اہل اقتدار و سیاست! تلخیوں سے اجتناب کیجئے

ہمارے نظام حکومت اور سیاسی عمل میں قواعد و ضوابط نظریات اور قانون کی بالادستی کی جگہ پسند و ناپسند پر مبنی رویوں کے پروان چڑھنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ بدقسمتی سے ہر د ور میں برسر اقتدار طبقہ نے خود کو حب الوطنی کی معراج پر کھڑا دیکھا اور مخالفین و ناقدین کو نظام و جمہوریت کی ضد کے طور پر پیش کیا۔ افسوس کہ ان رویوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے تو بہت ہیں اور تھے بھی لیکن منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کرنے والے ہمیشہ سے ہی خال خال رہے۔ مجموعی طور پر اگر اس صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں اولاً یہ کہ حکمران قیادت اپنے انتخابی منشور پر عمل کرنے کی بجائے پچھلی حکومتوں کو کوستی دکھائی دیتی ہے اور سابقین انتقال اقتدار کے عمل کو سازشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ضد اور عدم برداشت سے پیدا ہونے والی تلخیوں نے سیاسی عمل میں برداشت کی جگہ نفرت کو پروان چڑھایا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ ہر صاحب فہم پر یہ عیاں کر دیتا ہے کہ ملک میں لگنے والے چاروں مارشل لائوں کے پس پردہ چند وجوہات یقینا اور بھی تھیں مگر سول حکومتوں کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کو زیادہ سہولت اس وقت کے حالات و واقعات نے فراہم کی۔ سیاسی جماعتوں نے اصل فرائض پر توجہ دی ہوتی تو مارشل لاء لگنے کے مواقع کم سے کم ہوتے یا پھر یہ ممکن ہی نہ ہوتا۔ مگر یہ بھی درست عمل نہیں کہ چونکہ سول حکومتیں اپنے فرائض ادا نہیں کر پائیں اس لئے مارشل لاء کو جواز کی سند عطا کردی جائے۔ پاکستانی د ستور’ اداروں’ جماعتوں اور فرد کے بارے میں حدود قیود طے کر چکا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کس و ناکس دستور میں طے شدہ حدود کے مطابق اپنے فرائض پر توجہ دے۔ سیاسی جماعتیں نظریات کی جگہ نفرت کا بیو پار نہ کریں اور حکومتیں دستور و قانون کی پاسداری کو بہر صورت یقینی بنائیں۔ ہر دو سے انحراف کا نتیجہ ہم ایک دو نہیں پورے چار بار بھگت چکے ہیں۔ 1970ء اور پھر 1980ء کی دہائیاں ہمارے نظام اور سیاسی عمل میں بہت بہتر تاثر قائم نہیں کر پائیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں طبقاتی خلیج بہت زیادہ اور مسائل ہی مسائل ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ طبقاتی خلیج کوکم کرنے کے ساتھ مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ جناب وزیر اعظم کی جماعت کو 2018ء کے انتخابی عمل میں پذیرائی ملنے کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ رائے دہندگان یہ سمجھتے تھے کہ کم از کم 2008ء سے 2018ء تک اقتدار میں رہنے والی دونوں جماعتوں نے ان کے مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی۔ اس طور تحریک انصاف کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں کے مسائل کو حل کرنا اور اس تبدیلی کی بنیاد رکھنا ہے جس کا اس کی قیادت نے وعدہ کیا تھا۔ پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران اس حوالے سے جتنا اور جیسا کام ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور یہ بھی کہ انقلابی تبدیلیاں لانے کی دعویدار جماعت اقتدار ملنے کے بعد سرپٹ اسی راہ پر دوڑ رہی ہے جس پر قبل ازیں دوڑنے والوں نے بھی خدمت خلق کی بجائے عدم برداشت اور نفرتوں کو ہوا دی۔ اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ قانون کی بالا دستی ہونی چاہئے۔ بلا امتیاز احتساب ہو اور دن بدن گمبھیر ہوتے مسائل کی وجہ سے مختلف طبقات پر جو عذاب ٹوٹ رہے ہیں ان کا مداوا ہو۔ افسوس صد افسوس کہ ایسا ہوا نہیں بلکہ ماضی کے اسی عمومی رویہ کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جس میں فرائض پر توجہ دینے کی بجائے سابقین پرالزام تراشی سے وقت گزارا جائے۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ قانون اور احتسابی قوانین کو اپنا راستہ بنا دیجئے۔ حکومت اپنا کام کرے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری کے خاتمہ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ نا مناسب حالات کی وجہ سے بند ہوئی صنعتوں میں صنعتی عمل شروع کروایا جائے۔ تعلیم اور صحت کے حوالے سے حکومت اپنے فرائض پر توجہ دے تاکہ ان دونوں شعبوں میں کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔ لاریب روزگار کی فراہمی میں حکومت اور نجی شعبہ کو اپنی اپنی جگہ اور دونوں کو مل کر کردار اداکرنا چاہئے تاکہ بہتر ماحول بن پائے بہتر ماحول ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت اور کچلے ہوئے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے میں معاون ہوسکتا ہے۔ اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ سوا سات دہائیوں کے سفرمیں ہمارے ہاں قومی سرمایہ کاروں کاوہ طبقہ نہیں بن پایا جو سرمایہ کاری میں منافع کی جگہ لوگوں کے لئے وسائل فراہم کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ بجا طور پر اس کی ایک بنیادی وجہ وہ پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد بڑھا اور ان میں سے زیادہ تر نے محفوظ سرمایہ کاری کے لئے بیرون ملک کا رخ کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگرہمارے یہاں اصلاح احوال کا آغاز اب بھی نا ہوا توکب ہوگا؟۔ جناب وزیر اعظم ان کی کابینہ اور جماعت کو خصوصی طور پر اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ سیاسی عمل کے حریفوں سے نوک جھونک چلتی رہے لیکن دو کام ہوں اولاً یہ کہ نوک جھونک نفرت میں تبدیل نہ ہو اور ثانیاً یہ کہ حکومت اپنے اصل فرائض سے منہ نہ موڑنے پائے۔ تحریک انصاف کو بطور جماعت اور جناب وزیر اعظم کو بطور سربراہ حکومت چیلنجوں’ مشکلات اور مسائل کا ادراک کرنا ہوگا۔ قانون و انصاف کی بالادستی اور احتساب کے علم کو جاری رکھنے پر معترض کوئی نہیں ہو رہا۔ ناقدین حکومت کی نیت پر شک نہیں کر رہے بلکہ دونوں آراء کے حاملین بنیادی طورپر یہ کہہ رہے ہیں کہ انصاف و احتساب ہوتا ہوا دکھائی دے۔ احتساب کے نام پر محض مخالفین کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں اور درپیش مسائل و مشکلات میں کمی کے لئے حکومت انقلابی خطوط پر اقدامات کرے۔ سیدھے سبھائو سمجھنے والی بات یہ ہے کہ سیاسی بیان بازی اور الزامات سے عام آدمی کو دو وقت کی روٹی نہیں مل سکتی۔ دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات کئے جائیں تلخیوں سے اجتناب کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ برسر اقتدار جماعت اوراس کی قیادت ان معاملات کے حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔