بین الافغان مذاکرات آغاز سے قبل ہی خطرے میں

امن معاہدے کو اشرف غنی کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کے دھچکے کے بعد دوسرا دھچکا طالبان کی جانب سے افغان فورسز پر حملے کرنے کے ردعمل پر لگا ہے جس کے بعد بین الا فغان مذاکرات شروع ہونے کا عمل ہفتے کی مسافت پر ہونے کے باوجود ممکن نظر نہیں آتا۔ طالبان نے غیرملکی افواج کے انخلاء اور ان سے طے شدہ معاہدے کی پوری پابندی کا عندیہ دہرایا ہے لیکن غیرملکی افواج کے انخلاء کیلئے شرائط کی پابندی نہ ہوئی اور خاص طور پر طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو دس مارچ تک رہا نہ کیا گیا تو بین الافغان مذاکرات کیساتھ ساتھ غیرملکی فوجیوں کے انخلاء کے عمل میں بھی رخنہ آسکتا ہے۔ امریکی عہدیداروں کی طالبان قیدیوں کی رہائی کی شرط تسلیم کرنے کے بعد اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شرط پر عملدرآمد راہ نکالے۔ طالبان کیلئے اس شرط پر عمل درآمد اٹل ہے اور اگر دیکھا جائے تو معاہدے میں یہی بات ان کے حق میں جاتی ہے، افغانستان میں قیام امن کی سنجیدہ کوشش اعتماد سازی اور دوطرفہ ٹھوس کوششوں کے بغیر ممکن نہیں، معاہدے پر عملدرآمد میں ایک ہفتے کی مدت کوئی زیادہ وقت نہیں، اس شرط پر عدم عملدرآمد کی صورت میں ممکنہ منظر نامہ طالبان کے مقابلے میں کابل حکومت کیلئے سخت نظر آتا ہے کہ ان کو جہاں ایک جانب امریکہ کی چھتری میسر نہیں رہے گی وہاں طالبان کیلئے غیرملکی فوجیوں سے مڈبھیڑ کے بغیر افغان فورسز کو نشانہ بنانا پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگا۔ افغان حکومت اور فورسز کی صفوں میں ایسے عناصر موجود ہوسکتے ہیں جو طالبان سے مل جائیں، تخت کابل اور صدر اشرف غنی کا انتخاب اور ایک اور مدت کیلئے ان کا بطور صدر حلف اُٹھانے اور کابینہ کی تشکیل، ان تمام مراحل سے اشرف غنی کا کامیاب وکامران گزرنا اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کی جانب سے اشرف غنی کو صدر تسلیم کرنے کا عمل جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایسے میں اشرف غنی نے اپنے مربی امریکہ اور مخالفین طالبان کو دعوت مبازرت دے کر نہ صرف افغانستان کے امن عمل کو خطرے سے دوچار کردیا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی طوفان کی زد میں لاکھڑا کردیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اس قضئے کا کوئی نہ کوئی حل نہ نکل آیا اور شرط کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی نہ ہوئی تو افغانستان میں امن کی بجائے کشیدگی کے سائے گہرے ہوسکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے کوشاں تمام فریقوں کو ان تمام امور کا بخوبی احساس ہوگا اور خود اشرف غنی بھی انکار کی قیمت کا اندازہ لگا چکے ہوں گے۔ ایک ایسے موقع پر جب افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء اور قیام امن کی ابتداء ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے بہتر ہوگا کہ معاملے کے تمام فریق ان شرائط ومعاہدوں اور اس پر عمل درآمد میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی سعی کریں۔ افغان صدر کے لچک دکھانے کی صورت میں ہی بین الافغان مذاکرات ممکن ہوں گے۔ امن معاہدے سے افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی جو راہ ہموار ہوئی ہے یہاں پہنچنے تک افغانستان میں کتنا کشت وخوں ہوا اور اس کیلئے دنیا کے مختلف ممالک کو خفیہ یا اعلانیہ کتنے پاپڑ بیلنے پڑے اس سے قطع نظر اب یہ افغان قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس ہاتھ آئے زریں موقع سے کس حد تک فائدہ اُٹھاتے ہیں یا خدانخواستہ پھر یہ موقع ضائع ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن واستحکام امن کیلئے اقدامات افغان قیادت نے ہی کرنے ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریق ایسے اقدامات اور افعال سے گریز کریں جس سے امن معاہدہ خطرے میں پڑ جائے۔ افغانستان میں بے نتیجہ جنگ اور افغان گروپوں کی آپس کی لڑائی کے نتائج سب کے سامنے ہے اب جبکہ ایک اُمید نظر آتی ہے تو اختلافات کی بجائے مفاہمت اور قربانی سے کام لیا جائے اور مل بیٹھ کر اختلافات طے کئے جائیں اور افغانستان میں امن واستحکام کے نئے سفر کا آغاز کیا جائے یہی وقت کا تقاضا اور تباہ حال وجنگ زدہ افغان عوام کے دکھوں کا مدوا ہے۔