گومل یونیورسٹی کے سکینڈلز’ علم دشمنوں کے نئے ہتھکنڈے

بنوں یونیورسٹی کا تنازعہ منطقی انجام کو پہنچا، گورنر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید عابد علی شاہ کی ملازمت کے خاتمہ کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ وی سی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک طالبہ کیساتھ رقص کر رہے تھے۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، مثلاً حال ہی میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں سامنے آنے والا شرمناک سکینڈل’ یونیورسٹی کے سٹی کیمپس کے کوآرڈی نیٹر’ ڈین آف دی آرٹس اور شعبہ علوم اسلامیہ و عربیہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حاجی صلاح الدین اس سکینڈل کی وجہ سے گرفتار ہوئے۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ انہیں (پروفیسر صلاح الدین کو) ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے مگر چند لمحوں پر د وسری خبر سامنے آئی کہ ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ اسی دوران یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ڈاکٹر دلنواز کو معطل کرکے تین ماہ کیلئے ان کے یونیورسٹی کے مرکزی اور سٹی کیمپس میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ہم آگے بڑھنے سے قبل ایک سوال اور معاملہ آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چند ماہ قبل پروفیسر صلاح الدین کے حوالے سے ہونے والی ایک انکوائری کے بعد گورنر نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں جب یہ تحریری حکم جاری کیا تھا کہ انہیں کسی اہم منصب اور خصوصاً تدریسی عمل کا حصہ نہ بنایا جائے تو پھر کیسے وہ یونیورسٹی کے تین اہم عہدوں پر فائز تھے؟۔معاملہ یہ ہے کہ گومل یونیورسٹی کے حال ہی میں منظرعام پر آنے والے شرمناک سکینڈل کے بعد اس معاملے کو گرفتار پروفیسر کے بہی خوا فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔ ایک نیوز ایجنسی کے پاکستان چیپٹر’ ایک ٹی وی اینکر اور سوشل میڈیا پر متحرک بعض افراد کو لے کر یہ غلیظ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ مقصد اصل معاملے پر مٹی ڈالنا ہے۔ یہ مناسب طرزعمل نہیں، ملزم یا مجرم اور خبرنگاروں کے عقائد نہیں بلکہ حقائق کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے’ حقائق کیا ہیں، یہی کہ پروفیسر صلاح الدین جنہیں عام طور پر مولانا صلاح الدین کے نام سے یاد ومخاطب کیاجاتا ہے پر سنگین الزامات ہیں۔ یونیورسٹی پچھلے کچھ عرصہ میں ان کیخلاف ایک بار نہیں متعدد انکوائریاں کروا چکی ہے۔ ماضی کی ان انکوائریوں کی بدولت ہی گورنر کے پی کے نے وہ حکم جاری کیا تھا جس کا بالائی سطور میں تذکرہ کیا گیا۔یہ نہ سمجھ میں آنے والا معاملہ ہرگز نہیں گرفتار پروفیسر کیخلاف طالبات کی ایک سے زائد درخواستیں ہیں۔ ابتدائی طور پر حالیہ درخواستوں کے حوالے سے موصوف خود کہہ چکے ”مجھ پر شیطان غالب آگیا تھا”۔ یہاں ساعت بھر کیلئے رُک کر ایک اور بات پر بھی غور کیجئے۔ یونیورسٹی نے سٹی کیمپس کے نئے کوآرڈی نیٹر کے طور پر جن صاحب کا تقرر کیا ان کا دامن بھی صاف نہیں، ماضی میں ان کا بھی ایک سکینڈل سامنے آچکا ہے۔ نئے کوآرڈی نیٹر کی تقرری اور ان کے ماضی پر بات ہوئی تو کہا گیا کہ ”چونکہ ایک سرائیکی اہم عہدہ پر تعینات ہوا ہے اس لئے مخالف لسانی گروپ پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ یہ شرمناک اور گھٹیا الزام لے کر میدان میں کودنے والے وہی ہیں جنہوں نے مہینہ بھر قبل بلیک میلنگ کے الزام میں ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کرکے اسلام آباد لے جائے گئے شخص کے معاملے کو بھی لسانی رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ گرفتار بلیک میلر ایک ریاستی ادارے کیلئے مقامی طور پر مخبر کے فرائض انجام دے کر روزی کماتا تھا۔ اپنی اسی حیثیت سے اس نے مقامی طور پر خوب ”کاروبار” کیا مگر اسلام آباد میں جنہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی وہ بھاری پڑ گئے، نتیجہ گرفتاری کی شکل میں سامنے آیا تو معاملے کو لسانی رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی لوگ گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس کے نئے کوآرڈی نیٹر کے حوالے سے 2008ء کی ایک انکوائری کی بنیاد پر اُٹھائے گئے سوالات اور تحفظات پر پھر سرائیکی سرائیکی کھیلنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ رویہ اور رجحان بھی درست نہیں، سکینڈل کی زد میں آئے شخص کو عقیدے یا نسل شناخت کی بنیاد پر معصوم ثابت کرنے کا کاروبار لائق مذمت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا گرفتار پروفیسر کیخلاف درخواستیں دینے والی طالبات کی عزت وتوقیر کو عقیدوں اور نسلی شناختوں کی بنیاد پر دیکھا جائے گا؟۔ سندھ دریا کنارے ہزاریوں سے آباد ڈیرہ اسماعیل خان اپنی ثقافت’ علم دوستی’ سماجی رویوں اور متعدد دیگر حوالوں سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ اپنے چار اور کے مخصوص ماحول کے زیراثر اس شہر میں بچیوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا۔ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں بچیوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے زندگی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ مقام حاصل کیا خود اس تحریر نویس کی بھابھی کا تعلق اسی شہر سے ہے اور وہ عملی صحافت میں اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اچھے منصب پر فائز ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس علاقے میں بچیوں کی تعلیم کے دشمن قدم قدم پر منہ کھولے زہر اُگلتے پھر رہے ہوں وہاں کی مقامی یونیورسٹی کے حوالے سے ایک شرمناک سکینڈل سامنے آنے اور ”بزرگ” پروفیسرکی گرفتاری نے ان عناصر کو جو بچیوں کی تعلیم کے دشمن ہیں مزید زہر بھرے تبصروں اور علم دشمنی کے مواقع عطا کر دئیے۔ معاف کیجئے گا یہ معاملہ سادہ ہے، فرقہ وارانہ نا ہی نسلی عصبیت کی کوکھ سے پھوٹا۔ پروفیسر پر سنگین الزامات ہیں، درخواستیں’ انکوائریاں ثبوت سب موجود ہے۔ گرفتار پروفیسر کے علاوہ بھی چند کردار ہیں۔ حالات کی نزاکت اس امر کی متقاضی ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا’ ایک جوائنٹ انٹیرو گیشن ٹیم بنوائیں جس میں آئی ایس آئی’ ایم آئی’ آئی بی’ سی آئی اے پولیس کے نمائندوں کے علاوہ سیکرٹری تعلیم’ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ اور صوبے کی دو یونیورسٹیوں کے وی سی صاحبان (گومل یونیورسٹی کے وی سی شامل نہ ہوں) شامل ہوں اور ہائی کورٹ کے جج اس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں، یہ کمیٹی حالیہ سکینڈل کیساتھ سٹی کیمپس کے نئے کوآرڈی نیٹر کے معاملے اور پھر گومل یونیورسٹی کے حوالے سے دیگر شکایات جن میں جعلی ڈگریوں کا اجراء بھی شامل ہے کی تحقیقات کرے تاکہ علم وعزت دشمن قوتوں اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔