امریکہ طالبان معاہدہ، پاکستان کا پالیسی بیان

اسلام آباد : وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا سینیٹ میں اظہارخیال،افغانستان میں19 سال کی جنگ آسان نہ تھی
امریکہ طالبان معاہدے میں بہت سی رکاوٹیں حائل رہیں.افغانستان میں تمام فریقوں کو ایک معاہدے پر متفق کرنا بھی آسان نہ تھا.افغان مسئلے کا حل کبھی بھی جنگ نہ تھابلکہ مذاکرات ہی واحد حل ہے.

وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغا ن جنگ میں ہزاروں جانوں اور ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا ضیاع ہوا. بہت سی قوتیں آج بھی ہیں جو افغانستان میں امن نہیں چاہتیں.افغان طالبان مذاکرات میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا.
افغانستان کے مسئلے کا حل صرف افغانوں نے ہی کرنا ہے.

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ذمہ دارانہ طریقے سے ہونا چاہیے، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء میں کل 14 ماہ لگیں گے. قیدیوں کا تبادلہ یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے.

وزیرخارجہ کہ مزید کہنا تھا کہ انٹراافغان مذاکرات کیلئے تمام افغان فریقوں میں مفاہمت ہونا ضروری ہے،افغانستان پر لگائی گئی پابندیاں ہٹا نے کیلئے امریکہ اپنے حلیفوں سے مشاورت کرے گا.امریکہ اور دوسری قوتیں افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گی.

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے بھی تعاون کرے گا. پاکستان کی پہلے اور اب بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہو.پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے. افغانستان میں امن سے دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا شاہ محمود قریشی کا سینیٹ میں اظہارخیال.