نیا پانی کرونا وائرس

نئی ریاست مدینہ کے مکین اور روحنیت اوہو نہیں روحانیت کو جدید ترین سائنس میں ڈھالنے والوں کی ریاست میں لکی ڈھیری روڈ کے بیشتر علاقوں میں شہری گزشتہ بارہ تیرہ روز سے محکمۂ ناردرن سوئی گیس کے عذاب میں مبتلا ہو کر ذہنی مریض ہوتے جا رہے ہیں۔ پشاور کا موسم تو اچھا ہے چنانچہ مہنگائی کی بدولت شہری جو روزہ رکھتے ہیں ان کے اس روزے کا ثواب حکمران جماعت کو بھی پہنچ رہا ہوگا مگر اب تو گیس ناپید کر کے جی ایم تاج علی خان نے روزہ پر روزہ رکھوا کر دگنا ثواب کمانا شروع کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل پرسوں واپڈا والوں کو بھی احساس ثواب ہو جا ئے اور ظلمت کے پردے ڈھا دئیے جائیں۔ بہرحال اب یہ تو حکومت ہی بتا سکتی ہے کہ آئندہ کیا پروگرام ہو سکتا ہے۔ محولہ بالا تمہید کا اجمالی خاکہ کچھ اس طرح ہے کہ آج سے تقریباً بارہ تیرہ روز پہلے لکی ڈھیری روڈ گلبہار نمبر4 کے علاقہ جاوید ٹاؤن کے کچھ علاقوں میں یکایک گیس کی آمد رک گئی، علاقہ مکینوں کو گمان ہوا کہ شاید بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی طرح ناردرن سوئی گیس والوں نے بھی طورطریقہ اپنا لیا ہے، جب کئی گھنٹوں تک گیس کی سپلائی معطل رہی اور یہ علم ہوا کہ گیس کنکشن میں توگیس نام کی کوئی شے نہیں آرہی ہے بلکہ پائپ میں پانی کی غڑغڑ ہورہی ہے جیسے ماضی کے پسماندہ دور میں حقے گڑگڑایا کرتے تھے، تشویش بڑھی تو پلمبر کو بلوایا، انکشاف ہوا کہ ناردرن سوئی گیس نے پانی چھوڑ دیا ہے، بہرحال فوری طور پر اس کی شکایت لوگوں کی جانب سے کی گئی اور یہ حقیقت ہے کہ فقیرآباد آفس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اپنی ٹیم بھی بھیجی جس نے آکر صورتحال کا معائنہ بھی کیا اور انہوں نے بتایا کہ پائپ کے خول یا ہول میں گیس کی بجائے پانی دوڑ رہا ہے جو شعبہ کمپریسر والوں کا کام ہے کہ وہ پائپ سے پانی کا اخراج کر کے گیس کی سپلائی بحال کریں چنانچہ اس شکایت کی سمری متعلقہ شعبہ کو دی جائے گی، وہ آکر صورتحال درست کر دیں گے۔ اگلے روز مکین تمام دن انتظار میں ہی رہ گئے، پھر تیسرے روز عوام نے اپنے طور پر کوششیں کیں، تقریباً ہر افسر سے رابطہ کرنے کی مساعی میں جتے رہے، ایک دو سے رابطہ ہوا بھی مگر یہ ان کا کام نہ تھا، اگر رابط نہ ہو پایا تو وہ کمپریسر والے صاحب سے اور جنرل منیجر تاج علی خان سے۔ کمپریسر والے صاحب کے ٹیلی فون کو اٹینڈ کرنے کا شاید کوئی نظام ہی نہیں ہے، وہاں پانچ روز گھنٹیاں بجتی رہیں تاہم جنرل منیجر سے سارے دن کی کاوشوں کے بعد رابطہ اس طرح ہوا کہ جب بھی ان کے دفتر فون کیا تو کوئی محترمہ اس کو اٹینڈ کرتیں اور بتاتیں کہ ابھی صاحب نہیںآئے، آپ نے ان سے کچھ کہنا ہے تو بتا دیں وہ پیغام رسانی کر دیں گی۔ بعد دوپہر جب ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا صاحب بعد عصر تشریف لاتے ہیں تو ان کی طرف سے جواب تھا کہ جی وہ بہت مصروف رہتے ہیں، کئی امور نمٹانا ہوتے ہیں، بہرحال اس وقت وہ میٹنگ میں ہیں دو ایک گھنٹہ بعد رابطہ کرنے کے بعد محترمہ نے شفقت برتی اور فون ملا دیا۔ دوسری جانب سے جو صاحب محوگفتگو ہوئے ان سے یہ جاننے کیلئے استفسار کیا کہ جی ایم تاج صاحب ہی نوازش فرما رہے ہیں؟ تو ذرا کرخت لہجہ میں آواز آئی کہ ان کا نام تاج علی خان ہے، جناب تاج علی خان جنرل منیجر سوئی ناردرن گیس صوبہ خیبر پختونخوا کی خدمت میں انتہائی عاجزانہ طور پر مدعا پیش کیا گیا تو جناب نے یہ تسلی دی کہ گیس پائپ لائن میں جو سونامی آیا ہوا ہے اس کی زد میں اکیلے جاوید ٹاؤن والے نہیں ہیں اور بھی کئی علاقے شامل ہیں، کام ہو رہا ہے آپ کا بھی کام ہو جائے گا۔ علاقہ جاوید ٹاؤن والوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ جی ایم صاحب سے بسیار کاوشوں کے بعد رابطہ ہو گیا ہے تو اس خبر کو تو انہوں نے ایسا لیا جیسے میٹھی عید ہوگئی۔ جب یہ بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس آفت سے جلد جان چھوٹ جائے گی تو ساتھ ہی بقرعید بھی ہو گئی، گویا دوآتشہ سرور آگیا لیکن جب دو دن مزید اس بلا کو گلے میں لٹکائے گزر گئے تو ادارہ مشرق نے مظلوم شہریوں کی آواز بلند کی، یہ ادارہ مشرق کی خصلت میں ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کی آواز بنتا ہے چنانچہ اس آوازے پر پھر محکمۂ سوئی گیس سے ٹیموںکی آمد ورفت شروع ہوئی، اس طرح تیس سے زیادہ ماہرین جاوید ٹاؤن پدھارے اور شام گئے تک انہوں نے گیس پائپ لائن سے پانی کے قبضے کو چھڑانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر پانی کا زور اتنا تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ بہرحال تین دن تک ناردرن سوئی گیس کی متعدد ٹیمیں چھان پھٹک کرتی رہیں مگر ان کی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ یہ جان جائیں کہ پانی کہاں سے پائپ لائن میں داخل ہو کر جاوید ٹاؤن کے مکینوں کے گھروں میں گھس کر ان کو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی سزا دے اور منہ چڑا رہا ہے۔ عوام نے اپنے طور بلکہ اپنی ہمت سے بھی بڑھ کر کوشش کرلی کہ وہ اپنی مصیبت کا مداوا کر پائیں، اب تو فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں بچا ہے، ایک لے دے کے مراد سعید رہ گئے ہیں وہ اپنے والد کو آسٹریلیا کے اسکول میں داخلہ نہ دلوا سکے تو اتنا بڑا کام کیسے کر پائیں گے، پھر جنرل منیجر ناردرن سوئی گیس کے پی کے تاج علی خان جیسے زیرک افسر رہ گئے تو ان عوامی نمائندوں کی کیا حیثیت ہے، بہرحال یہ بھی شنید ہے کہ گیس پائپ لائنوں میں پانی کی سونامی عشرت سنیما روڈ سے شروع ہوتا ہوا آفریدی گڑھی اور ملحقہ علاقوں تک آن پہنچا تھا، جہاں پی ٹی آئی کی بعض انتہائی بااثر شخصیت کا بسیرا ہے چنانچہ ان کو اس سے نجات دلانے کیلئے آفریدی گڑھی پل کے قریب جاوید ٹاؤن کا مصفاء کنکشن ان کی طرف موڑ دیا اور جاوید ٹاؤن کا کنکشن اپنوں کو ریلیف دینے کی جانب کر دیا گیا، پہلے تو لکی ڈھیری جاوید ٹاؤن کے مکین یہ سمجھے تھے کہ وہ سونامی کی زد میں آگئے ہیں لیکن محکمۂ سوئی گیس کی ٹیموں کی ناکامی کے بعد یقین ہو گیا ہے کہ ان کی گیس پائپ لائن بھی چین کے عوام کی طرح کرونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے۔ قارئین دعا کریں کہ یہ وباء یہاں تک ہی محدود رہ کر ختم ہو جائے اور سارے شہر کی گیس پائپ لائنوں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے، کیونکہ محکمہ تو اس وائرس کے سامنے ناکام ہو گیا ہے کہ ان کو اب تک پتہ ہی نہیں چل پارہا ہے کہ ان کی پائپ لائن کو پانی وائرس کیسے لگ گیا۔