چاند کی رویت پر اختلافات دور کرنے سے احترازکیوں؟

چاند کی رویت کے معاملے پر اختلافات کے خاتمے کیلئے بلائے گئے اہم اجلاس میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے پیش نہ ہونے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ یا تو وہ اختلافات طے کر نے کے خواہاں نہیں یاپھر وہ طلب کردہ فورم کو مناسب فورم نہیں سمجھتے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق رویت ہلال کمیٹی نے ذی القعد، صفر اور رجب کی تاریخیں غلط دی ہیں۔ مولانا طاہر اشرفی نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی مشکل کام کرنے جا رہی ہے، یہ مسئلہ چاند کا نہیں شخصیات کا ہے، قوم ایک متفقہ چاند چاہتی ہے اور پوری قوم آپ کیساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمان اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو بار بار بلانا چاہیے، مفتی منیب الرحمان حکومت کے ادارے کے سربراہ ہیں، انہیں سرکاری اداروں کی جانب سے بلانے پر آنا چاہیے، اگر مفتی منیب نہیں آنا چاہتے تو عہدے سے استعفیٰ دیدیں۔سینیٹ وقومی اسمبلی کی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی کے اجلاس میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے پیش نہ ہونے کی تو کوئی توجیہہ ہوسکتی ہے البتہ اخلاقی طور پر ان کو وہاں پیش ہو کر اپنے موقف کا اظہار اسلئے ضروری تھا تاکہ ان کے اعلان پر روزہ رکھنے اور عید منانے والوں کو اس امر کا اعتماد دلایا جاتا کہ وہ جن پر اعتماد کررہے ہیں ان کے پاس دلیل اور ٹھوس شواہد وشرعی جواز موجود ہے۔ بہرحال اگر ایک اور موقع دیا جائے تو توقع ہے کہ مفتی پوپلزئی اس فورم میں شریک ہو کر اپنا موقف سمجھائیں گے اور دوسروں کا موقف سنیں گے۔ جہاں تک مفتی منیب الرحمن کا تعلق ہے سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ایک آئینی وپارلیمانی فورم میں اختلافات کے خاتمے پر غور کرنے کیلئے طلب کردہ اجلاس میں ان کی عدم شرکت اگر کوئی ٹھوس وجہ نہ تھی تو بلاجواز ہے، اجلاس میں ایک جید عالم دین نے دونوں علمائے کرام کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس میں اضافہ مناسب نہیں۔ ہر دو علمائے کرام کی سر پرستی میں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کرنے والوں کے پیروکاروں کو ان کے فیصلوں کو اس روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک کے فیصلے کو قبول کرنا عام مسلمان کی مجبوری ہے۔ حکومت اگر رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کرے اور کمیٹی میں علمائے کرام کیساتھ ماہرین کو بھی شامل کرتے ہوئے سائنسی اور شرعی شہادتوں کے امتزاج سے رویت ہلال کا اعلان کرنے کا کوئی قابل قبول طریقہ کار اپنائے اور پورے ملک میں ایک ہی روز روزہ رکھنے اور عید منانے کا انتظام ہوسکے تو مسلمانان پاکستان سالانہ بنیادوں پر تفریق کا شکار ہونے سے بچ جائیں اور یکسوئی حاصل ہو۔
ہراسگی کی شکایت گورنر کی کارروائی
گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی ہدایت پر گومل یونیورسٹی میں مالی بے ضابطگیوں اور جنسی ہراسمنٹ سے متعلق قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر جنسی ہراسگی میں ملوث گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے4ملازمین کی ملازمت سے برخواستگی وہ کارروائی ہے جو ممکن نہ تھی۔ گورنر خیبر پختونخوا نے تمام یونیورسٹیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنا نظام ٹھیک کریں، طلبا کے مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعات پر جتنا افسوس کا اظہار کیا جائے اور اس کی مذمت کی جائے کم ہے۔ شرمناک امر یہ ہے کہ اساتذہ جو والدین کا درجہ رکھتے ہیں سنجیدہ عمر ہونے کے باوجود جنسی ہراسگی کے الزامات سے ان کا دامن داغدار ہونا صرف روزگار سے محرومی اور دنیاوی رسوائی کا حامل معاملہ نہیں بلکہ آخرت میں بھی اس فعل بد کی جواب طلبی یقینی ہے اور وہ نہایت سخت دن ہوگا۔ طالبات کے والد کی عمر کے سفید ریش اور دینیات کی تعلیم سے وابستگان اساتذہ اگر جنسی ہراسگی جیسی بدکرداری کا مظاہرہ کریں گے تو یہ صرف ان کا ہی رسوا کن کردار نہیں مانا جائے گا بلکہ سفید ریش اور دین دونوں ہی کے حوالے سے بھی یہ کسی مثبت تاثر کا باعث نہیں بنیں گے جن عناصر کو طلبہ اور معاشرے کیلئے نمونہ ہونا چاہئے ان کے عبرت کا نشان ہونے پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہوگا۔ گورنر خیبرپختونخوا جامعات میں اس قسم کے مزید واقعات کی روک تھام کیلئے انتظامی طور پر ایسے اقدامات پر توجہ دیں جس میں کوئی طالبہ کسی ہوس مند کی بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو۔ طالبات کو فوری شکایت کیلئے گورنر ہائوس میں کوئی مرکز شکایات نمبر اور واٹس ایپ نمبرمختص کرنا چاہئے تاکہ طالبات ویڈیویا کم ازکم آڈیو ریکارڈنگ کے ثبوت کیساتھ اگر کسی کی شکایت کریں تو فوری کارروائی کی جا سکے جب تک اس قسم کے عناصر کو باور نہیں کرایا جائے گا کہ ان کا کوئی نا مناسب قدم مخفی نہیں رہے گا اور شکایت ملنے پرکوئی رعایت نہ ہوگی اس وقت تک اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن نہ ہوگی۔
ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں
اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ میڈیا پر غیراعلانیہ پابندیاں’ انسانی حقوق کی پامالی اور دستور سے انحراف سماجی ترقی و ارتقا کیساتھ نظام میں بہتری لانے کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان امور کے حوالے سے ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ارباب اختیار کو سوچنا ہوگا کہ جو جماعت آزادی اظہار قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر سامنے آئی تھی اس جماعت کے ڈیڑھ سال کے عرصہ اقتدار میں ایسا کیا ہوا کہ اس حوالے سے سوالات و تحفظات سامنے آنے لگے۔وزیراعظم عمران خان اور اُن کی جماعت میڈیا کی آزادی پر جس یقین کا اظہار کرتے رہے ہیں اُس میں اب تبدیلی دکھائی دیتی ہے جس پر اُنہیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی جمہوریت کے استحکام کیلئے ہی ضروری نہیں بلکہ یہ معاشرے کو بھی اس کا چہرہ دکھاتی ہے جو پابندیوں میں جکڑنے کی صورت میں ممکن نہیں ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ان امورپر توجہ دے بلکہ شکایات کو دور کرنے کیلئے موثر ترین اقدامات اُٹھائے تاکہ نظام کے استحکام کیساتھ جمہوری عمل بھی عوامی توقعات کے مطابق آگے بڑھ سکے۔