او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف ایلڈوبے کی وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے ملاقات

وزیراعظم آزادکشمیر کی وفد کو مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ۔ اوآئی سی کے وفد کو آزادکشمیر آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ کشمیریوں کو آو آئی سی سے جو توقعات وابستہ تھیں بدقسمتی سے ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی سربراہ اجلاس بلایا جانا ناگزیر ہے۔ او آئی سی ہندوستان پر دباو ڈالے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جاے۔ او آئی سی کا وفد مقبوضہ کشمیر بھی جاے اور وہاں جاکر عام لوگوں کے تاثرات جانے۔ 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ عوام محاصرے میں ہیں۔ 13 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 144 بچے 9 سال سے کم عمر کے ہیں۔ 1989 سے لیکر اب تک 10 ہزار سے زائد لوگ غائب ہیں 6228 گمنام قبریں بھی ملی ہیں۔ ہندوستانی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور کشمیری عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کی کھلی چھوٹ ہے۔ ایک لاکھ لوگ شہید کردیے گئے آج تک کسی ایک ہندوستانی فوجی کو سزا نہیں ہوئی۔ ہندوستان نے فوجیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون بنایا ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کلسٹر بم استعمال کررہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے بازار گھر ہسپتال مسافر بسوں تک کوئی محفوظ نہیں۔ پاکستانی فوج دوسری جانب شہری آبادی پر فائرنگ نہیں کرتی کیونکہ مقامی لوگ مسلمان اور پاکستان کے حمایتی ہیں۔ او آئی سی امت واحدہ کے تصور کے تحت بنی تھی اپنے بھائیوں پر ہونیوالے مظالم پر بھرپور کردار ادا کرے۔ اگر ہم اپنے بھائیوں کے لیے کچھ نا کرسکے تو روز قیامت اپنے پیارے آقا کو کیا منہ دکھائیں گے۔ مودی نے کشمیر سے شروع کیا اب جو کچھ دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا اس سے ہم سب کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔