نواز شریف کی واپسی سیاسی نہیں قانونی معاملہ

حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے بغرض علاج لندن میں قیام کی مدت کے خاتمے کے بعد بھی وطن واپس نہ آنے پر ان کو واپس بھجوانے کیلئے برطانیہ کو جودرخواست بھیجی ہے اس کا برطانوی قانون کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا۔ قبل ازیں حکومت سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کو وطن واپس لانے کی کوشش کا تجربہ کر چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے پی پی پی کے جواں سال چیئرمین کا بیان درست ہے، بہرحال اس سے قطع نظر یہ ایک قانونی معاملہ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان معاملت اور طے شدہ معاہدوں اور قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر بہتر رائے ماہرین قانون کی ہی ہوسکتی ہے، ماہرین قانون کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے قانون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اسلئے برطانوی حکومت اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر عمل بھی کرے۔ اگر پاکستان اور برطانیہ میں حوالگی سے متعلق کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو نواز شریف کی واپسی آسان نہیں ہے کیونکہ ایک تو محض خط کی بنیاد پر کسی کیخلاف ملک بدری کی کارروائی شروع نہیں کی جاتی اور دوسرا یورپی قوانین کے تحت کوئی بھی حق زندگی اور حق علاج کے قوانین کے تحت ایسے فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کیلئے سب سے پہلے انہیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ ماہرین قانون کے آراء سے قطع نظر دیکھا جائے تو اس ضمن میں ہونے والی سرگرمیاں سیاسی بحث کے سوا کچھ نہیں۔اس ضمن میں خود حکومتی صفوں میں نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس اور ان کی بنیاد پر ان کی بیرون ملک روانگی کی اجازت پر اتفاق رائے نہیں، قانونی اور طبی معاملات پر سیاست کی بجائے ان کو انہی بنیادوں پر دیکھنے اور اس حوالے سے ہی اقدامات کئے جائیں تو بہتر ہوگا۔ حکومتی زعماء کو اس امر پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کسی نہ کسی طرح کیوں ہر تھوڑے عرصے بعد سیاست کا محور ایک شخصیت کی ذات بن جاتی ہے۔ سیاسی طور پر بہتری اسی میں ہے کہ اگر ہوسکے تو اسے قصہ پارینہ بنا دیا جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم ازکم بار بار کے تذکرے اور ایسے اقدامات جو نتیجہ خیز نہیں ہوتے اس سے گریز کی صورت اختیار کی جائے۔
حدود وقیود کی پابندی اور تضادات سے بچنے کی ضرورت
عورت مارچ کے حوالے سے جو تنازعات سامنے آرہے ہیں وہ مناسب نہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ عورت مارچ کی حمایت اور مخالفت میں ہر دوزاویہ نظر رکھنے والے فریقوں کو چاہئے کہ وہ دوسرے فریق کے مؤقف کا احترام کرنے کیساتھ اپنے مؤقف کو مدلل اور متیں انداز میں بیان کرنے کی سعی کریں، اختلافات اور تضادات سے بچنے کی کوشش ہونی چاہئے جس کیلئے ضروری امر ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو۔بہت ساری چیزیں بظاہر اور ایک عمودی نظر ڈالنے پر جن تاثرات کا باعث ہوتے ہیں ان کی تشریح اور مدعا اس سے سراسر مختلف ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کا نقطہ نظر جاننے کی اگر کوشش کی جائے تو غلط فہمیوں میں کمی آسکتی ہے۔ جہاں تک عورت مارچ کا تعلق ہے اس حوالے سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جو ریمارکس دیئے ہیں ان کی رعایت نہ صرف مارچ کے وقت دکھائی جائے بلکہ سوشل میڈیا اور کسی فورم پر بحث مباحثہ میں بھی ان امور کا خیال رکھا جائے تو ٹکرائو کی صورت پیدا نہیں ہوگی ۔عورت اور مرد معاشرے، خاندان اور نسل انسانی کی بقاء کی دو بنیادی اکائیاں ہیں، شعور رکھنے کی بناء پر ان کی سوچ مختلف ہوسکتی ہے، ان دو طبقات کے ایک دوسرے سے اختلافات بھی فطری امر ہے، ایک دوسرے سے زیادتی اور خاص طور پر طاقتور فریق کی جانب سے ظلم اور جبر کا بھی امکان ہے اور عملی طور پر اسے دیکھا بھی جا سکتا ہے اس جبر اور نا انصافی کیخلاف آواز ضرور اُٹھائی جائے لیکن اسے صنفی تضاد اور مردوعورت کی لڑائی نہ بنائی جائے۔
پیشہ وارانہ ٹیکس اور تاجروں کی دھمکی
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے چھوٹے تاجروں کو پروفیشنل ٹیکس کے نوٹس کے اجراء پر ایک مرتبہ پھر تاجر برادری کی احتجاج کی دھمکی قابل توجہ امر ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ محکمہ اپنی مر ضی سے30سے لیکر50ہزار روپے کی خود ساختہ شرح سے نوٹسزبھیج رہا ہے جس سے بعض بازاروں، محکمہ کے اہلکاروں اور تاجروں میں تکرار معمول کی بات بن گئی ہے۔ تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان ملک گیر سطح پر جو کشمکش رہی اس کے بعد ایف بی آر نے وقتی طور پر اپنی شرائط معطل کر کے تاجروں کا احتجاج اور ہڑتال ختم کروایا تھا، تاجر پروفیشنل ٹیکس کی ادائیگی کیلئے کسی طور پر آمادہ نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں یا تو اتنی سکت ہونی چاہئے کہ وہ تاجروں کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ ہوں اور قوانین کا نفاذ کروائیں، اگر ایسا ممکن نہیں تو مذاکرات کے ذریعے اور حقیقت پسندانہ شرح پر ٹیکس لگائے جائیں تاکہ تاجراسے تسلیم کر کے ادائیگی پر آمادہ ہوں۔ ٹیکس عائد کر کے اس کی وصولی نہ کی جا سکے تو اس کا فائدہ کیا۔ بہتر ہوگا کہ احتجاج کی نوبت نہ آنے دی جائے اور تاجربرادری بھی ملکی مفاد میں تعاون کا مظاہرہ کرے تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو۔