اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

میرے لئے مختلف معاشروں میں مرد وزن کے حقوق اور تہذیبی نکتہ نگاہ سے ان کے درمیان تفریق کے حوالے سے موضوع ہمیشہ دلچسپی کا محور رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل میں نے نیشنل لائبریری آف پاکستان میں متعلقہ مواد جمع کرنے کیلئے کافی وقت صرف کیا، بہرحال انسانی حقوق وفرائض کے ضمن میں میری تحقیق ابھی جاری ہے جسے انشاء اللہ جلد مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہر تمدن انسانوں کے حقوق وفرائض کے لحاظ سے اپنی الگ سوچ رکھتا ہے۔ زمانہ حال چونکہ مغرب کی بالا دستی کا دور ہے چنانچہ مغربی تہذیب نے انسانوں کیلئے جن حقوق کا تعین کیا ہے وہ اسے حتمی سمجھتے ہیں اور ان حقوق کو ”انسانی حقوق کا آفاقی اعلامیہ” کی صورت میں دنیا میں نافذالعمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دو صدیوں میں نیشن سٹیٹ کے تصور کو فروغ ملا اور نشنلزم ایک ضابطہ حیات کے طور پر سامنے آیا۔ نیشنلزم کا تصور سیکولرازم کو جنم دیتا ہے چنانچہ دین کو ریاستی معاملات سے نکالنے کی سعی کی گئی۔ اہل مغرب نے اس فکر کو شرف قبولیت بخشی لیکن مسلمانوں میں اس کیخلاف مزاحمت کا غلبہ رہا۔ علامہ اقبال جیسے روشن خیال دانشوروں نے اس سوچ کی مخالفت کی اور کہا
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
نیشنلزم کی مخالفت مسلمانوں میں اس بنا پر بھی تھی کہ اسلام خود ایک مکمل ضابطہ حیات ہے لہٰذا ایک وقت میں دو ضابطوں کی پابندی ممکن نہ تھی اور ضابطے بھی ایسے جو آپس میں باہم متصادم ہیں۔ مسلمانوں کیلئے کیونکر قابل قبول ہوسکتے تھے۔ بعض احباب مسلمانوں کی نیشن سٹیٹس کو جواز بنا کر نیشنلزم کے حق میں دلائل تراشتے ہیں مگر ان دلائل میں ایک بنیادی غلطی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت والا ملک جہاں بھی ہے وہاں نیشنلزم نہیں بلکہ ”مسلم نیشنلزم” کا تصور کارفرما ہے۔ علامہ اقبال جنہوں نے مسلم نیشنلزم کے تصور کو زبان دی نے بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے کہ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہوں وہاں نشنلزم اور اسلام باہم متصادم نہیں رہتے کہ ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے دوران یہی بات حضرت قائد اعظم نے پیر آف مانکی شریف کے خط کے جواب میں لکھی تھی کہ مسلمانوں کے ملک میں یہ کیسے ممکن ہے کہ غیراسلامی نظام نافذ ہو۔ میرے آج کے کالم کی بنیاد بھی یہی جملہ ہے، مسلمانوں کے ملک میں بہرحال تمدن وہی چلے گا جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اہلیان مغرب نے نیشنلزم قبول کیا اور عوام کی حاکمیت کو اعلیٰ ترین اتھارٹی کے طور پر تسلیم کیا۔ لیکن مسلمان خدائے برزرگ وبرتر کی اتھارٹی کو سپریم اتھارٹی قرار دیتے ہیں اور اسے ہی مقتدراعلی تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں ہم نے تسلیم کیا ہے کہ ”اقتداراعلیٰ کی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے”۔ پہلی قانون سازاسمبلی میں جب قرارداد مقاصد پیش ہوئی تو ہندو ارکان نے جس جملے پر اعتراض کیا وہ یہی جملہ تھا لیکن مسلمانوں کی اسمبلی نے اس اعتراض کو مسترد کر دیا۔ جس ملک نے یہ بات تسلیم کر رکھی ہے کہ سپریم اتھارٹی اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس کے عطا کئے ہوئے اختیار کو عوام کے منتخب نمائندے مقدس فرض سمجھ کر استعمال کریں گے وہاں کسی ایسے قانون کی گنجائش نہیں جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہو اور یہ بات ہم نے آئین میں لکھ دی ہے چنانچہ مملکت خداداد پاکستان میں نہ کوئی قانون ایسا بن سکتا ہے اور نہ ہی ایسا تمدن نشو ونما پاسکتا ہے جو تعلیمات اسلامی کی دھجیاں بکھیرے اور اسلامی تہذیب کو پاؤں تلے روندنے کی کوشش کرے۔ ہمارے لئے بین الاقوامی قوانین کی اہمیت ہے اور ہم انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامئے کو تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن اس تناظر میں کسی ایسی سوچ کو قبول نہیں کر سکتے جو ہماری تہذیب پر وار کرے اور ہماری معاشرتی تباہی کا باعث بنے۔ مسلمانوں کی تہذیب میں گھر ایک ایسا بنیادی یونٹ ہے جہاں شوہر (مرد) اور بیوی (عورت) کے مابین حقوق وفرائض کا تعین اسلام کے سنہرے اصولوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اگر کوئی بین الاقوامی قوانین کی آڑ لیکر ہماری اس تہذیبی معاشرتی اریجمنٹ پر حملہ آور ہو تو بحیثیت مسلمان نہ صرف یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ ہم اس کی مخالفت بھی کریں گے اور حتی المقدور بھرپور مزاحمت بھی کریں گے۔ نیشنلزم کے اصولوں کے تحت پاکستان نہ ہی کوئی سیکولر ریاست ہے جہاں مذہب ہر شخص کا نجی معاملہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا اطلاق ہم پر اس انداز سے ہو سکتا ہے کہ خاندان جیسے ہمارے بنیادی یونٹ کسی تباہی کا باعث بنے۔ اہل مغرب نے ”فرد” کی بنیاد پر حقوق وفرائض کا تعین کیا ہے تو یہ ان کی تہذیب ہے، ہماری تہذیب میں ”فرد” نہیں بلکہ ”ذمہ داری” کی بنیاد پر حقوق کا تعین ہوتا ہے چنانچہ ہم وہ کریں گے جس سے ہماری تہذیب محفوظ رہے اور ہماری پرسکون ازدواجی زندگیوں میں خرابی نہ آئے۔ نیشنلزم کے مقابلے میں اسلام کا ضابطہ حیات ہی ہمارا رہبر اور رہنما ہے۔ اس ضابطے میں نہ کسی مرد کیلئے گنجائش ہے اور نہ ہی کسی عورت کیلئے کہنے کی گنجائش ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی” ہے۔ ہمارے جسم اور ہمارے مال پر ہماری نہیں بلکہ خدائے واحد کی مرضی چلتی ہے اور ہم نے اس کے بھیجے ہوئے آخری رسولۖ کیساتھ یہ مضبوط عہد باندھا ہے۔ یہی تصور شاعرمشرق کے پیش نظر تھا جب اُس نے کہا
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی