کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص تبدیل کرنے کیلئے بھارتی اقدام

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوںکی اکثریت ختم کرنے کیلئے مودی حکومت نے ایک اور اقدام اُٹھایا ہے’مقبوضہ کشمیر میں 37 نئے قوانین کے نفاذ کی منظوری دی گئی ہے ‘ ان نئے قوانین کی منظوری کے بعد بھارت کے شہریوں کیلئے کشمیر میں اراضی کا حصول ‘ بحالی اور آبادکاری ممکن ہو سکے گی۔یاد رہے اس سے قبل 370اور 35Aکی موجودگی میں بھارتی قوانین مقبوضہ کشمیر میںلاگو نہیںہو سکتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی فسادات جیسے واقعات خطے کیلئے تباہ کن ثابت ہوں گے جو محض خطے تک ہی محدود نہیںرہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میںلے لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں 20کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی تقریباً ایک کروڑ مسلمان آباد ہیںلیکن بھارت انہیں شہری حقوق فراہم کرنے کی بجائے طاقت کے زور پر اپنے ہی شہریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے بلکہ کشمیر میں تو چھ ماہ سے کرفیو کی صورتحال برقرار ہے’ محض مسلمانوںپر اکتفا نہیں بلکہ جو ہندو آزادیٔ اظہار رائے کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوںکے حق میں بات کرتے ہیں ‘ ہندو بلوائی انہیں بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ‘ گزشتہ دنوں مسلمانوں کے گھروں کو نذرآتش کرتے ہوئے ایک مسلمان فوجی کے گھر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا محض اس لئے کہ اس کا تعلق مسلمان گھرانے سے تھا۔ یاد رہے کہ بھارت اقلیتوںکے حوالے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے لیکن عالمی سطح پر اس کا کوئی نوٹس نہیںلیا جا رہا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں بلوائیوں کا نشانہ بننے والے مسلمان ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جانب سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے اور کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے بھارتی قوانین کو کالعدم قرار دے۔ اگر عالمی برادری نے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر مظالم کانوٹس نہ لیا تو کشمیری عوام مجبوراً اپنے حقوق اور آزادی کیلئے اُٹھ کھڑے ہوں گے اور پورا خطہ بھارت کی جارحیت کے باعث بدامنی کا شکار ہو جائے گا۔
فوری فراہمی انصاف کا خواب
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ میں زیر التواء مقدمات کو ترجیحی بنیادوںپر نمٹانے کے عزم کااظہار کیا ہے’ کمیٹی نے ریونیو اور بینکنگ کورٹس میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مالیاتی مقدمات میں جلد انصاف نہ ہونے کی صورت میں عوام اور ملکی معیشت متاثر ہو گی۔ انصاف کی فوری فراہمی نہ ہونے کی بنا پر لاکھوں کی تعداد میں مقدمات زیر التواء ہیں۔ ماتحت عدلیہ میں ایسے متعدد کیسز موجود ہیں جو برسوں سے چل رہے ہیں ‘ یا سماعت کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے زیر التواء مقدمات نمٹانے میں اگرچہ اہم کردار ادا کیا لیکن اب بھی زیر التواء کیسز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سابق چیف جسٹس نے ایک تقریب کے دوران انکشاف کیا تھا کہ عدلیہ کو ججز کی کمی کا سامنا ہے اگر ججز کی خالی آسامیوںکو پر کر دیا جائے اور مطلوبہ کمی کو دور کر دیاجائے تو زیر التواء مقدمات کی تعداد ختم ہو سکتی ہے’ وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ججز کی کمی کو دور کر دیا جائے گا ‘ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں تمام تر یقین دہانیاں پریس کانفرنسوں میں ہوتی ہیں یا جلسوں میںجبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ کو ہر سہولت فراہم کی جائے تاکہ فوری انصاف کی فراہمی کی راہ میںکوئی رکاوٹ حائل نہ ہو ۔
خوشحالی کے دور کے شروع ہونے کی نوید
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی دلچسپی کے باعث شہروں میں صاف پانی کی فراہمی’ ٹریفک کے مسائل سے چھٹکارا ‘ نکاسی آب ‘ سڑکوں کی تعمیر ‘ صفائی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ وزیر اعلیٰ سمیت حکومت کے اراکین عوام کو نوید سنا رہے ہیں کہ بہت جلد خوشحالی کا دور آنے والا ہے’ وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا ہے کہ وہ خوشحالی کی بات اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت کے پاس عوامی منصوبوں کیلئے ایک جامع پالیسی موجود ہے اور اس جامع منصوبے کے تحت صوبائی حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک سروے رپورٹ میں بھی چاروں وزرائے اعلیٰ میںسے وزیر اعلیٰ محمود خان کو کارکردگی کے اعتبار سے بہتر قرار دیا گیا ہے لیکن جس خوشحالی کی وزیر اعلیٰ بات کر رہے ہیں عوام میں سے اکثر کو اس پر یقین نہیں ہے کیونکہ موجودہ حالات پسماندگی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کیونکہ ہر دور میں عوام کو خوشحالی کے خواب دکھائے گئے ہیں ‘ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی معنوںمیں عوام کے مسائل کے حل کی تدبیر کی جائے اور کامیابی کا فیصلہ عوام پرچھوڑ دیا جائے۔