کورونا وائرس، دنیا کی 15 ملین آبادی کی اموات کا خدشہ

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 15 ملین افراد فوت ہوں گے اور اِس کی وجہ سے عالمی معیشت پر 2.3 کھرب ڈالرس کی ضرب پڑے گی۔ نئے جائزہ میں پیش قیاسی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی اموات 15 ملین تک پہونچ سکتی ہیں۔ آسٹریلیا نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے ریسرچ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اِس وائرس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔ بدترین صورت میں اموات کی تعداد ناقابل قیاس ہوجائے گی۔ بعض ممالک میں معیشت 8 فیصد تک گھٹ جائے گی۔ برطانیہ اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی موت کے بشمول 68 ملین افراد کو موت کا مزہ چکھنا پڑسکتا ہے۔ کورونا وائرس پر کئے گئے دو ریسرچ میں وارمک میکبورن اور رشن فرنانڈو نے اپنی ریسرچ کے کاغذات کو شائع کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اِس وباء پر قابو نہیں پایا گیا تو اِس کا مختصر مدت میں عالمی معیشت پر بُرا اثر پڑسکتا ہے۔ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں اموات کی شرح دیگر ممالک کے مقابل 2 فیصد زیادہ ہوگی۔ حالیہ ہفتوں میں عالمی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے اور فی الحال یہ 3.4 فیصد تک رُکی ہوئی ہے۔ جائزہ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وباء کے پھیلنے کے پہلے سال کے اندر 15 ملین افراد فوت ہوجائیں گے اور اِن اموات کا سلسلہ گزشتہ سال ڈسمبر میں چین سے شروع ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہندوستان اور چین وبائی امواض کی وجہ سے آبادی کی اکثریت سے محروم ہوجائیں گے۔ امریکہ میں 230,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ اِن اموات کا اندازہ COVID-19 سے لگایا گیا ہے۔ اِس کا تقابل امریکہ میں معمول کے مطابق آنے والے انفلوئنزا سیزن سے کیا گیا ہے جہاں پر تقریباً ہر سال 55 ہزار افراد فوت ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس سے ایک موت واقع ہوئی ہے لیکن آنے والے دنوں میں 64 ہزار تک اموات ہوسکتی ہیں۔ جرمنی میں 79 ہزار اور فرانس میں 60 ہزار افراد کورونا وائرس سے فوت ہوں گے۔ جنوبی کوریا اور اٹلی بھی حالیہ ہفتوں میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں پر بھی ہزاروں اموات ہونے کا اندیشہ ہے۔ اِس تناظر میں برطانیہ کی جی ڈی پی 1.5 فیصد تک گرجائے گی اور امریکہ کی معیشت بھی 2.0 فیصد تک گھٹ جائے گی۔ عالمی سطح پر معیشت کو 2.3 بلین ڈالرس کا نقصان ہوگا۔ تحقیق کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ آسٹریلیا اور جرمنی میں بھی سنگین کساد بازاری آسکتی ہے۔ روس میں یہ ایک ملین تک اموات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اِن تباہ کن نتائج کے تناظر میں کئی ملکوں کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ ساری دنیا میں کام کرنے والی کمپنیاں بلالحاظ سالانہ ٹرن اوور پیداوار میں پیچھے ہوجائیں گی۔ عالمی سطح پر اشیاء کی سربراہی کا جو گراف اور کارکردگی پائی جاتی ہے اِس میں بھی رکاوٹ آجائے گی۔ صارفین اور فرمس کے درمیان ہیجانی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ تحقیق کاروں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی مالیاتی مارکٹوں میں بھی تبدیلیاں آئیں گی اور عالمی اسٹاک بُری طرح گرجائے گا۔ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دیگر ممالک جیسے اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا میں حالیہ ہفتوں کے درمیان جس تیزی کے ساتھ یہ وائرس پھیلا ہے اُس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ وائرس ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔