عورت مارچ، اگر وہ حقوق لینا ہی نہ چاہیں تو؟

معاشرے نے خواتین کے دماغوں کو نسل در نسل پدر شاہی کی جھاگ لگا کر دہی بنایا ہے اور اچھی خاصی یہ دہی جمی پڑی تھی پورا ملک دو دھڑوں میں بٹ گیا ہے۔ ایک گروپ ان بولنے والی خواتین کا ہے جو میگا فون پہ اپنی نسوانی آواز کی آخری حدوں تک جا کر، سڑکوں پہ آ کر، نعرے لگا کر، مکے لہرا کر، پلے کارڈز اٹھا کر معاشرے کو شرم دلانا چاہتی ہیں۔ ان جی دار خواتین کی حمایت میں ہزاروں لاکھوں خواتین ہیں اور اتنے ہی حضرات بھی۔دوسرا گروپ ایسے حضرات کا ہے جو عورت مارچ نامی احتجاج کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ انہیں خواتین کے نعروں، پلے کارڈز پر لکھے الفاظ، سڑکوں پر گونجتی آوازوں پر اعتراض ہے، انہیں عورت مارچ میں لفظ عورت اور مارچ دونوں پہ اعتراض ہے۔عورت مارچ کے مخالف مرد ہیں چلو مان لیا لیکن اس سے بھی گھمبیر صورت حال یہ ہے کہ بہت سی عورتیں بھی ایسے کسی مارچ وارچ کے حق میں نہیں۔ہمارے معاشرے کا تانا بانا کچھ ایسا بْنا گیا ہے کہ اس میں وہ دھاگہ جس میں عورت لپٹی ہے، کچا رکھا جاتا ہے۔ صدیوں سے چلے ریتی رواج، روزمرہ بول چال، لغت کے الفاظ، محاورے، لوک داستانیں، حکایتیں، نصیحتیں سب مردانہ بالادستی اور خواتین کی کم مائیگی کے طے شدہ خود ساختہ سچ کے گرد گھومتی ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے ہم عورتوں کو پیدا ہوتے ہی گْھٹی میں اپنا ہی دم گھونٹ لینے کا سبق دم کر کے پلایا جاتا ہے۔ یوں بھی لگتا ہے کہ صدیوں سے مردانہ بالادستی کا طے شدہ سچ ہمارے ڈی این اے پہ مہر کی طرح ثبت ہوگیا ہے کہ اب کوئی اس کو چیلنج بھی کرے تو خود ہم عورتوں کو برا لگنے لگ جاتا ہے۔کسی مستند تحقیقی ادارے سے ریسرچ سروے کرا لیں، خواتین کی اکثریت اپنے گھر، خاندان، کام کرنے والی جگہوں، عوامی مقامات، سیاست، کاروبار اور مذہب میں مردانہ سبقت کی حامی نکلے گی۔وہ خواتین جن کے مرد کما رہے ہیں وہ اپنے گھر کے مردوں کی کمائی پر گھر بیٹھے عیش کرنے کو زندگی کی معراج سمجھتی ہیں، یہ ہم عورتوں کی فطرت ہے۔ لیکن گھر بیٹھے اپنے مرد کی پیسے پر عیش کرنے کا خراج اگر ذہنی، جنسی یا جسمانی تشدد ہے، اگر عزت نفس کا قتل اس عیش کی قیمت ہے تو یہ سودا خاصا مہنگا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ گھر بیٹھی خواتین کی ایک بڑی اکثریت روز یہ سودا کرتی ہے اور وہ خوش ہے۔آج بھی عورتیں کھیلوں کے میدان میں پیچھے کیوں دھکیلی جاتی ہیں؟کام کرنے والی جگہوں پر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی خواتین لیڈرشپ کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ زمانہ تو انہیں باس بنانے سے رہا مگر وہ خود بھی پروفیشنل لیڈر بننے کے لیے نہ خود کو تیار کرتی ہیں نہ ہی بولڈ قدم اٹھاتی ہیں۔ یہ خواتین پیشے کو اپنا ٹائم پاس یا شوق کہہ کر جھوٹی پالش کرتی ہیں۔ یہ زیادہ تر اپنے مرد ساتھیوں کے زیردست رہنا ہی بہتر سمجھتی ہیں اور ایسے رینگتے ہوئے پروفیشنل کیریئر میں خوش ہیں۔زیادہ دور نہیں اپنے ہی گھروں میں جھانک لیں۔ کھانے میں گوشت کی بوٹی لڑکے کو زیادہ دینے سے شروع ہونے والا امتیازی رویہ گھروں کے بٹوارے میں عورتوں کا حصہ غصب کرنے تک چلتا ہے۔ بیٹیاں نہ اپنے باپ سے شکوہ کرتی ہیں نہ بھائیوں کو آنکھیں دکھا سکتی ہیں۔میراث میں ان کا حق کھلم کھلا ہڑپ لیا جاتا ہے اور یہ خواتین اسے اپنے بھائی کی خاطر قربانی کا نام دے کرچپ ہو رہتی ہیں۔ یہ خواتین بھی ایسی مہذب لوٹ مار پہ نہ صرف چپ ہیں بلکہ اسے قربانی کہہ کر خوش ہیں۔میں ان خواتین کو خوش یوں لکھ رہی ہوں کیونکہ معاشرتی ناانصافیاں خاموشی سے جھیلنے والی عورت کو اچھی عورت کا ان دیکھا ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ ظلم و ستم سہنے والی خواتین کو ستی ساوتری، صبر و وفا کا پیکر، قناعت و شکر کی مورتی اور قربانی کی بکری بننے کا جو شوق ہے نا، اس کی تسکین ہوتی ہے۔یہ خواتین سل بٹے پہ کوفتے کے مصالحے کی طرح پستے رہنے اور پسے چلے جانے کو ہی زندگی سمجھتی ہیں کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی گرینڈ سکیم کا حصہ ہے کہ خواتین کو کسی مشکل وقت، چیلنج اور نہ مناسب معاشرتی رویوں کے لیے تیار نہ کیا جائے۔ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ ہر درد کی دوا، ہر مشکل کا حل مرد ہے اور یہ مرد صرف باپ، بھائی، بیٹا یا شوہر ہوں گے۔جنہیں باپ، بھائی، بیٹا یا شوہر جیسی قدرتی انشورنس حاصل نہیں یا جن کے گھر کے مرد نکھٹو ناکارہ نکلتے ہیں وہ معاشرے کی تلخی کو ایام کی سختی سمجھ کر پیے جاتی ہیں۔ اپنے پھوٹے نصیب پہ روتی ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے کی گریٹ گرینڈ سکیم یہی ہے۔’آلو لے لو ٹماٹر لے لو’ کی طرح گلیوں میں ‘حقوق لے لو’ کی صدائیں کبھی نہیں لگنے والی، اس کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ تن آسان خواتین کو آپ طشتری میں رکھ کر بھی حقوق کی پیشکش کر دیں وہ خود کو نیک بی بی ڈکلیئر کرتے ہوئے صاف انکار کر دیں گی۔آپ چاہیں تو نکاح نامے میں عورت مارچ کا پورا مینی فیسٹو لکھ ڈالیں، ایک عورت اگر اپنے حقوق لینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہی نہیں تو عورت مارچ کا کان پھاڑ میگا فون سوائے شور کے کچھ نہیں۔میری دانست میں تو حضرات کو برا نہیں منانا چاہیے۔ یہ عورت مارچ صرف مردوں کے لیے پیغام نہیں۔ یہ ان عورتوں کے لیے بھی آگاہی و تعلیم ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے دیے گئے حقوق نسواں کو بھول بیٹھی ہیں۔جیسے دودھ کو جھاگ لگا کر دہی جما لیا جاتا ہے ایسے ہی معاشرے نے ان خواتین کے دماغوں کو نسل در نسل پدر شاہی کی جھاگ لگا کر دہی بنایا۔ اچھی خاصی دہی جمی پڑی تھی کہ عورت مارچ والیوں کے نعرے اب اس دہی کی لسی بنانے پہ تْلے ہیں۔ پھر شور تو اٹھے گا، تکلیف تو ہوگی۔آپ خواہ مخواہ ہی اکڑ بیٹھے، عورت مارچ والیاں آپ سے حقوق مانگ تھوڑی رہی ہیں یہ بس اپنے حقوق پہ حق جتا رہی ہیں۔ (بشکریہ انڈیپنڈنٹ)