امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ

افغانستان میں 18سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے امریکہ اور طالبان قیادت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے،جسے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کیساتھ مشروط کیا گیا ہے جبکہ امریکہ کی طرف سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ طالبان افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوںکیخلاف استعمال نہیں ہونے دیںگے۔ غیر ملکی افواج کی مرحلہ وار واپسی ہو گی اور 14ماہ کی مدت میں تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے بعد انٹرا افغان ڈائیلاگ کیلئے 10مارچ کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان کی مقامی قیادت صدر اشرف غنی ‘عبداللہ عبداللہ سمیت تمام سرکردہ گروہ افغانستان کے محفوظ مستقبل کیلئے کسی سمجھوتے پر متفق ہو سکیں گے یا امریکہ کی رخصتی کے بعد افغانستان اندرونی خلفشار کا شکار ہو کر رہ جائے گا؟ طالبان قیادت نے افغانستان سے خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے عام معافی کا اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان افغانستان میں نہ صرف امن کے خواہاں ہیں بلکہ وہ اس ضمن میں عملی اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں’ طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نے طالبان کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہر ممکن طور پر معاہدے کی پاسداری کریں اور خود کو منظم و متحد رکھیں ۔ طالبان امیر نے کہا کہ امارت اسلامیہ کا کوئی ذمہ دار یا فرد اور مجموعی طور پر تمام اہل وطن اس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے’ کیونکہ اسلام میںغداری اور فریب کی کوئی گنجائش نہیں البتہ اگر مخالف فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے تو تمام ملت ماضی کی طرح مضبوط دفاع کیلئے آمادہ ہو گی۔ طالبان امیر نے افغانستان کے تمام داخلی فریقوں کو پیغام دیا کہ ہم ایک معقول اور منصفانہ حل کیلئے تیار ہیں۔ آئیے اپنی ملت کے مذہبی اور ملی اصولوں کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ کو دنیا اور خاص کر خطے کے ممالک کیساتھ مثبت تعلقات پر یقین ہے اور پڑوسی ممالک سے بہترین ہمسایہ کے اصولوں کے پابند ہیں۔ طالبان امیر نے افغانستان کے عوام کو یکساں حقوق کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ کی مخالفت میں ماضی میں اگر کسی نے حصہ لیا ہو ‘ اور عام طور پر وہ جنہیں امارت اسلامیہ سے تشویش ہو ‘ ان سب کیلئے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے اپنے قول وفعل سے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے رویوں میں نرمی آئی ہے ‘ افغانستان کے سابق سفیر ملا ضعیف نے بھی ایک انٹرویو میں اس جانب کھل کر اشارہ کیا اور ماضی کی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔ ملا ضعیف کے بقول ”انسانوں سے غلطیاںہوتی رہتی ہیںلیکن عقل مند وہ ہوتے ہیں جو انہیں مانیں اور دہرانے سے گریز کریں”۔ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ کے بعد افغانستان کو ایک مشترکہ قومی نظام کی ضرورت ہے اور یہ کام افغانستان کے تمام مقامی گروہ ایک دوسرے کی حیثیت کو تسلیم کر کے جمہوری انداز میں ہی کر سکتے ہیں ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ماضی کے برعکس طالبان بھی اب سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں افغانستان کی موجودہ سیاسی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور ملک میں قیام امن کی خاطر کھلے دل کیساتھ انٹرا افغان مذاکرات میں شریک ہو’ افغانستان کی داخلی قیادت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے غیر ملکی افواج کا انخلاء اور امریکہ کیساتھ امن معاہدے کا طے پا جانا بڑی کامیابی ہے ‘ اب اس سے آگے کا سفر افغانستان کی داخلی قیادت کے باہمی اتفاق و اتحاد اور ہم آہنگی کے باعث ہی طے ہو پائے گا۔ افغانستان کی داخلی قیادت کو بخوبی یاد ہو گا کہ جب سوویت یونین کی افغانستان سے رخصتی ہوئی تھی تو افغانستان خانہ جنگی کا گڑھ بن گیا تھا’جس میں لاکھوں لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اورافغانستان کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی، اب امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد بھی ایسے ہی خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔اس لئے بعض حلقوں کی جانب سے یہ تجویز پیس کی جارہی ہے کہ افغان باہمی مصالحت اور اتفاق رائے کا عمل اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہو کیونکہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی ناکامی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے،امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان کا بہت مثبت اور اہم کردار رہا ہے ،یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی کوششوں کو امریکہ ،طالبان اور افغانستان کی قیادت تسلیم کر رہے ہیں،یہ پاکستان کی ان قربانیوں کا صلہ ہے جو پاکستان نے افغانستان اور پورے خطے میں امن کیلئے پیش کی ہیں ۔یہ بات بڑی شدت کیساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن عمل کا معاہدہ دراصل اس سلسلے کی خشت اول ہے ‘ اصل اور حقیقی امن معاہدہ افغانستان کے اندرونی گروہوں کا سیاسی عمل پر اتفاق ہو گا ۔ طالبان نے ایک ہفتہ کی جنگ بندی اور بہترین سفارت کاری کے ذریعے سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کر کے مذاکرات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے اس موقع پر اگر صدراشرف غنی ‘ عبداللہ عبداللہ اور دیگر مقامی گروہوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو افغانستان میں دیرپا امن کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔