سوشل میڈیا، قابل قبول قانون سازی کی جائے

حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا قوانین متعارف کرانے کے فیصلے کے بعد فیس بک، گوگل اور ٹویٹر کی جانب سے پاکستان میں سروسز بند کرنے کی دھمکی پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آنے دینا چاہئے۔ ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ (اے آئی سی جی)نے مجوزہ سوشل میڈیا ریگولیشن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔ پاکستان میں گوگل، فیس بک اور ٹویٹر سروس بند ہونے سے 70ملین صارفین متاثر ہوں گے۔ ان قوانین سے عام صارف اور کاروباری حضرات بھی متاثر ہوں گے۔مقام اطمینان یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا قوانین پر عمل درآمد روک دیا ہے اور موجودہ قوانین اور متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔سوشل میڈیا کے منفی استعمال اور اثرات کی روک تھام کے حوالے سے مجوزہ حکومتی اقدامات پرفیس بک،گوگل اور ٹویٹر معترض نہیں۔ اس حوالے سے ان کے تحفظات پر حکومت ان کو مطمئن کر سکتی ہے اور ان کے تحفظات دور کئے جاسکتے ہیں۔ ان کمپنیوں کو ایک حد تک حکومتی اقدامات اور قوانین پر اعتراض نہ ہوگا لیکن اگر حکومت ذریعہ اظہار پر پابندی جیسے اقدامات کرنا چاہے تو یہ ان کمپنیوں اور عوام دونوں کیلئے قابل قبول نہیںہوگا۔ حکومت اس سلسلے میں ازسرنو غور کرے اور جو بھی ضروری قانون سازی مطلوب ہو وہ ایک خاص دائرے کے اندر اور معاشرے کی منفعت کیلئے ہو تاکہ اس پر اعتراض نہ ہوسکے اور اس پر عملدرآمد بھی ممکن ہو۔
رئیس الجامعات کی بلا تاخیر تقرری کی ضرورت
خیبرپختونخوا میں سرکاری جامعات جہاں مالی وانتظامی بحران کا شکار ہیں وہاں حکومت کی جانب سے جامعات میں مستقل وائس چانسلروں کی عدم تقرری اور سیاسی وجوہات کی بناء پر احتراز سے رہی سہی کسر پوری ہورہی ہے۔ سرکاری جامعات میں انتظامی بحران کے باعث تعلیمی فضا کا مکدر ہونا اور اخلاقیات پر سوالات بھی کوئی پوشیدہ امور نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سارے مسائل سے نمٹنے کیلئے پورے شفاف طریقے سے صرف اور صرف اہلیت کی بنیاد پر رئیس الجامعات کی تقرری ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ گورنر خیبرپختونخوا اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں گے اور صوبے کی جامعات کے سربراہوں کی تقرری کا معاملہ مزید تاخیر کا شکار نہیں ہوگا۔