قصہ ایک بیماری کا

بیماریوں کی بہت سی اقسام ہیں لیکن آج ہم جس بیماری کا ذکرکرنے جارہے ہیں وہ ذرا مختلف قسم کی ہے، اس میں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھتا بلکہ کچھ زیادہ ہی تندرست سمجھتا ہے اور ہر وقت اپنی عقل پر نازاں رہتا ہے۔ اس انتہائی مہلک بیماری کا نام ہے کنجوسی! کہتے ہیں کہ کنجوسوں کی مختلف قسمیں ہیں، ایک وہ جو کسی پر ایک روپیہ خرچ کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ دوسری قسم وہ ہے جو خود تو خوب کھاتے پیتے ہیں لیکن دوسروں کو کھلانے سے ان کی جان نکلتی ہے اور تیسری قسم سب سے خوفناک ہے اور ان پر ترس آتا ہے یہ خود بھی نہیں کھاتے اور دوسروں کو بھی نہیں کھلاتے۔ ہم ایک بہت ہی صاحب حیثیت شخص کو جانتے ہیں جو بہت بڑی جائیداد کے مالک ہیں، جن کے گیراج میں تین تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتی ہیں لیکن جب وہ گھر سے نکلتے ہیں تو باہر چوک میں کھڑے ہوکر انتظار کرتے ہیں کہ کوئی واقف کار موٹرسائیل سوار نظر آئے تو اس کیساتھ بیٹھ کر منزل مقصود پر پہنچ جائیں۔ مالدار آدمی کی دولت گھر میں ہوتی ہے یا بینک میں وہ خرچ کرے یا نہ کرے لیکن اس کی عزت کرنے والے بہت ہوتے ہیں۔ ہر شخص ان کیساتھ علیک سلیک کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے، ہمارے پڑوس میں ایک بہت ہی مالدار شخص تھے ان کا اچھا خاصہ کاروبار تھا لیکن ہم نے پوری زندگی انہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں دیکھا۔ پشاور کی دکانوں پر قہوہ اور چائے پینے کا بہت رواج ہے لیکن انہوں نے کبھی اپنے لئے چائے نہیں منگوائی، اگر کسی پڑوسی دکاندار نے قہوے کی ایک پیالی بھجوا دی تو انہوں نے پی لی ورنہ صبح سے شام تک بغیر کچھ کھائے پیے دکان پر بیٹھے رہتے۔ آج کل ان کے بچے ان کی کمائی ہوئی دولت بڑی بیدردی سے اُڑا رہے ہیں۔دو دن پہلے ایک دوست نے ایک کروڑپتی تاجر کا قصہ سنایا جو ان کا آنکھوں دیکھا تھا لیکن یقین مانئے ہمیں ان کی بات پر اب بھی بڑی حیرانی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ تاجر بہت بڑی جائیداد کا مالک ہے جس کی صرف کرائے کی ماہوار آمدن لاکھوں روپے ہے، اس کے علاوہ بہت سے کاروبار الگ سے چل رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ جب حج کیلئے تشریف لے گئے تو کھانے کے وقت ایک ہوٹل والے سے کھانا مانگ کر کھا لیتے تھے، ہوٹل کے مالک سے کہا کہ آپ انہیں مفت کھانا کیوں دیتے ہو یہ تو خود بڑے صاحب حیثیت ہیں، تو کہنے لگا کہ میں کیا کروں جب کھانے کا وقت ہوتا ہے تو یہ تشریف لے آتے ہیں، تو ہم انہیں کھانا دے دیتے ہیں۔ یہ کھانا کھا کر بغیر بل ادا کئے چپکے سے چلے جاتے ہیں، اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے بھی ہمیں کسی ماہرنفسیات کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی! جس طرح سکاٹ لینڈ والوں کی کنجوسی دنیا بھر میں مشہور ہے اسی طرح ہمارے یہاں بھی چند برادریوں کی کنجوسی ضرب المثل ہے۔ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو پہلے آپ یہ لطیفہ پڑھ لیں۔ ایک عربی شدید بیمار تھا، اس کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی، اسے ڈاکٹروں نے کہا کہ تمہارے لئے ایک بوتل خون بہت ضروری ہے، اس کا جلدی سے بندوبست ہونا چاہئے۔ اس کے بیٹوں نے خون کیلئے بھاگ دوڑ کی تو ایک صاحب خون دینے کیلئے آمادہ ہو گئے جو عربی نہیں تھے، عربی بہت جلد صحت یاب ہوگیا، وہ بڑا خوش بھی تھا اور اس شخص کا شکرگزار بھی، اس نے اسے ایک مرسڈیز گاڑی تحفے میں دے ڈالی، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد وہ عربی پھر شدید بیمار ہوگیا اور اسے جان کے لالے پڑ گئے، پھر ڈاکٹروں نے خون مانگا اسی شخص کو پھر کہا گیا اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اس نے خوشی خوشی خون دیدیا، وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ ایک مرسڈیز گاڑی کے عوض یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔ عربی صحت مند ہوگیا اس شخص کا بڑا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا، تم نے دو مرتبہ میری جان بچائی ہے۔ اس کے بعد اس نے شکرگزاری کے طور پر پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ اس کی خدمت میں پیش کیا، پھول دیکھ کر وہ شخص بڑا مایوس ہوا، پہلے تو خاموش رہا لیکن پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہنے لگا کہ پہلے جب میں نے آپ کو خون دیا تھا تو آپ نے مجھے مرسڈیز گاڑی تحفے میں دی تھی لیکن اس مرتبہ صرف پھول یہ کیا ماجرا ہے؟ عربی اس کی بات سن کر ہنس پڑا پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ بھائی یہ تو سوچو کہ اب ہماری رگوں میں آپ کا خون دوڑ رہا ہے اس کا کچھ تو اثر ہوگا! ہم بزرگوں سے سنتے چلے آئے ہیں کہ سال کے بعد کنجوس اور سخی کا حساب کتاب برابر ہو جاتا ہے، کنجوس بیچارا کوڑی کوڑی جمع کرتا ہے لیکن سال میں ایک آدھ ایسا نقصان ہو جاتا ہے کہ جس میں بہت سا مال ضائع ہو جاتا ہے اور سخی اسی رقم کو اللہ کے نام پر دے کر بہت سا اجر وثواب بھی کما لیتا ہے، سکون سے زندگی بھی گزارتا ہے۔ کنجوسی قابل مذّمت ہے لیکن کفایت شعاری احسن ہے اسی طرح سخاوت اور اسراف میں بھی بڑا فرق ہے اسی لئے ہمارے دین میں فضول خرچ کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ انسان کا جو مال جہاں بھی ضائع ہوتا ہے وہ صدقہ و زکواة کے روکنے کی وجہ سے ہوتا ہے! رزق حلال اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے خود بھی کھانا چاہئے اور دوسروں کو بھی کھلانا چاہئے۔ سخی کا یہ یقین ہوتا ہے کہ میرا رازق اللہ ہے، میں خرچ کروں گا تو وہ اور دے گا جبکہ کنجوس ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ مال ختم ہو گیا تو محتاج ہو جاؤں گا۔