بچے کیسے تمباکو نوشی کے اثرات کا شکار ہو رہے ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوش افراد کا جب کوئی گروہ تمباکو نوشی سے پاک کسی جگہ پر جاتا ہے تو مضر کیمیکل وہاں بھی پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے اب تمباکو نوشی کے خلاف مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ تحقیق کے لیے ماہرین نے ایک سینما تھیئٹر کا رخ کیا، جہاں ہزاروں کیمیائی مرکبات محسوس کرنے والے حساس آلات لگائے گئے اور ساتھ ہی ذرات، گیسوں اور دیگر اجزا کو بھی نوٹ کیا گیا۔ ایک ہفتے کے دوران ماہرین نے اس کا بغور جائزہ لیا۔

سائنس دانوں نے انکشاف کیا کہ جب کچھ افراد کا گروہ تھیٹر میں آیا تو تمباکو کے اجزا کی مقدار یک دم بڑھ گئی۔ اس تھیئٹر میں بچوں کی فلمیں بھی دکھائی جاتی ہیں اور یوں وہ بھی تیسرے درجے پر تمباکو نوشی کے اثرات کا شکار ہو رہے تھے۔ اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نہ صرف مرد و خواتین بلکہ بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں آپ کہیں بھی سگریٹ پیئں اور بجھاکر کہیں بھی جائیں تمباکو نوشی کے مضر اجزا اور کیمیکل آپ کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

پروفیسر ڈریو گینٹنر اور ان کے ساتھیوں نے سگریٹ نوشی کے حوالے سے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کرنے والے افراد خواہ کسی بھی ماحول میں جائیں وہ اسے آلودہ کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے لباس اور جلد پر مضر کیمیکل اور اس کے ذرات چپک جاتے ہیں یہاں تک کہ زہریلے مرکبات سگریٹ نہ پینے والے دیگر افراد پر بھی منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی اور سیکنڈ ہینڈ سگریٹ نوشی کے نقصانات واضح طور پر سامنے آچکے ہیں لیکن تھرڈ ہینڈ یعنی سگریٹ پینے والے کسی جگہ جاتے ہیں تو اس کے اثرات اب تک واضح نہیں ہوسکے تھے۔ اسی لیے ہوٹلوں کے بستروں، دیواروں اور گاڑی کے اندرونی حصوں پر تھرڈ ہینڈنگ سگریٹ نوشی کے منفی اثرات پڑسکتے ہیں جو شاید حساس افراد کو کسی طرح متاثر کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ادارے اس کا خصوصی خیال رکھ رہے ہیں۔