بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو

دونوں واقعات میں فریق ایک ہی ہے تاہم دونوں واقعات کے دوران کئی برس کا فرق ہے، تازہ ترین واقعہ عالمی عدالت کی جانب سے افغانستان میں طالبان، افغان اور امریکی فورسز کیساتھ سی آئی اے کی جانب سے کئے گئے انسانیت سوز جنگی جرائم کیخلاف تحقیقات کا حکم دینے کا ہے، اس فیصلے کے تحت 2003ء کے بعد تمام کارروائیوں کی تحقیقات کرائی جائیں گی، تاہم امریکہ آئی سی سی یعنی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کا دستخط کنندہ نہیں ہے نہ ہی اپنے شہریوں پر عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرتا ہے جبکہ افغانستان آئی سی سی کا ممبر ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فورسز کیخلاف استغاثہ کو جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل واشنگٹن آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو عرصے سے مسترد کرتے ہوئے تعاون سے انکار کرتا رہا ہے، گزشتہ سال اپریل میں پراسکیوٹر فاتو بینلسوواس نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور عدالت نے جمعرات کو ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرلیا، اب فیصلے کے تحت پراسکیوٹر کو یکم مئی2003ء سے افغانستان کی حدود میں کئے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کی اجازت ہوگی۔
توہین عدالت کا ارادہ تو نہیں تھا
بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو
عالمی عدالت کے اس فیصلے نے ویت نام جنگ کی یاد دلا دی ہے، جب امریکی افواج نے ویت نام کیخلاف کھلی جارحیت کے ریکارڈ قائم کئے تھے، اس وقت عالمی عدالت کو بھی سانپ سونگھا ہوا تھا جبکہ برطانیہ کے فلسفی برٹرینڈرسل نے سب سے پہلے امریکی مظالم کیخلاف آواز اُٹھائی اور فرانس کی ایک نابغہ روزگار شخصیت ژاں پال سارترے بھی ڈٹ کر ان کیساتھ کھڑے ہوگئے، ان دونوں نے امریکی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی ٹریبونل بنا کر امریکہ پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تو اس وقت کی امریکی حکومت کی چیخیں نکال دیں کیونکہ برٹرینڈرسل اور ژاں پال سارترے عالمی سطح کے ایسے دانشور اور فلسفی تھے جن کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، امریکی حکومت نے انہیں بہت دھمکیاں دیں ٹریبونل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے طرح طرح کے حربوں سے ناکام بنانے کی کوششیں کیں۔ ٹریبونل میں دنیا کے کئی ممالک سے عالمی شہرت کے وکلاء اور دانشور بطور جیوری ممبر شامل کئے گئے، پاکستان سے میاں محمود علی قصوری جیوری کے ممبر نامزد کئے گئے، چونکہ ویت نام جنگ میں کئی مغربی ممالک امریکی جارحیت کا ساتھ دے رہے تھے جیسے کہ آج کل عام طور پر نیٹو افواج امریکی جارحیت میں اس کا ساتھ دیتی ہیں، اسی طرح تب فرانس بھی امریکی پالیسیوں کی بھرپور پشت پناہی کرتا تھا، ژاں پال سارترے نے جب برٹرینڈرسل کیساتھ ملکر امریکہ پر جنگی جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے کیلئے آواز اُٹھائی تو اس وقت کے فرانسیسی صدر ڈیگال کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سارترے کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرے، مگر صدر ڈیگال نے مشورہ دینے والوں کو یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ تم لوگ مجھے سارترے کو ہتھکڑیاں لگانے کا مشورہ دے رہے ہو تو کیا میں فرانس کو ہتھکڑیاں لگا دوں، کہ سارترے تو فرانس ہے۔ اس کے نام سے فرانس کی عزت اور پہچان ہے، امریکہ شروع میں تو اس بین الاقوامی ٹریبونل کی سخت مخالفت کر رہا تھا مگر رسل اور سارترے کی وجہ سے مغربی ذرائع ابلاغ نے ٹریبونل کی کارروائی کو بہت کوریج دی جس سے امریکی رائے عامہ کو اس جنگ کی حقیقت اور امریکی افواج کی جارحیت کے بارے میں تواتر سے خبریں ملنے لگیں تو امریکی رائے عامہ بیدار ہوئی اور وہاں سے جنگ کیخلاف مظاہرے ہونے لگے، مجبوراً امریکہ کو وہاں سے اپنی افواج کو نکالنا پڑ گیا۔
رعونت تاج کی مٹی میں مل گئی ساری
مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں
عبرت کی کہانی پھر بھی جاری رہی، کہ امریکہ اس کے بعد کئی ملکوں میں جارحیت کی داستانیں رقم کرتا رہا اور اب بھی دنیا کے کئی خطوں میں یہ جارحیت اس لئے جاری ہے کہ امریکی اسلحہ سازوں کو انہی لاحاصل جنگوں ہی کی وجہ سے اپنا اسلحہ فروخت کر کے کھربوں ڈالرز تجوریوں میں بھرنے کا موقع ملتا ہے، ان جنگوں میں اگرچہ امریکی افواج بھی جان سے ہاتھ دھوتی رہتی ہیں، تاہم جہاں بھی یہ امریکی جاتے ہیں وہاں انسانیت سوز مظالم کی نئی داستانیں رقم ہوتی ہیں، افغانستان کی دلدل میں اُترے ہوئے امریکی اور نیٹو افواج کو بھی بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے مگر اس جنگ میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کی جانیں بھی گئیں جبکہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی ان جنگوں سے بہت متاثر ہوئے، خصوصاً پاکستان میں دہشتگردی کی لہر اُٹھنے سے ہمارے حالات آج جس طرح نظر آرہے ہیں وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان پر دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کے الزامات لگائے گئے، جبکہ انہی الزامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں جوہری تبدیلی واقع ہوئی، بھارت نے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات کی آڑ میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کر لیا بلکہ وہاں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی، اس کی جھلکیاں ہر روز عالمی اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہیں، مگر کھلی آنکھوں سے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کیخلاف ہونے والی ریاستی سرپرستی میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی غنڈہ گردی کو دیکھتے ہوئے بھی دنیا خاموش ہے، ان مظالم کی تحقیقات کیلئے کیا کوئی برٹرینڈرسل اور ژاں پال سارترے بھارت کیخلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ قائم کرنے کیلئے جنم لیں گے؟ کیا عالمی عدالت کوئی تحقیقی ٹریبونل قائم کر کے بھارتی حکومت کی ان چیرہ دستیوں کو بے نقاب کرے گا یا پھر ان مظالم کے بارے میں پوچھنے کی جرأت کسی بھی دنیاوی عدالت میں نہیں ہے کیونکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی ظالموں کا ساتھی بن چکا ہے، بقول سلیم کوثر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر