میرا جسم میری مرضی

روز وشب یہ ہی چرچا اور پرچیاں لگی ہوئی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی، آخر ماجرا کیا ہے اور اتنی فتنہ پروری کیوں ہو رہی ہے، پہلے تو یہ سمجھ میں نہیںآرہا ہے کہ یہ نعرہ کیا ہے اس کا اصل مدعا کیا ہے اور اس کی پشت پر کیا مقاصد ہیں؟ اس کو اپنانے والے اگر شروع ہی میں واضح کر دیتے تو اتنا فتنہ پروری نہ ہوتی۔ حیرت کی بات ہے کہ حکومت نے بھی لنگر لنگوٹ کس لیا ہے اور ایک فریق کی پشت بانی پر اُتر آئی ہے جبکہ وہ پاکستان کیلئے ریاست مدینہ کی دعویدار بھی ہے۔ بہرحال وہ لوگ جو میرا جسم میری مرضی کی بھیروی الاپ رہے ہیں اور اب تو دادرا وٹھمری کی گونج شامل کر دی ہے ان کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس نعرے کی اصل تشریح ہے کیا، ورنہ لوگ جو معنی لے رہے ہیں اس کی شدت میں کمی نہ آپائے گی اور فتنہ فساد بڑھتا رہے گا اور یہ ہی سمجھا جاتا رہے گاکہ اس نعرے کے الفاظ کا استعمال غلط ہی ہوتا ہے، جب سقراط سے اس کے شاگرد نے کہا کہ اُستاد اپنی تجہیز وتکفین کے بارے میں خواہش بتا دیں کہ اس پر عمل پیرا ہو، تو سقراط انتہائی غصہ سے نزاع کے عالم میں اُٹھ بیٹھا اور کہا کہ تم کو کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ الفاظ کا غلط استعمال گناہ عظیم ہے۔ جی ہاں اس نعرے کا بھی غلط استعمال قول سقراط کے مطابق گناہ عظیم ہی ہے، اصل معاملہ شعور کا ہے، جب بچہ زمان صبی میں ہوتا ہے تب اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ناسمجھ ہے گویا شعور پختہ نہیں ہوا ہے، اسی طرح اس لفظ کا ہم معنی لفظ ہے نادان، اگر یہ کسی کیلئے بول دیا جائے تو شاید وہ اس کو بہت زیادہ ناگوار نہ گزرے مگر اس کا ہم معنی لفظ بھولا بول دیا جائے تو وہ غصہ سے بھر جائیگا جبکہ اسے بے وقوف کہہ دیا جائے تو دماغ کا پارہ آسمان پر پہنچ جائیگا اور اسی کا ہم معنی لفظ پاگل کہہ دیا جائے تو دماغ پھٹ پڑے گا، گویا الفاظ بذات خود اچھے یا برے نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کے پیچھے چھپا عمل اچھا یا برا ہوتا ہے۔ یہ ہی معاملہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کا ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ میرے جسم پر میری مرضی کہاں تک لاگو ہے۔ کسی کا بھی اپنے جسم پر کوئی حق نہیں ہے بلکہ جسم کا حق ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے اور اسی ضرورتوں کا حق پورا کیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ نے جسم کو اعضاء میں اس طرح تقسیم کیا ہے کہ ہر عضو کے استعمال کا قانون بنا دیا ہے چنانچہ قانون فطرت کے مطابق ہی اعضاء کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے، دین اسلام اصل میں دین فطرت ہے چنانچہ اس کی پیروی بھی عین فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ ایسا فیصلہ کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے کہ پاؤں ہوتے ہوئے ہاتھوں کے بل چلنا پھرنا شروع کر دے اور کہے کہ اس کا جسم اس کی مرضی، قانون فطرت کے برعکس ہر عمل غلط ہی ہوگا۔ اسی طرح لباس کے معاملے میں بھی قانون فطرت کی پابندی لازمی ہے، سردیوں میں جسم کو گرم کپڑوں کی ضرورت ہے تو اس کی ضرورت پوری کرنا لازم ہے، ایسا ہو نہیں سکتا کہ شدید سردی میں جسم ننگا رکھا جائے، اسی طرح گرمیوں میں موسم کے لحاظ سے ہی لباس زیب تن کرنا ہوگا اور کوئی مرضی نہیںچلے گی ورنہ جسم سے ظلم کا ارتکاب ہوگا، پھر اس کیساتھ دین کے تقاضے بھی پورے کرنا لازم ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ انسان کو میرا جسم میری مرضی کا اختیار خالق کائنات کی طرف سے حاصل ہے یا نہیں۔ دین اسلام میں اتنا مواد اس بارے میں ہے، اگر قرآن وحدیث سے اس کا حوالہ دیا جائے تو دفتر کے دفتر بھر جائیں یہاں مختصر صحیح مسلم کی ایک حدیث کا حوالہ ہی کافی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو زخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ انہیں میں نے نہیں دیکھا، ایک قسم تو اس قوم کے لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس گایوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے اور وہ لوگوں کو ان کوڑوں سے ماریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو لباس پہننے کے بادجود ننگی ہوں گی، دوسرے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی مسافت سے آرہی ہو گی۔
اس حدیث کی روشنی میں لباس کے بارے میں مختلف رائے رکھنے والے خود فیصلہ کر لیں کیا لباس کے بارے میں اس فکر کو تقویت مل سکتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی۔ اسی طرح زندگی بسرکرنے کے بارے میں بھی احکامات موجود ہیں۔ ویسے ماروی سرمد کو چاہئے کہ وہ عظیم مفکر مولانا مودودی کی کتاب پردہ پڑھ لیں تو ان کے بہت سے مسائل حقوق نسوانیت سے متعلق خودبخود حل ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایک اسلامی معاشرے کا فرد ہوکر کچھ نیا چاہتی ہیں تو انہیں پہلے معاشرے کے تقاضے پورا کرنا ہوں گے۔ یہ پاکستانی معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ تقسیم ہند سے بھی بہت پہلے ذرائع ابلاغ پر مخصوص فکر کے لوگوں کا قبضہ تھا جو تسلسل کیساتھ اب بھی جاری ہے چنانچہ وہی عنا صر آج خلیل الرّحمان قمر کو ادب وآداب کا درس دے رہے ہیں۔ کیا ماروی سرمد کو آداب کی ضرورت نہیں، کیا ایک معزز معاشرہ کا یہ تقاضا نہیںکہ جب وہ اپنا مدعا بیان کر چکیں اور شرکاء پروگرام نے ان کی باتیں غور سے سنیں ان کو بھی چاہئے تھا اسی تحمل کیساتھ دوسرو ں کی بھی سنتیں اور ادھم مچانے جیسی غیراخلاقی حرکت نہ کرتیں، یہ تو وہی سازش تھی کہ ناکھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، اخلاقیات کا جنازہ تو وہاں ہی سے نکلا جب خلیل الرّحمان قمر کی باربار التجاء پر کہ ان کی بات سن لی جائے جس تحمل سے انہوں نے محترمہ کی بات سنی مگر صبر وتحمل اور برداشت تو ان میں ہوتی ہے جن میں سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے، چنانچہ اس قضیہ کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے جو کھیل بگاڑنے کی منصوبہ بندی پر روبہ عمل ہوا۔ چاہے وہ قمر تھے یا ماروی صاحبہ۔