سپیشل بچے

ہمارے غریب خانے کے قریب سماعت اور گویائی سے محروم سپیشل بچوں کا سکول ہے، ان بچوں کو اشاروں کی زبان میں باتیں کرتے دیکھ کر جہاں افسوس ہوتا ہے وہاں بڑی خوشی بھی ہوتی ہے، یہ سکول جاتے ہوئے اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں، انہیں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے وقت بہت سے اعضا سے کام لینا پڑتا ہے۔ ان کے بازو، ہاتھ ، اُنگلیاں، آنکھیں، گردن، سر سب کچھ حرکت میں رہتے ہیں۔ اشاروں کی زبان میں باتیں کرتے کرتے یہ کھلکھلا کر ہنس بھی پڑتے ہیں، ان کی ایک دوسرے کیساتھ تلخ کلامی بھی ہوتی رہتی ہے، ان کو اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنے کیلئے آنکھوں ہاتھوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ ان کو باتیں کرتے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ اپنے جذبات چھپانے پر قادر نہیں ہوتے جو دل میں ہوتا ہے وہ یہ اپنی بدن بولی سے بیان کردیتے ہیں۔ انہیں باتیں کرتے دیکھ کر اللہ کریم کی عطاکردہ نعمتوں کا احساس ہوتا ہے۔ ہم کتنی آسانی سے بات چیت کے ذریعے اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں، مہذب معاشروں میں سپیشل بچوں کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے، گھروں سکولوں میں سب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی دل شکنی نہ ہونے پائے، ان کی زندگی جہاں ان کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی وہاں یہ ہمارے لئے بھی بہت بڑا امتحان ہیں۔ مارک ٹوئین نے کہا تھا: ہمدردی وہ زبان ہے جسے بہرہ سن سکتا ہے اور اندھا دیکھ سکتا ہے! یہ سپیشل بچے ہمارے معاشرے کا بڑا اہم حصہ ہیں، انہیں کبھی بھی ان کی معذوری کا احساس نہیں دلانا چاہئے، ان سے محبت کا برتاؤ کیا جائے تاکہ یہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں، حکومت کو بھی ان کے مسائل پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ سپیشل ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جاسکیں۔ حکومت کی طرف سے جو رقم سپیشل ایجوکیشن کیلئے مختص کی جاتی ہے اس پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ یہ صحیح جگہ پر خرچ ہورہی ہے یا اس کے کچھ اور مصرف بھی ہیں؟ اگر کسی جگہ گڑبڑ ہو تو ارباب اختیار کو مناسب اقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ یہ رقم سپیشل بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو! سپیشل بچے جو سماعت اور گویائی سے محروم ہیں ان کی محرومی کی وجوہات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، سماعت سے محروم لوگوں کی زیادہ تعداد ترقی پزیر ممالک سے تعلق رکھتی ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ انفیکشن سے ہونے والا بہرہ پن اس بات کی علامت ہے کہ آنکھوں اور دل میں بھی خرابیاں یا نقائص موجود ہیں، ہمارے پرائمری سکولوں اور مدارس میں بسا اوقات بچوں کو جسمانی سزائیں دی جاتی ہیں، یہ یقینا انتہائی نامناسب رویہ ہے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بچوں کو چہرے اور کان پر تھپڑ نہ مارا جائے۔ اس سے سماعت زائل ہوسکتی ہے، یہ ہمارے پرائمری سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کیلئے بھی ایک اچھا مشورہ ہے کہ ان کا ذرا زور سے لگایا ہوا بظاہر ایک بے ضرر سا تھپڑ کسی بچے کو عمر بھر کیلئے سماعت سے محروم کرسکتا ہے۔ یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگ کان کو دیا سلائی سے صاف کرتے رہتے ہیں، یہ انتہائی خطرناک ہے، اس کے علاوہ نزلہ زکام کے دوران ہوائی سفر سے بھی پرہیز کیا جائے کیونکہ اس سے بھی سماعت کے زائل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ آپس میں کی گئی شادیاں پیدائشی معذوری کا سبب بن سکتی ہیں، دوران حمل پہلے دو تین مہینے اپنی صوابدید سے کسی بھی قسم کی دوائی استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی بھی دوائی ہرگز نہ استعمال کی جائے بغیر ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جانے والی دوائی بھی نوزائیدہ بچوں میں پیچیدگیاں جنم لینے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سماعت سے محروم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے بہرے پن کی وجہ غیر تربیت یافتہ دائیوں (Midwives) کا کردار ہے جو اپنی نااہلی اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو سماعت سے محروم کردیتی ہیں۔ بہت زیادہ شورشرابے سے بچنے کی بھی ضرورت ہے، بہت زیادہ پرشور موسیقی سے بھی اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہئے شاید اس مشورے پر عمل کرنا فی الحال ممکن نہ ہو کیونکہ ہم بڑی تیزی سے بے ہنگم اور پرشور موسیقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پریشر ہارن اور دوسرے شور پیدا کرنے والے آلات کے استعمال میں بھی بڑی احتیاط کی ضرورت ہے! ویسے کبھی کبھی ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ہر چیز میں خوبیاں اور خامیاں یقینا موجود ہوتی ہیں ہمارے سپیشل بچے جو سماعت اور قوت گویائی سے کسی بھی وجہ سے محروم ہوچکے ہیں، اب انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے آپ کتنے ہی ہارن بجائیں موسیقی کا شور کتنا ہی بلند اور تیز کیوں نہ ہو، وہ آرام سے محو خواب رہیں گے۔ اب نہ وہ غیبت سن سکتے ہیں اور نہ دوسری دل دکھانے والی باتیں! وہ ہماری پرشور دنیا میں رہتے ہوئے بھی بڑے پرسکون ہیں، انہیں لاؤڈ سپیکر کی مدد سے دوائیاں بیچنے والے تنگ نہیں کرسکتے! ہوائی فائرنگ کی خوفناک آواز ہو یا بیاہ شادیوں پر چھوڑے جانے والے پٹاخے وہ سب سے بے نیاز ہیں، بس آخر میں اتنی سی گزارش ہے کہ ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو ابھی سماعت سے محروم نہیں ہیں!۔