بے حسی کی انتہا

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے افسوس ہم نہ ہوں گے! ایک پرانے گیت کے یہ بول اپنے اندر کتنی جاذبیت رکھتے ہیں، یقینا زندگی سے سبھی کو پیار ہوتا ہے سب جینا چاہتے ہیں اور خوشی سے جینا چاہتے ہیں۔ دنیا اُمید پر قائم ہے جو زندگی کی 80بہاریں دیکھ چکے ہیں وہ بھی رخصتی کے حوالے سے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اگر ان کی محفل میں بیٹھنے کا موقع ملے تو آنے والے وقت کے حوالے سے ان کے منصوبے جان کر حیرت ہوتی ہے، سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں! بات تو سچ ہے مگر اس کے بھی بہت سے پہلو ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب پل کی خبر نہیں ہے تو پھر اتنے بکھیڑوں میں پڑنے کا کیا فائدہ ؟ زندگی سادگی سے گزارنی چاہئے، مسافر کے پاس ساز وسامان کم ہو تو سفر میں آسانی ہوتی ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منسوب یہ واقعہ انہیں بہت اچھا لگتا ہے، کہتے ہیں حضرت عیسیٰ کے پاس پانی پینے کیلئے مٹی کا ایک پیالہ تھا، ایک مرتبہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دریا کے کنارے بیٹھا اوک سے پانی پی رہا ہے تو انہوں نے اپنا مٹی کا پیالہ یہ کہہ کر پھینک دیا کہ جب ہاتھوں سے پانی پیا جاسکتا ہے تو پھر اس پیالے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن لوگوں کی ایک کثیر تعداد ایسی بھی ہے جن کے پاس اتنا مال ومتاع ہے جو کئی پشتوں تک ختم نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود بھی وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، مال کی ہوس ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اس کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے کہ اسے پینے والے کی پیاس مزید بڑھتی چلی جاتی ہے اور پھر یہ پانی پیتے پیتے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے! گیت کا یہ ٹکڑا ”افسوس ہم نہ ہوں گے” چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہا ہے کہ ہمیں دنیا سے پیار ہے، دنیا کی رونق اس کے میلے ٹھیلے حضرت انسان کو باندھ کر رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ یقینا زندگی اپنی پوری آب وتاب اور تابانیوں کیساتھ رواں دواں ہے۔ کہتے ہیں خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے! اگر یہ بات سچ ہے تو پھر دنیا کی خوبصورتیاں ہوں یا بدصورتیاں ان کا تعلق دیکھنے والی آنکھ سے ہوتا ہے۔ پھر اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ نے کسی منظر کو کس طرح دیکھا کس سوچ کیساتھ دیکھا، آپ کے نزدیک کس چیز کی اہمیت زیادہ ہے اور آپ کن چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، یوں کہہ سکتے ہیں کہ منظر اہم نہیں ہوتا دیکھنے والی آنکھ ہوتی ہے، وہ دماغ ہوتا ہے وہ سوچ ہوتی ہے جو چیزوں کو دیکھنے کیساتھ ساتھ ان کے بارے میں رائے بھی قائم کرتی چلی جاتی ہے۔ آج کی سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے کرونا وائرس کی ہے، اس نے چین میں ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا، اب یہ آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ وائرس تو ایک ہی ہے لیکن سب اسے اپنے اپنے انداز سے دیکھ رہے ہیں اس کی دہشت ناکی بھی اپنی جگہ لیکن یہ جہاں بھی جاتا ہے اس کا استقبال اپنے اپنے انداز سے کیا جارہا ہے۔ چین کی معیشت کو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے لیکن چینی دل وجاں کی پوری توانائیوں سے اس عفریت کا مقابلہ کررہے ہیںاور بہت جلد اس کیلئے ویکسین بھی تیار کرنے میں کامیاب ہوجائینگے۔ اسرائیل نے تو یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ چند دنوں میں اس کی ویکسین دنیا کے سامنے پیش کردے گا! وطن عزیز پر اللہ کریم کا بڑا کرم ہے، ہمارے یہاں اس کے صرف پانچ کیسز سامنے آئے ہیں جن کی حالت خطر ے سے باہر ہے۔ ان کا علاج کیا جارہا وہ چند دنوں میں صحت یاب ہوجائیں گے انشاء اللہ! اب وطن عزیز میں کرونا کا کس طرح استقبال کیا گیا، ایک نظر اس پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو کرونا وائرس کے حوالے سے گھر بیٹھے حکیموں کی فوج ظفرموج عالم وجود میں آگئی ہے، سوشل میڈیا پر ایسے ایسے مشورے دئیے جارہے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر دنیا بھر کے نامی گرامی ڈاکٹر سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان ابھی تک اس مصیبت سے بچا ہوا ہے لیکن ہمارے حکیم اپنے مفید مشوروں سے یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ہم کرونا وائرس کے چنگل میں پھنس چکے ہیں، وہ اس بات سے شاید بے خبر ہیں کہ دشمن میڈیا شور مچا مچا کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ پاکستان بھی کرونا وائرس کے نرغے میں بری طرح گرفتار ہے، ہماری معیشت پہلے ہی یرقان زدہ مریض کی طرح کمزور ہے خدا کیلئے پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا مت کریں، سعودی عرب نے عمرے پر عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے ہمیں ہر روز کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر بیس کروڑ کی آبادی میں پانچ کیسز سامنے آئے ہیں تو یہ خطرے والی بات نہیں ہے۔ چین کی معیشت بہت مضبوط ہے وہ تو یہ خسارا برداشت کرسکتے ہیں، اسی طرح ایران تیل کی دولت سے مالامال ملک ہے وہ بھی یہ نقصان برداشت کر جائیگا، اس قسم کی افواہوں سے ہماری صنعتیں اور ایکسپورٹ بند ہوسکتی ہیں، ان افواہوں کیساتھ ساتھ ہمارا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ماسک مارکیٹ سے غائب کر دئیے گئے ہیں۔ پانچ روپے والے ماسک کی قیمت اب 80روپے ہو چکی ہے۔ ماسک کے جس پیکٹ کی قیمت نوے روپے تھی اب وہ پندرہ سو روپے ہوچکی ہے! کیا یہ بے حسی کی انتہا نہیں ہے؟ کرونا وائرس کی تباہیاں تو سب کیلئے ایک جیسی ہیں لیکن ہم اس عذاب الٰہی سے جس طرح فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے ہیں وہ یقینا قابل مذمت ہے!