امن معاہدہ’ کیا خانہ جنگی کا خطرہ ٹل گیا؟

امریکہ اور امارت اسلامی افغانستان کے مقتدرین کے درمیان د وحہ میں امن معاہدے کے چوبیس گھنٹے گزرنے سے قبل ہی افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے معاہدے میں شامل طالبان قیدیوں کی رہائی کی اہم شرط سے پیچھے ہٹ جانا امن معاہدے کی دیوار سے پہلی اینٹ نکالنے کے مترادف ہے جس کے بعد امن معاہدے کا مستقبل ہی نہیں، افغانستان میں بین الافغان مذاکرات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ دوحہ امن معاہدہ اس لحاظ سے اپنی نوعیت میں انوکھا معاہدہ تھا جس میں اس ملک کی حکومت ہی شریک نہیں تھی جس ملک میں قیام امن کیلئے معاہدہ ہو رہا تھا۔ علاوہ ازیں امارت اسلامی افغانستان سے معاہدے کا مطلب افغانستان میں طالبان کے زیرقبضہ علاقوں میں ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا جس کا خاتمہ اٹھارہ سال قبل انہی قوتوں کے ہاتھوں ہوا تھا جو میز پر ایک فریق کے طور پر د ستخط کر رہے تھے۔ اٹھارہ سالوں میں افغانستان تباہی وبربادی سے دوچار ہوا’ ہزاروں افراد مارے گئے جس کا حاصل وصول امریکہ اور طالبان کے ایک دوسرے سے معاملت پر تیار ہونا ہے۔ امریکہ نے طالبان کو دہشت گرد کی بجائے امارت اسلامی افغانستان کے نمائندے کے طور پر تسلیم کیا توطالبان نے امریکہ سے بات چیت اور امن معاہدہ کیلئے گوارا کیا۔ قبل ازیں وہ غیرمشروط طور پر امریکہ کا مکمل انخلاء پر زور دیتے آئے ہیں اور امریکہ سے کسی قسم کی بات چیت کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ سوچ کی یہ تبدیلی مجبوری کی شادی ہے یا پھر فریقین اس امر کا احساس کر چکے ہیں کہ تلخ حقیقت یہی ہے کہ نہ تو امریکہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے طالبان کو زیر کرسکتا ہے اور نہ ہی طالبان اپنے زوربازو سے امریکہ کو افغانستان سے بے دخل کرسکتا ہے۔ مذاکرات اور معاہدے کا مطلب ایک دوسرے کو تسلیم کرنا اور ایک دوسرے کی اہمیت کا قائل ہونا اور مسئلے کے پرامن حل کی طرف آمادگی ہے۔ اس حد تک تو بات بن گئی ہے مگر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے معاملات سے قطع نظر یہ امربخوبی واضح ہے کہ امریکہ کو کسی طرح سے افغانستان سے انخلاء کی تعجیل ہے اور امریکہ کو افغانستان میں قیام امن اور اس ساری تپسیا سے بھی اب زیادہ غرض نہیں جو اٹھارہ سالوں پر مبنی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو معاہدے پر دستخطوں کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی افغان صدر اشرف غنی کی پریس کانفرنس سے ایک نئی خانہ جنگی کا نقارہ بج چکا ہے۔ افغان طالبان اگر اس امن معاہدے سے کچھ حاصل کرسکیں گے یا اب تک اس عمل سے ان کو جو ریلیف ملا ہے وہ ان کے اہم ساتھیوں کی رہائی اور تمام طالبان قیدیوں کی ممکنہ رہائی ہے، اس سے زیادہ اہمیت کاحامل معاملہ ان کا امریکی نمائندے کیساتھ بیٹھنا ہے لیکن دسری جانب امریکہ سے معاملت خود طالبان کیلئے دوسری تلوار بھی ہے کیونکہ کم از کم دوحہ امن معاہدہ طالبان کی جانب سے اپنے مؤقف سے ہٹنا نہیں تو اپنے مؤقف میں نرمی لانے کا اظہار ضرور ہے۔ اس معاملے پر سارے طالبان رہنمائوں کا اتفاق تھا یا نہیں ابھی اس پر سے پردہ ہٹنے کا عمل باقی ہے البتہ بعض اہم طالبان رہنمائوں کی جانب سے اس معاہدے کی مخالفت اور طالبان کے پرانے سخت گیر مؤقف پر قائم رہنے کی غیرمصدقہ اطلاعات اور امکانات سامنے آئے ہیں۔ یہ امر بہرحال خارج از امکان نہیں ان تمام عوامل سے قطع نظر اصل صورتحال آئندہ ہفتہ عشرہ میں جب بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوگا اس کے بعد ہی امن معاہدے کے نفاذ، اس پر عملدرآمد اور اس کی شرائط وغیرہ کے معاملات کی حقیقت اور مشکلات سامنے آئیں گی۔ کابل حکومت کے اعلان کے بعد اور ایک اہم شرط سے انحراف پر طالبان کا ردعمل فطری ہوگا۔ امریکہ نے یہ شرط کیوں تسلیم کی اورافغان حکومت امن معاہدے پر دستخط سے قبل اسے خوش آئند قرار دے کر اور اس کی حمایت کا اعلان کرکے اب قیدیوں کی رہائی کی شرط سے پیچھے کیوں ہٹ گئی ہے؟ اس معلوم شرط کو اس پریس کانفرنس میں ہی رد کیوں نہ کیاگیا یہ اور اس جیسے بہت سے سوالات ہیں جو امن معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے شکوک وشبہات کا باعث ہیں۔ اشرف غنی کی پریس کانفرنس سے افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات اورایک مرتبہ پھر افغان گروپوں’ افغان حکومت اور امارت اسلامی افغانستان کے درمیان تصادم کے خطرات کے امکانات نظر آتے ہیں جو افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کے امکانات کم اور افغانستان کی تقسیم کے خدشات کا زیادہ باعث بن سکتے ہیں۔ افغانستان کے مسائل کا حل دوحہ امن معاہدہ نہیں بلکہ بین الافغان مذاکرات کے بعد کوئی طے شدہ متفقہ فارمولہ اور بین الافغان معاہدہ ہی مستحکم امن اور افغانستان کی تقسیم کے خدشات کو دور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ جب تک افغانستان کے تمام گروپوں کی نمائندگی مشاورت اور رضا مندی سے کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا اور افغان گروپ کسی منصوبے پر اتفاق نہیں کرتے اس وقت تک قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ امریکہ کی واپسی کے بعد افغانوں کو زیادہ ذمہ دارانہ کردار کامظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنے مسائل کا اپنے آپ حل تلاش کرنا ہوگا تبھی افغانستان میں امن کا قیام اور افغان مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، یہ منزل مشکل اور دور ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔