وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں

میرے پاس تم ہو جیسا مقبول ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر، ایک ٹی وی شو میں خاتون سے بدزبانی کرنے کی پاداش میں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ اس نے ڈرامہ کے مرکزی کردار ‘دانش’ کو اپنی ہی بیوی کے ہاتھوں ڈسوا کر مار دیا، تو یوں لگا جیسے دانش نہ مرا ہو، ڈرامہ دیکھنے والوں کی دانش مرگئی ہو، کہ وہ سب بلک بلک کر رونے لگے اور ڈرامہ سے بڑھ کر ان کا رونا دھونا ایک طرفہ تماشا یا بذات خود ڈرامہ بن کر رہ گیا، آج ہم نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں اس ہی ڈرامہ نگار کو ”میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ لگانے والی ایک باتونی خاتون کی ایسی خبر لیتے دیکھا کہ اس کے وجود کے اندر کے آتش فشاں کے لاوے نے ہمیں بھی جلا کر راکھ کر ڈالا اور پھر یہ خبر سننے اور دیکھنے کو ملی کہ اس پر ٹی وی اسکریں پر آنے کی پابندی لگا دی گئی، کتنا احترام کرتے ہیں مرد عورت ذات کا، ٹی وی حکام کی جانب سے اس کی یہ درگت دیکھ کر ہمیں کچھ ہی عرصہ پہلے کا اپنا وہ کالم یاد آگیا، جب ہم خواتین کی ایک ایسی تقریب میں جانے کی حماقت کر بیٹھے تھے جہاں پر مردوں کیخلاف ہرزہ سرائی کی جارہی تھی، ہم سے نہ رہا گیا اور ہم نے اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اس حرکت پر صدائے احتجاج کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ ”چڑیوں نے آسمان کو سر پر اُٹھا لیا” اور یوں ہمارے اس جملہ معترضہ نے ایک آگ سی بھڑکا دی آزادی چاہنے والیوں کے گروہ میں اور ہمیں بھگتنا پڑا خواتین کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرنے والی ایک بہت ہی پیاری، معتبر، ایوارڈز یافتہ مصنفہ اور پائے کی بزم آراء خاتون کا غصہ۔ وہ مجھ ناچیز سے جس ادائے دلبرانہ کیساتھ بگڑیں کہ میں ان سے معذرت چاہنے کے امکانات تلاش کرنے لگا، بڑی نازک دل ہوتی ہیں یہ پیکرحسن وجمال، جبھی تو انہیں صنف نازک کہہ کر پکارا جاتا ہے، نزاکت ہی ان کے حسین وجمیل ہونے کا خاصا ہوتا ہے۔ کسی نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا کہ
خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آہی جاتی ہے
بچنا لاکھ چاہو سامنے قیامت آہی جاتی ہے
نزاکت کہتے ہیں کسی حسینہ کے ناز وادا کی اس خوبی کو جو اسے کسی سے فری یا بے تکلف ہونے نہیں دیتی، نزاکت نام ہے دوسروں کیساتھ رکھ رکھاؤ کے ایک انداز دلبرانہ کا، جسے ہم کسی حسن والے کا حسن اخلاق بھی کہہ سکتے ہیں، کسی حسینہ کی جھکی جھکی نگاہیں، اس کے رخساروں پر آجانے والی شرم وحیاء کی سرخی کو، کسی کیساتھ بات کرتے وقت اس کے یاقوتی ہونٹوں کی کپکپاہٹ کو اس کے حسن سراپا کا چھوئے موئے سے انداز کو، ذرا ذرا سی بات پر سر سے سرکتے دوپٹے کو سنبھالنے کی ادا کو اور ایسی کسی حرکت کے سر زد ہو جانے سے اُف اللہ میں مرگئی جیسے تھرکتے الفاظ کے نوک زباں پر آجانے کو، اپنی مخروطی اُنگلی کو بے اختیار دانتوں کے نیچے دبا لینے کو، منہ سے نکلتی چیخ کو ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر دبا دینے کو، کسی چاہنے والے کی چاہت بھری نظروں کی تاب نہ لاکر اپنے دست حنائی سے چہرے کی سرخی کو چھپا لینے کو اور اپنی مخروطی انگلیوں کے روزنوں سے اپنے چاہنے والے کی جانب چوری چوری دیکھنے کو اور اپنے دل کی دھڑکنوں کی دھک دھک میں اپنے چاہنے والے کو بسا لینے کو، سچ پوچھیں تو یہ نازو ادا جسے ہم حسن مشرق کی نزاکت سے تعبیر کرتے ہیں، ایک لازوال تحفظ دیتی ہے بنت حوا کو، جو غالب جیسے بادہ خواروں کو بھی ہوس کا شکار ہونے کی بجائے دل کی دل میں رکھ کر کہنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ
اس نزاکت کا برا ہو، وہ بھلے ہیں، تو کیا
ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
آہ کتنا تحفظ دیا ہے خاتون مشرق کو اس کی رگ وپے میں موجود اس کی حیائ، شرم اور نزاکت نے جس کو مصر کے بازار میں کوڑیوں کے مول بیچنے کیلئے شیشہ گروں نے ”میرا جسم، میری مرضی” کا شوشا چھوڑ کر مغرب کی بے ڈھنگی تقلید کرنے کا عندیہ دیدیا، مشرقی عورت نہ کبھی غلام رہی ہے نہ اسے غلام رکھا جاسکتاہے، پیغمبروں،ولیوں،بزرگوں،سائنسدانوں،ادیبوں اور لیڈروں کو جنم دینے والی اور ان کو اپنی لوریوں کے قرض سے آشنا کرنے والی ماں کبھی بھی میرا جسم میری مرضی کی روادار نہیں ہوسکتی، کوئی بھائی اپنی بہن کو سرعام میرا جسم میری مرضی کی بولی لگا کر جسم فروشی کی دعوت دیتے نہیں دیکھ سکتا، عورت نام ہے پیار کا اور اس کے اندر کوٹ کوٹ کر پیار اور محبت کا یہ جذبہ کبھی ماں کی بے بدل مامتا کی صورت دکھائی دیتا ہے، اور کبھی بہن کا مان بن کر بھائیوں پر نچھاور ہونے لگتا ہے، وہ خاتون یا صنف نازک ہی ہوتی ہے جو اپنے ماں باپ کی جنت کو اپنے پی نگر پر قربان کرنے چلی آتی ہے اور کوشش کرتی ہے اس گھر کو جنت بنانے کی جس گھر میں وہ بہو رانی بن کر اُترتی ہے، بڑی بدنصیب ہوتی ہیں وہ بچیاں جو پی نگر کو جنت نہیں بنا سکتیں، بہت سے گھر اُجڑ جاتے ہیں، عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے بدتمیز ناہنجاروں کے ہاتھوں، لیکن یہ کڑوی حقیقت بھی سنتے جائیے کہ ایسی ناعاقبت اندیش خواتین کی بھی کمی نہیں جس کی نشاندہی خلیل قمر نے اپنے ڈرامہ میں کی تھی، بہت کم ہوتی ہیں لیکن ہوتی ضرور ہیں ایسی خواتین جو اپنے کئے کی سزا پاکر رہتی ہیں، اللہ نہ کرے کہ ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے لئے ایسی سزا تجویز کرکے سربازار کہتی پھریں کہ ‘میرا جسم میری مرضی’ اور ہم کہتے رہ جائیں کہ
وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں
تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے