تجاوزات اور انسداد تجاوزات کی دوڑ

ضلعی انتظامیہ اور ٹائون حکام کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے اقدامات اور شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کی کوششوں کی تاجر برادری کی جانب سے مخالفت سے قطع نظر یہ مہم جاری رکھنا اسلئے ضروری ہے کہ تسلسل کے بغیر تجاوزات کا خاتمہ ممکن نہیں۔ تجاوزات کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کا جو مطالبہ تاجر برادری کی جانب سے سامنے آیا ہے اس سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اور ٹائون حکام اس طرح کا طرزعمل نہ اپنائیں کہ ان کے اقدام پر انگشت نمائی کی جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً شہر کو تجاوزات سے پاک کر نے کا حکومت اور انتظامیہ کو جو اچانک خیال آتا ہے اور جس بے ہنگم طریقے سے آپریشن شروع ہوتا ہے اس کا وقتی اور چند روزہ ہونا،مصلحت اور دبائو کے باعث آپریشن روک دینا جہاں ایک بڑا مسئلہ ہے وہاں اس سے بھی سنگین مسئلہ یہ ہے کہ آپریشن کے اگلے ہی روز تجاوزات کھڑی کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ وہ ملی بھگت ہوتا ہے۔ ٹریفک پولیس،محکمہ بلدیات اور ضلعی انتظامیہ سبھی کی حصہ داری نہ ہو اور صرف نظر کی پالیسی اختیار نہ کی جائے تو تجاوزات کے دوبارہ قیام کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پچھلی کسی حکومت نے جناح پارک روڈ سے ریڑھی والوں کو متبادل جگہ دے کر منتقل کیا موجودہ حکومت نے ریلوے پھاٹک اور سڑک پر سبزی منڈی لگانے والوں کو متبادل جگہ دی، بورڈ بازار کو تجاوزات سے پاک کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے ریلوے کی اراضی پر فرش ڈال کر ریڑھی بانوں کو وہاں منتقل کیا، آج جا کر دیکھیں تو تینوں جگہوں پر ریڑھی بان اسی طرح قابض ہیں۔ بورڈ بازارمیں تو انڈر پاس کے قریب حال ہی میں تعمیرشدہ فٹ پاتھ پر میوہ فروش دوہری طرف بیٹھتے ہیں ۔ ایک دکان کے بالکل دروازے کیساتھ زمین پر اور اسی افغانی کا ٹھیلہ فٹ پاتھ پر اس طرح سے کھڑا ہوتا ہے کہ بیک وقت مشکل سے ایک ہی شخص درمیان سے گزر سکتا ہے جو جگہ خالی کر کے فٹ پاتھ کو کشادہ کردیا گیا اس پر ریڑھی بانوں اور دکانداروں نے قبضہ جمالیا ہے جبکہ نہر سے لیکر ریلوے کی پٹڑی تک کی دوہری سڑک پھر سے ریڑھی بانوں اور سڑک پر سودا بیچنے والوں کے تصرف میں ہے۔ اسی طرح شاہی باغ روڈ پر ریلوے پھاٹک اور سڑک پر پہلے ہی کی طرح کا قبضہ ہے ،جناح پارک روڈ پر بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے۔ سوال یہ ہے کہ تجاوزات ہٹانے کے بعد دوبارہ قائم ہونے کیوں دی جاتی ہیں۔ ریڑھی بانوں کو متبادل اور مستقل جگہ دیئے جانے کے باوجود دوبارہ انہی یا پھر نئے لوگوں کو پھر سے کیوں موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خالی کردہ مقامات پر کاروبار جمالیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کے حوالے سے یہ الزام بھی بے جا نہیں کہ ٹائون ون اور ضلعی انتظامیہ صرف ان علاقوںسے تجاوزات ہٹاتی ہے جہاں سے انہیں وصولی نہیں ہوتی، مقامی تاجروں کے اس سوال کا انتظامیہ کو جواب دینا چاہیے کہ چوک یادگار ٹیوب ویل کیساتھ عرصہ دراز سے تجاوزات ہیں لیکن ان کو کیوں نہیں ہٹایا جاتا۔ اسی طرح کریم پورہ بازار نمبر 1و نمبر2،گلشن بازار ، بازار کلاں ، گھنٹہ گھر بازار، مینہ بازار ، چڑی کوبان ، پیپل منڈی اور دیگر کئی ایک ایسے علاقے ہیں جہاں کے دکاندارخود اس امر کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تجاوزات ختم کئے جائیں لیکن انتظامیہ گریزاں ہے۔بہتر ہوگا کہ شہر میں تجاوزات کیخلاف بلاامتیاز اور منصوبہ بندی کیساتھ ایسی کارروائی کی جائے کہ انتظامیہ وٹائون افسران جانبدار نظر نہ آئیں۔ تجاوزات کیخلاف ایک مرتبہ کارروائی کے بعد دوبارہ قیام کی ذمہ داری متعلقہ اہلکاروں پر عاید ہونی چاہئے۔ جن جن جگہوں پر حکومت متبادل بندوبست کے بعد تجاوزات ہٹا چکی ہے، وہاں پھر سے تجاوزات کے ذمہ دار ٹریفک پولیس،ٹائون اہلکاروں اور ضلعی انتظامیہ کو قرار دیا جائے اور ان سے باز پرس کی جائے جب تک احتساب کا خوف نہ ہوگا تجاوزات کیخلاف رسمی کارروائی اور دوبارہ قیام کا سلسلہ جاری رہے گا اور شہر کو کبھی بھی تجاوزات سے پاک نہیں کیا جا سکے گا۔
اب ماسک کا بحران
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کورونا وائرس کے مزید33کیسز کی تصدیق کے بعد تو اس وائرس کے پھیلاؤ کی موجودگی اور وجوہات کے حوالے سے مزید سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ ان سوالات کا جواب ماہرین ہی دے سکتے ہیں، امریکہ میں کرونا وائرس کا پہنچ جانا اسلئے بھی معمہ ہے کہ متاثرین میں سے کسی نے چین کا دورہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کے ایسے لوگوں سے رابطہ رہا ہے جو ممکنہ طور پر وائرس زدہ ہوں۔اس صورتحال کے سامنے آنے کے بعد دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی وقت اس وائرس کے پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہا۔ اس صورتحال سے قطع نظر کہ دنیا میں کرونا وائرس سے کیا صورتحال پیدا ہوئی ہے، وطن عزیز پاکستان میں ایک مرتبہ پھر بحران اور خوف وہراس کی ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی ہے جو خود ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ اس صورتحال کو ہم باعث خوف نہ بنائیں اسے ایسا پرخطر بنادیا گیا ہے جس سے بچائو کی کوئی صورت نہیں۔دیکھا جائے تو حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت جن اقدامات کا سرکاری ملازمین کو پابند بنایا ہے اس میں ماسک پہننا، کسی سے مصافحہ نہ کرنا اور بائیو میڑک نظام سے حاضری نہ لگانا شامل ہے۔ موخرالذکر دو ہدایات پر عملدرآمد اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ماسک مہیا نہیں اور نہ ہی ماہرین ماسک پہننے کو ضروری قرار دے رہے ہیں تو حکومت نے سرکاری ملازمین کو اس کی ترغیب کیوں دی۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں دوہی مریضوں کا ابھی علم ہوا ہے تو باقی کے امکان کا خدشہ تو ہے لیکن صورتحال اس قدر گمبھیر نہیں یا پھر معاملات ایسے نہیںجیسا کہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ حکومتی اقدامات بہرحال ابہام کا باعث ہیں، جہاں تک ماسک کے استعمال کے ضروری ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے ایک تو حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کو ہدایات اور دوم یہ کہ بین الاقوامی طور پر اچانک ماسک کا استعمال اس کیلئے ضروری ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہی بے معنی کردیا ہے۔ماسک کی قیمتوں میں اضافہ چین میںکرونا وائرس کے انکشاف کیساتھ ہی ہونا شروع ہوا تھا اور ماسک ناپید بھی اس وقت سے تھے۔ پاکستان میں وائرس کے انکشاف کے بعد جب لوگ ماسک لینے لپکے توطلب کے مقابلے میں رسد نہ ہونے کے برابر ہونا فطری امر تھا، اس صورتحال میں حکومت کو اولاً ماہرین کے ذریعے عوام کو ماسک کے ضروری ہونے نہ ہونے اور اس کے متبادل کے حوالے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ دوم یہ کہ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ متعلقہ حکام کو اس کا بروقت اندازہ کیوں نہ ہوسکا، اب جبکہ ماسک سرے سے ناپید ہیں تو قیمت وذخیرہ اندوزی ثانوی مسائل ہیں جنہوں نے ماسک ذخیرہ کر رکھے ہیں ان کا کھوج لگایا جائے اور دوم یہ کہ حکومت ماسک کا کاروبار کرنے والے عناصر کو ماسک مارکیٹ میں لانے کا پابند بنایا جائے اور اس امر کا اعلان کیا جائے کہ جن لوگوں نے ماسک ذخیرہ کیا ہے اگر بعد میں اس کا علم ہوا تو کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ذخیرہ اندوزوں کو خوف خدا کرنا چاہئے کہ اس آفت ومصیبت کو بھی اگر وہ منفعت کا ذریعہ بنائیں گے تو کیا وہ خود قدرت کے غضب سے بچ سکیں گے۔