افغانستان کی تشویشناک صورتحال

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ طالبان امریکہ مذاکرات میں پاکستان نے گارنٹر کا نہیں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ افغانستان کے اندر اور باہر بعض طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہیں پائیدار امن کے قیام کے لئے جامع جنگ بندی ضروری ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام کی صورت میں ہم مزید مہاجرین نہیں سنبھالیں گے۔ ادھر افغان حکومت کی طرف طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کے بعد پچھلے دو دنوں کے دوران طالبان نے افغان سیکورٹی فورسز اور حکومتی و عوامی مقامات پر 24 سے زائد حملے کئے صوبہ قندوز میں طالبان کے حملے میں 20سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بدھ کو امریکہ نے طالبان کے خلاف جوابی کارروائی کی اور ہلمند میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکہ طالبان معاہدے کے تحت ہوئی جنگ بندی کے خاتمے پر دنیا بھر میں پائی جانے والی تشویش بجا ہے۔ گزشتہ تین دنوں کے حالات و واقعات نے افغان انٹرا مذاکرات پر سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔ موجودہ صورتحال پر پاکستان کی تشویش بجا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاہدے کے فریق اور افغان حکومت مل بیٹھ کر مسئلہ کاحل نکالیں تاکہ معاملات پائیدار امن کے قیام کی طرف بڑھ سکیں۔ جہاں تک افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان کا تعلق ہے کہ طالبان افغان حکومت سے مذاکرات چاہتے ہیں تو پاکستان سے تعلقات ختم کریں اس پر حیرانی اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ عجیب سی بات ہے کہ افغان صدر اپنے داخلی تضادات اور خود اپنے طرز عمل و پالیسیوں پر نظر ڈالنے کی بجائے اس نازک موقع پربھی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ان کے لئے زیادہ مناسب ہے کہ وہ افغانستان میں وسیع تر قومی اتفاق رائے کے لئے ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کرکے مفاہمت کے لئے پراثر اقدامات اٹھائیں۔ پاکستان کا موقف بہت واضح ہے خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پالیسی بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ہم گارنٹر نہیں صرف سہولت کار تھے ہمیں امید ہے کہ افغان تنازعہ’ معاہدہ اور موجودہ حالات کے ذمہ دار فریق ہوش کے ناخن لیتے ہوئے افغان عوام کے مفادات’ امن و استحکام کو اولیت دیں گے تاکہ قیام امن کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ حائل ہونے پائے۔
کورونا وائرس سعودی شہریوں کے عمرہ کرنے پر پابندی
کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں بدھ کے روز سعودی وزارت داخلہ نے سعودی اور سعودیہ میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے عمرے پر پابندی لگاتے ہوئے مسجد نبویۖ میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی۔ چین اور ایران و اٹلی سمیت چند دیگر ممالک میں صورتحال بدستور افسوسناک ہے خود امریکہ میں بھی کورونا وائرس کے 6مریض سامنے آچکے۔ آئی ایم ایف نے وائرس سے نمٹنے کے لئے بلا سود 50ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ورلڈ بنک کی جانب سے 12ارب ڈالرکا اعلان کیاگیا۔ یہ رقم کم آمدنی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو فوری فراہم کی جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں سیاحتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا صرف اس شعبہ میں ماہانہ 47ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے۔ بدھ کووزیر اعظم کے مشیر ظفر مرزا نے سختی کے ساتھ اس بات کی تردید کی کہ حکومت کورونا وائرس کے متاثرین کے حوالے سے کوئی معلومات چھپا رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک 5مریض ہی سامنے آئے ہیں۔ ادھر سعودی عرب’ ایران اور بعض دیگر ممالک نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بلا جواز پوسٹوں سے گریز کریں تاکہ افواہیں جنم نہ لیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے متاثرہ ممالک کی حکومتوں کی جتنی ذمہ داری ہے اتنی ہی ذمہ داری ان ملکوں کے شہریوں کی بھی۔