے کیسے لوگوں کے پورے پورے کاروبار تباہ کر دیئے گئے کہ مرغیوں کو زکام ہورہا ہے۔اس وقت بھی لگتا تھا کہ شاید اب زندگی کا کاروبار رُک جائے گا۔کچھ جگہوں پررُک بھی گیا لیکن زندگی چلتی ہی رہتی ہے رُکتی نہیں۔نہ تب معاملات رُکے، نہ اب رُکیں گے۔ اتنی پریشانی سے بہتر ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اس بیماری سے اصل خطرہ درحقیقت کتنا ہے۔ ماسک کی پریشانی میں اُلجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اس پریشانی کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ خوف میں اُلجھائو زندگی کی علامت سہی لیکن خوف اگر اندھیرا بن کر اعصاب پر چھا جائے تو اس کا سدباب مشکل ہو جاتا ہے۔