امریکہ’ طالبان تاریخی معاہدہ

29 فروری2020ء یقینا تاریخ عالم میں یادگار رہے گا۔ 1978ء میں جب روس نے افغانستان میں اپنی ایک لاکھ کیل کانٹے سے لیس افواج اُتاری تھیں تو دنیا بھر کے میڈیا ہائوسز’ اہل علم ودانش’ مؤرخین اور اصحاب اقتدار نے قسم قسم کے تبصرے کئے تھے۔ ایک دانشور کا یہ تبصرہ مجھے بہت اچھا لگا تھا کہ ”ایک صدی کے بعد ایک دفعہ پھر دو تاریخ (ہسٹری) آپس میں آمنے سامنے ہوئی ہیں یعنی افغانستان اور گریٹ سویت یونین ۔ ایک کی تاریخ یہ ہے کہ اپنے اوپر کسی حملہ آورکو برداشت نہیں کیا ہے اور دوسرے کی یہ کہ جہاں کہیں حملہ کیا ہے وہاں سے واپس نہیں آیا ہے۔ ایشیائے کوچک (سنٹرل ایشیا) کے سارے مسلم وعیسائی ریاستوں کو اسی طرح ایک ایک کرکے ہڑپ کیا اور سوویت یونین کا حصہ بناتے گئے لیکن آفرین ہو ان افغانوں پر جنہوں نے سکندر مقدونی سے لیکر برطانیہ کی سپرپاور اور پھر بیسویں صدی کے آدھی دنیا پر دبدبے کیساتھ راج کرنے والی سپرپاور کو بارہ برس کی خونریز اور صبرآزما جنگ کے بعد دریائے آموں کے پار بھیج دیا لیکن افسوس کہ لاکھوں جانوں کی قربانی رائیگاں تو نہیں گئی لیکن اس طرح ٹھکانے نہ لگی جس کیلئے سادہ ومخلص لوگوں نے سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور جب افغانستان کے اندر خانہ جنگی شروع ہوئی تو لاکھوں شہداء کے خاندانوں کو ذہنی اور روحانی اذیت ہوئی۔ یہ معاملہ اتنا طول پکڑ گیا کہ ایک دفعہ پھر کابل عالمی وعلاقائی قوتوں اور ملکوں کی سیاست کا گڑھ ٹھہرا اور پھر طالبان کی حکومت 9/11 کی نذر ہوگئی۔ اس دفعہ کھیل کے اصول اور قانون میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ روس کیخلاف جنگ میں افغانیوں کی پشت پر امریکہ’ سعودی عرب’ پاکستان اور ایران کھڑے تھے لیکن اس دفعہ جب امریکہ طالبان کو اسامہ کے نام پر سزا دینے آیا اور طالبان کابل چھوڑ کر پہاڑوں اور پڑوس کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے تو صورتحال بہت عجیب تھی۔پاکستان میں پرویز مشرف نے طالبان کیساتھ اور عالمی قوت کیساتھ الگ الگ معاملہ کرنے کی بڑی ہوشیاری کی لیکن تابہ کے۔ آخر پاکستان کو اس کی ناقص حکمت عملی اور پالیسی کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ افغان قوم تو چالیس برس سے جس جہنم سے گزری’ سو گزری’ کوئی اور قوم ہوتی تو یقینا سرنڈر ہوجاتی لیکن یہ سخت جان افغان طالبان کہ ایک طرف سپرپاور ہے دوسری طرف اپنی ہی قوم کے کرزئی اور اشرف غنی وعبداللہ عبداللہ ہیں اور تیسری طرف عالم اسلام کے اہم ممالک ہیں جو ٹک ٹک دیدم اور اپنے مفادات کے نام پر کبھی کچھ، کبھی کچھ کی صورتحال کے شکار رہے’ پھر بھی سرخرو ٹھہرے۔ آج ایک دنیا ان کی اولوالعزمی صبر وثبات اور اپنے مؤقف پر قائم رہنے کو سلام پیش کر رہی ہے۔تاریخی معاہدہ’ طالبان’ سپرپاور امریکہ’ نیٹو’ روس’ چین’ پاکستان’ ایران کتابوں کا موضوع ہے، کالم کے تنگ دامنی میں صرف اشارے ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں انسانیت دوبارہ ایسی صورتحال سے دوچار نہ ہو۔ لیکن یہ بات سوچ سوچ کر حساس ذہن ودل کے مالک لوگ یقینا تکلیف واذیت میں مبتلا ہیں کہ کاش اس معاہدے تک فریقین کھربوں ڈالر کے مالی نقصانات اور لاکھوں جانوں کے ضیاع کے بغیر پہنچا جاتا تو کتنا بہتر ہوتا۔ دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان دو کاغذوں پر دو قلموں کے ذریعے دستخط اور بس۔ سچ کہا ہے کسی نے
رنگ و رس کی ہوس اور بس
مسئلہ دسترس اور بس
سب تماشائے کن ختم شد
کہہ دیا اس نے بس اور بس
اس معاہدہ سے جہاں ایک طرف امریکی صدر نومبر کے انتخابات میں مستفید ہونے کیلئے اُمیدوار ہیں’ دوسری طرف پاکستان اور افغانستان میں خوشیاں ہیں کہ امن کے معاہدہ میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ اور کردار ہے۔ بھارت ظاہراً پچھاڑا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس نے یہاں جو سرمایہ کاری کی ہے وہ اتنی آسانی سے اسے بھولنے والا نہیں۔ اس معاہدہ کے حوالے سے اہم باتیں تو تب سامنے آئیں گی جب انٹرا افغان مذاکرات ہوں گے۔اشرف غنی’ عبداللہ عبداللہ’ تاجک’ ازبک’ ہزارہ اور ایران و پاکستان کے ہمسایانہ اثرات’ گلبدین حکمت یار اور دیگر بہت سارے عناصر کے معاملات ومطالبات سامنے آئیں گے۔ افغانوں کا مزاج قبائلی ہے، طالبان وقت اور حالات سے بہت سارے سبق سیکھ چکے ہیں۔ یہ 1996ء کے دورکے طالبان نہیں ہیں لیکن آخر ہیں طالبان اور افغانستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر قابض ہیں۔ ادھر اشرف غنی الیکشن اور امریکی اشیرواد سے ایک مقام رکھتا ہے لہٰذا ہماری دعا تو یہی ہے کہ امن معاہدہ کامیابی سے ہمکنار ہو لیکن معاملات بہت پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو معاملات کہیں پھر بندوق کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی سپرپاور اور بالخصوص بھارت پاکستان پر الزامات لگانے سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا پاکستان کے مقتدروں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں نیوٹرل (غیر جانبدار) رہنا چاہئے۔ ہاں اگر فریقین کہیں متفق ہو کر پاکستان سے مدد طلب کریں تو مسلمان پڑوسی ملک کی حیثیت سے مصالحانہ کردار ادا کرے۔ عمران خان اس ہدف کے حصول کیلئے پاکستان کے اندر سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے جس طرح مسئلہ کشمیر پر سب پاکستانی اور سیاسی جماعتیں متفق الرائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ افغانستان میں معاہدہ امن کو صحیح معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین