ان کہی کہانی

بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر سکے، اس مقصد کیلئے بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں میں بے پناہ پیسہ خرچ کر کے عالمی سطح پر پاکستان کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دینے کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ تھا، پاکستان کے اندر خلفشار پیدا کرنے والا بھی بھارت ہی ہے، پاکستان کے لوگوں میں نفرت کے بیج بونے کیلئے راہ ہموار کرنے والا بھی پاکستان کا ازلی دشمن بھارت ہی ہے، پاکستان کیخلاف بھارت مسلسل سازشیں کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مضبوطی کی صورت میں وہ خطے میں اپنی تھانیداری کے خواب کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کے پس پردہ بھی بھارت کی کارستانی ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال امریکہ اور بھارت نے ملکر بنائی ہے بلکہ اسے ایک گہری منصوبہ بندی بھی کہہ سکتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ چاہتے ہیں کہ اس خطے میں چین پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کو کسی نہ کسی امتحان میں ڈالے رکھیں۔ ایف اے ٹی ایف ایک ایسا پھندا ہے جس کے باعث پاکستان کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے اقدام کیخلاف کھل کر مزاحمت نہیں کرسکی۔ پاکستان کیخلاف امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ اور منصوبہ بندی ان کے اپنے لحاظ سے بظاہر تو کامیاب دکھائی دے رہی ہے لیکن افغانستان کا صحرا اس قدر گرم ہے کہ کابل میں قدم جماتے جماتے بھارت اور امریکہ دونوں کے پاؤں جل چکے ہیں۔ اس معاملے کے حل کیلئے ریاستی مفادات کے تحفظ کا احساس دل میں لئے پاکستان تحمل کی پالیسی اختیار کرکے ایک خاص حکمت عملی کیساتھ چل رہا ہے۔ ملک کی چھوٹے حجم کی معیشت ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بھی دباؤ میں ہیں کہ دوست ممالک کی جانب سے ملنے والی رقم خرچ کرنے کیلئے نہیں ہے بلکہ اس کی مدد سے ہم اپنے زرمبادلہ کے ذخائر خرچ کرنے کے بجائے ان کا حجم برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے کو پاکستانی بینکوں کیلئے منفی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کیلئے خصوصی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ بھارت کی کھلی دشمنی کے باوجود پاکستان نے امن کوششوں کو ترک نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ پلواما سے ابھی نندن کی رہائی تک پاکستان نے بھارتی بیانئے کو شکست دی ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ میں دہشتگرد کیمپ تباہ کرنے اور300 دہشتگرد مارنے کا بھی دعویٰ کیا، مگر بھارت کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے جسے عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی تسلیم کیا۔ پاکستان نے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کا جواب حقائق کی کھوج سے دیا۔ اس کے باوجود کچھ چیلنج درپیش ہیں۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کارکردگی میں گزشتہ برسوں کی نسبت قدرے بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے دئیے گئے27ٹاسکس میں سے17پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف حکام نے کہا ہے کہ پاکستان مزید پیش رفت دکھائے۔ اب ریئل اسٹیٹ اور سونے کا کاروبار بھی باقاعدہ دستاویزی معیشت میں لایا جارہا ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ جون2020ء تک پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف مؤثر اقدامات کرنے کیلئے جون2020ء تک کا وقت دیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ مزید اقدامات کرکے ایف اے ٹی ایف کے اعتماد میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے چین، ترکی، ملائشیا اور دیگر کئی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایران بھی ہمارا حامی تھا لیکن اب وہ خود بلیک لسٹ میں آگیا ہے، ملائشیا میں سیاسی بحران کھڑا ہوگیا ہے، چین اور ترکی دو ایسے ملک رہ گئے ہیں جہاں سیاسی استحکام ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدرٹرمپ نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کی اُمید دلائی تھی لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے تین مطالبات رکھے تھے، پہلا یہ کہ فری ٹریڈ کی جائے، دوسرا مطالبہ کیا گیا کہ جی ایس پی پلس سے پاکستانی مصنوعات کو آسانی سے رسائی دی جائے اور تیسرا یہ کہ ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ معاہدے پر بات چیت کی جائے۔ ان میں سے کوئی مطالبہ بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ امریکہ نے صرف اپنے حق میں فیصلہ کیا اور کہا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی۔ یہ سودا صرف امریکیوں کو فائدہ پہنچائے گا کہ امریکی کمپنیاں یہاں سے منافع اپنے ملک لیکر جائیں گی جس سے امریکہ کو فائدہ ہوگا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کے دورے کو متوازی کرنے کیلئے اسلام آباد میں امریکی وزیرتجارت کو بھیجا۔ یہ دورہ محض ایک چال تھا کیونکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کیساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں بڑھائی۔ صدر ٹرمپ دورہ بھارت مکمل کرکے واپس جاچکے ہیں۔ مودی کے سامنے صدر ٹرمپ نے عمران خان کو دوست قرار دیکر ایک بہت بڑا کارڈ کھیلا ہے۔ ٹرمپ کے اس جملے کا سفارتی تجزیہ بہت ضروری ہے کہ صدرٹرمپ نے کن معنوں میں وزیراعظم عمران خان کو دوست قرار دیا، پسِِ پردہ کچھ اور ضرور چل رہا ہے۔ امریکہ نے 5اگست کے کشمیر کے بارے میں بھارتی فیصلے کی خاموشی سے تائید جاری رکھی ہوئی ہے اور اس نے آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسی پر بھی کبھی اعتراض نہیں کیا۔ ہمارے سفارتکاروں کو اس بات کا کھوج لگانا ہوگا کہ امریکہ کی یہ پالیسی اس خطے میں کہیں ان کہی کہانی کا عنوان تو نہیں بن رہی؟