گورنر بننے کا آسان نسخہ

گورنر شاہ فرمان نے نالائق طالب علم ہونے کا ایک فائدہ گورنر بننے کا ازراہ تفنن تذکرہ کر کے اپنی مثال پیش کی یا کوئی اور وہ اپنی جگہ واقعی گورنر بننے کیلئے تو زیادہ پڑھے ہونے کی ضرورت ہی نہیں گورنر تو ایک” بڑی حویلی” گورنر ہائوس میں لاٹ صاحب کی طرح رہتا ہے ان کی کوئی خاص حکومتی ذمہ داری نہیں ہوتی گورنر خیبرپختونخوا فاٹا کی تحلیل کے بعد بس نام کے ہی گورنر رہ گئے ہیں ایسے میں لائق فائق گورنر ہو یا نالائق گورنر نے محض دستخط ہی ثبت کرنے ہوتے ہیں گورنر شاہ فرمان نے تکلف سے کام لیا ورنہ وہ غالباً قانون کی ڈگری رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ہی گورنر ہائوس کے مکین ہوگئے ہیں گورنر کی آئینی ذمہ داریاں ایسی نہیں جس میں اچھی حکمرانی اور درست فیصلوں کی ذمہ داری نبھانی پڑے یہ کام وزیراعظم،وزرائے اعلیٰ متعلقہ وزارتوں کے وزراء اور متعلقہ محکموں کے صوبائی وزراء اور بیوروکریسی کا ہے حکومت کو فیصلوں کیلئے ماہرین کی خدمات مہیا ہوتی ہیں کوئی حکمران پڑھائی میں بھلے نالائق ہی رہا ہو لیکن اگر وہ دانش مند ہو تو خدا حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے کے مصداق بن سکتا ہے کرسی پر بیٹھا کوئی شخص آج تک نالائق گردانا ہی نہیں گیا کرسی ملنا مشکل کام ہے ڈگری کاکیا ہے ڈگری اصل ہو یا نقلی ڈگری ڈگری ہی ہوتی ہے پھر آج کل ڈگری اصلی بھی ہو اور بندہ بھی پڑھا لکھا پھر بھی جوتے چٹخائے دیکھے جاتے ہیں پڑھ لکھ کر آج کل کوئی زیادہ سے زیادہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے ایک کرسی ہی حاصل کر پاتا ہے بندہ سیاست میں قسمت آزمائے اور عوام بنا دیکھے کندھوں پر چڑھائیں تو جھنڈے والی گاڑی پکی ساری منسٹری اور صوبائی محکمہ جیب میں۔وطن عزیز میں حسرت ہی رہ گئی کہ عوام کسی ایسے بندے کو بھی کبھی موقع دیں جو اپنے شعبے کا ماہر اور دیانتدار ہو جس محکمے کا اور جس وزارت کا عہدہ ملے اسے چلا سکے ایسے لوگ واقعی ہمارے معاشرے میں قابل کہلا ہی سکتے جو گورنر بن جائیں اور جو گورنر بن جاتے ہیں وہ وہ لوگ ہو نہیں سکتے جو کسی قابل ہوں۔اسلامیہ کالج مشاہیر کا مادرعلمی رہا ہے یہاں سے نکلنے والے طالب علم، اچھا ہے کوئی کوئی گورنر بنتا ہے اگر سارے ہی گورنر بننے کے قابل بن کر نکلیں تو ہسپتال کون چلائے ،پل اور عمارتیں کون بنائے، سکولوں کالجوں اور جامعات میں جا کر علم کی روشنی کون پھیلائے۔ملکی سرحدوں کی حفاظت کون کرے۔جس معاشرے میں پڑھائی بیزار گورنر اور کھلاڑی ہیرو بن جائیں،فلمسٹاروں اداکاروں اور ڈرامہ بازوں کی گڈی چڑھی رہے اور اہل علم ودانش نیچے بیٹھ کر ان کے فرمودات سننے اور ان کے لچھن دیکھنے پر مجبور ہوں وہاں شاہ فرمان کے فرمودات سے اختلاف کیسے ہو سکتا ہے۔پہلے پہلے لوگ کہتے تھے کہ پڑھوگے لکھو گے بنوگے نواب اب مقولہ ہی بدل رہا ہے پڑھ لکھ کر کیا کرو گے پڑھ لکھ کر کوئی گورنر تھوڑا بنتا ہے۔کھیلوں گے کودوگے سیاست کروگے تو رہو گے کامیاب۔گورنر نے کچھ غلط بھی نہیں کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے کہ سب نے ڈاکٹر بننا ہے انجینئر بننا ہے سول سروس کا امتحان پاس کر کے کروفر والی ملازمت کرنی ہے۔ماں باپ خواب دیکھتے ہیں اور بچوں کو سراب دکھاتے ہیں ۔یہ دیکھے بغیر کہ ان کے بچے کو قدرت نے کونسی صلاحیتیں دے کر کس خدمت کیلئے منتخب کیا ہے مگر والدین نے ان کو بڑا آدمی بنا نا ہے کہ یہی ان کو منظور ہے مگر بچہ بنتا وہی ہے جو کاتب تقدیر نے لکھا ہوتا ہے مگر کاتب تقدیر نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ محنت کروگے تو ناکام رہو گے بلکہ ان کا تو فیصلہ ہے کہ انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے کوشش کے باوجود کوئی کامیاب نہ بھی ہو تو قدرت نے اس کیلئے کوئی نہ کوئی اور انتظام ضرور کر رکھا ہوتا ہے طلبہ گورنر کے مشورے پر گورنر بننے کیلئے جتن کرنے لگ جائیں تو بھی برا نہیں مگر یہ یاد رکھیں گورنر دو تین چاریازیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کیلئے بنتا ہے عشرت العباد نے ریکارڈ توڑ گورنری ضرور کی مگر آج کسی کو معلوم نہیں کہاں اور کس حال میں ہے۔پڑھیں لکھیں اس کے بعد بھلے کچھ اور نہ بنیں گورنر ہی بن جائیں۔ساری باتیں ایک طرف اپنے عہدوں کیلئے موزوں حکمران میسر آنے کا خواب تو بس خواب ہی ہوسکتا ہے ایسا تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوتا لیکن ہم میں اور ان میںایک فرق ضرور ہے وہاں عقل کل قسم کے سیاستدان اور وزراء نہیں ہوتے وہ ماہرین کی بات سنتے ہیں ان کی تجاویز پر غور کرتے ہیں ان کی تجاویز کا تجزیہ کرتے ہیں اور مناسب سمجھیں تو دوسری آراء بھی لیتے ہیں اور پھرمنصوبے پر کام کا آغاز ہوتا ہے۔ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے حکمران خود کو عقل کل سمجھتے ہیں ماہرین کی تجاویز سننا تک گوارہ نہیں کرتے فیصلہ قوم کے نہیں خود اپنے مفاد دوستوں ،رشتہ داروں اور سیاسی حلیفوں کو نوازنے کے تناظر میں ہوتا ہے جبھی تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔گورنر ہو یا وزراء کسی کی سنیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ایسا فیصلہ جس میں مفاد پرستی نہ ہو دیانتداری ہو تو نالائق ہونے سے فرق نہیں پڑے گا۔اسلامیہ کالج کے طلبہ تو بڑے تیز اور لاجواب کرنے والے ہوتے ہیں انہوں نے گورنر سے پوچھا ہی نہیں کہ وہ گورنر ہائوس کو ان کیلئے یونیورسٹی بنانے کا وعدہ کب پورا کریں گے۔شاہ فرمان کے اعتراف کے بعد طالب علموں کے گورنر بننے کے امیدواروں میں یقینا اضافہ ہوگا لے دے کے جو چند طالب علم پڑھا کرتے تھے وہ بھی گورنربننے کی امید لگا بیٹھے تو بچے گا کیا۔