انصافی دوستوں کا شکوہ اور ایک نا خوشگوار واقعہ

رفعت اورکزئی،نجیب اللہ خان اور باچہ ارشاد محمد تینوں قارئین کا شکوہ ایک جیسا ہے،تینوں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ”تحریر نویس پیپلزپارٹی کی وکالت کو فرض سمجھتا ہے اس کے بارے کوئی بات ہو دھڑا دھڑ کالم لکھنے لگتا ہے مگر تحریک انصاف کے قائدین اور خصوصاً عمران خان کے حوالے سے ہونے والے ناروا پروپیگنڈے کے مرتکب افراد کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا۔ نجیب اللہ خان نے یہ بھی فرمایا کہ تحریر نویس صورتحال کا ذمہ دار تحریک انصاف کو ٹھہرا کر انصاف سے کام نہیں لیتا”ان مہربانوں نے چند اور سوالات بھی اٹھائے اور ایک بات وہی رٹی رٹائی بھی یہی کہ”چونکہ اب صحافیوں،اینکروں اور کالم نویسوں کو لفافے ملنا بند ہوگئے ہیں اس لئے یہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے دشمن بن گئے ہیں”۔لفافوں والے الزام یا کہانی پر بہت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ حکومت ان تینوں قارئین کی جماعت کی ہے سارے ثبوت اور شواہد لے کر عدالت کا رُخ کیجئے اور جس جس نے ماضی کی حکومتوں سے حق خدمت”لفافہ” لیا ہو اس کے خلاف کارروائی کیجئے دروازہ کھلا ہے روکا کس نے ہے۔ثانیاً یہ کہ تحریر نویس اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔کروں بھی کیوں جس پارٹی کی ہمدردی میں دھڑا دھڑ کالم لکھتا ہوں اس کے دور اقتدار میں 2008ء سے 2013ء کے درمیان انہی کالموں میں تنقید کرتا رہا اب بھی کچھ غلط ہو عرض کرتا ہوں جن کالموں کے حوالے سے تینوں قارئین نے شکوہ کیا وہ ماضی کے حوالے سے پھیلائی گئی جھوٹی داستانوں، مارشل لائی دور کے بھونڈے الزامات اور بھٹو کی کردار کشی کے حوالے سے تاریخ کے اس دوسرے ورق کی عبارت قارئین کے سامنے رکھتا تھا۔البتہ اس امر سے انکار نہیں کہ تحریر نویس پیپلزپارٹی کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔یہ نرم خوئی پیپلز پارٹی میںپائے جانے والے ترقی پسند شعور کی بدولت ہے لفافوں یا ملازمت کی وجہ سے ہر گز نہیں۔یہاں ایک سوال ان محترم قارئین سے بھی پوچھ لیا جانا ضروری ہے کیا جو صحافی کالم نگار اور اینکرز پچھلے آٹھ سالوں کے دوران تحریک انصاف کو مسیحا و نجات دہندہ بنا کر پیش کرتے رہے اور اب بھی سارے مسئلوں کا ایک حل نواب ٹیوب ویل”کے طور پر تحریک انصاف کو پیش کرتے ہیں انہیں لفافے کون دیتا ہے؟۔ ماضی قریب میں یا حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ذات اور عقیدے کے حوالے سے ہوتی بہتان تراشی پر ہمیشہ یہ عرض کیا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف مذہبی جذبات کو ہتھیار بنانا کسی بھی طور درست نہیں پچھلے دور میں جب مذہبی جذبات کی دو دھاری تلوار تحریک انصاف نون لیگ کے خلاف استعمال کر رہی تھی تب بھی ہم عرض کرتے تھے کہ یہ نا مناسب ہے بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا” فقط یہ عرض کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ جو کچھ نوازلیگ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا تھا وہ کسی بھی طور مناسب نہیں تھا”جو لوگ(وہ چاہے کسی بھی جماعت کے ہوں)بھی وزیراعظم عمران خان ان کے خاندان اور جماعت کے خلاف مذہبی جذبات بھڑ کاتے ہیں یاعامیانہ زبان استعمال کرتے ہیں وہ نظام اپنی قیادت اور جمہوریت کی خدمت ہر گز نہیں کر رہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس معاملے میں ہمارے انصافی برادران بھی کسی سے کم نہیں۔مناسب ترین بات یہ ہے کہ سیاست نظریات اور جماعتی پروگرام پر کی جائے۔تحریک انصاف کے دوستوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود مادر پدرآزاد عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔یہ عرض کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ برداشت باہمی احترام اور صلح کل کا تصور ہمارے یہاں سے ختم ہوچکا مثال کے طور پر پچھلی شپ ایک چینل کے پروگرام میں انسانی حقوق کی علمبردار محترمہ ماروی سرمد اور شوبز کی دنیا میں تازہ تازہ ”دیوتا” بنے خلیل الرحمن قمر(یہ حضرت ڈرامہ نویس ہیں)کے درمیان زبان دانی کا جو ملاکھڑا ہوا وہ کسی بھی طور درست نہیں تھا۔اپنی روشن خیالی کے باوجود یہ تحریر نویس محترمہ ماروی سرمد کا ناقد تھا اور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں ٹی وی پروگرام کے موضوع کو اپنی ذات کے گردگھمانے کا فن آتا ہے۔پچھلی شب بھی انہوں نے اسی فن کا مظاہرہ کیا اور خلیل الرحمن قمر ہتھے سے اکھڑ گئے پھر جو زبان انہوں نے بولی وہ شرمناک حد تک قابل مذمت ہے۔اس پروگرام میں طرفین نے جو زبان برتی اور اس پر جاری بحث سے ہٹ کر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ خواتین کے لئے ہمارے سماج کے عمومی رویہ کا خمیر برصغیر پاک وہند کے سماجی رویوں سے عبارت ہے۔تقریباً ہم سبھی روزمرہ کی گفتگو میں بلاوجہ تواتر کے ساتھ ماں بہن کی گالیوں سے جی بہلاتے ہیں یہی نامناسب ہے۔اس سے زیادہ نامناسب وہ سوچ اور فکر ہے جو بد قسمتی سے ہمارے رویوں ہی نہیں ایمان کا حصہ بن چکی کہ عورت ناقص العقل ہے۔ پائوں کی جوتی ہے ،دومنہ والا بچھو ہے یا یہ کہ گھر سے نکلی ہر عورت بے حیا ہے۔یہ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے عورت کا وجود بھی سماجی ارتقا ہیں اتنا ہی اہم ہے جتنا مرد کا ثانیاً یہ کہ ہمیں اپنی تہذیبی روایات کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ہماری اپنی ثقافت، کلچر، تہذیب اور تاریخ ہے ادھر اُدھر دیکھنے کی بجائے اپنے سماج اور آج کی ضرورتوں کو سمجھنا ہوگا۔آخری بات یہ کہ جو میں عرض کررہا ہوں اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے نا کہ میری بات کا اپنی مرضی سے مفہوم نکال کر اس پر شوروغل مچانا۔ماروی سرمد کو بھی اپنی زبان پر کنٹرول نہیں ہے لیکن خلیل الرحمن قمر نے جو کچھ کیا وہ تہذیب دانش اور اخلاقیات پر خودکش حملہ تھا۔