ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی پرعملدرآمد کون کرائے گا؟

صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف شہروں کے مابین اور اندرون شہرڈیزل سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کے کرائے میں تقریباً 4.2فیصد کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کرایوں میں کمی کا اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کے نرخوں میں کمی کے تناسب سے کیا گیا ہے۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے باوجود اندرون شہر پشاور میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے کرایوں میں کمی نہ آسکی۔ مرکزی حکومت کے اعلان کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں کمی لائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود جنرل بس سٹینڈ کارخانو سے حیات آباد تک چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے کرائے کم نہیں کئے گئے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے کرایوں میں کمی کاجو رسمی اعلان ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کا کوئی مؤثر اور فوری طریقہ کار نہ ہونے پر اس پر کان نہ دھرنے کا وتیرہ معمول کاعمل ہے۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق کرایوں میں کمی کے اعلان پر عمل درآمد نہ ہونا ہی مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرانسپورٹرز سرکاری کرایہ نامہ اور مسافروں کی سہولت، سیٹوں کی تعداد اور مسافروں کی تعداد سمیت کسی بھی امر کو خاطر میں نہ لانے کے عادی ہیں۔ جب قانون شکنی اورکمزور انتظامی گرفت معمول کی بات ہو ایسے میں کرایوں میں کمی کے اعلامیہ کا اجراء محض تکلف ہے۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اگر واقعی کرایوں میں کمی کی خواہاں ہے تو اسے ٹریفک پولیس کیساتھ مل کر جگہ جگہ لمبی مسافت کی بسوں اور شہروں و قصبات کے اندر چلنے والی گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے وصول شدہ کرایوں کی بابت معلومات حاصل کریں اور خلاف ورزی پر موقع پر جرمانہ وچالان کیاجائے۔ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے بے خبر حکام کو شاید یہ علم نہیں کہ بعض روٹس پر چلنے والی گاڑیوں میں مسافروں سے تقریباً ڈبل کرایہ وصول کیاجاتا ہے بہرحال اس سے قطع نظر زائد کرایہ وصولی معمول کی بات ہے جس کیخلاف مہم کی کبھی حکام کو توفیق ہی نہیں ہوتی۔ بس اڈوں سے روانہ اور اڈوں پر داخل ہونے والی گاڑیوں کے مسافروں سے کرایوں کی بابت معلومات زیادہ مشکل کام نہیں، اسی طرح شہری ٹرانسپورٹ میں سرکاری اہلکار بیٹھ کر کرایہ وصولی کاجائزہ لیں تو موقع پر ہی حقیقت سامنے آجائے گی۔ جہاں سرکاری دفتروں میں بیٹھ کر کاغذ کا ایک پرزہ جاری کرنا ہی سب کچھ ہو وہاں پر اس پر عملدرآمد کاعمل بھی اسی طرح کا ہونا فطری امر ہے جیسا کہ عملی طور پر ہو رہاہے۔
بلاوجہ کی شکایات سے گریز کیا جائے
ریگی ماڈل ٹائون کے مکینوں کی طرف سے بار بار اس قسم کا حیرت انگیز مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رات گئے گھروں کی تعمیر کیلئے عمارتی سامان لانے سے ان کے آرام میں خلل واقع ہوتاہے، ایسا ہونا فطری امر ضرور ہے لیکن اس کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دے کر دن کے اوقات میں سامان لانے کامطالبہ بچگانہ ہے۔ دن کے اوقات میں ٹریفک رش کے باعث بھاری گاڑیوں کا شہر میں داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ جہاں تک تعمیراتی کاموں کا سوال ہے اس کی نہ تو روک تھام ممکن ہے اور نہ ہی میٹریل لانے کا کوئی وقت مقرر کرنا ممکن ہے، تعمیراتی میٹریل روزانہ کی بنیاد پر نہیں لایا جاتا اور نہ ہی ایک ہی گلی محلے سے ہی روزانہ ٹرک اور ڈمپر گزرتے ہیں صرف اس گلی میں ہی زیر تعمیر مکانات کیلئے تعمیراتی مواد لایا جاتا ہے جو لوگ گھر بنا کر مقیم ہیں۔ انہوں نے بھی یہی کچھ کیا ہوگا دوسروں کی باری آنے پر شکایت اور انتظامیہ کو کوسنا چہ معنی دارد۔شہریوں کو اس قسم کی شکایات سے پرہیز کرنا چاہئے جو وقتی ہوں اور جن کا ازالہ کسی ادارے کے دائرہ کار میں نہ آتا ہو۔
کبوتر بازی یا جوا
راجن پور سے پشاور تک کبوتروں کی ریس کے حوالے سے جو خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں ان سے واضح طور پر اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ کبوتر باز ریس کے نام پر باقاعدہ جوا بازی کر رہے ہیں۔ جوا بازی کی کئی قسمیں ہیں کبوترریس ان میں سے ایک ہے۔ اس طرح کھلے عام جوا بازی سے معاشرے میں جوے کو رواج مل رہا ہے جس کیخلاف انتظامیہ کو سخت ایکشن لینا چاہئے۔ جوا بازی کی پوری روداد اور جو تفصیلات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کی روشنی میں کبوتر بازوں کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے تاکہ اس روایت کی روک تھام کی جاسکے۔