چین میں پھنسے طلبہ کے والدین کا مطالبہ

چین میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے میں حکومت کے لیت ولعل کے بعد پریشان حال والدین کا عدالت سے رجوع ان کی مجبوری ہے لیکن عدالت کا موقف ہے کہ وہ صرف والدین کی تسلی کیلئے مقدمہ سن رہے ہیں وگرنہ یہ ان کا اختیار نہیں اور نہ ہی عدالت حکومتی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ عدالت کے ریمارکس سے قطع نظر والدین کا یہ موقف قابل توجہ ہے کہ عدالت حکومت کو کہے کہ چین اور ایران سے شہریوں کی واپسی کی ایک پالیسی رکھیں، ایران سے زائرین واپس آ سکتے ہیں تو ہمارے بچے بھی چین سے واپس لائے جائیں۔ عدالت قانون اور قانونی اختیارات کے اندر رہ کر ہی مقدمے کا جو بھی فیصلہ دے اس سے قطع نظر طلبہ کے والدین کا یہ موقف درست ہے کہ حکومت ان کے بچوں اور ایران سے زائرین کی واپسی کیلئے ایک ہی فامولہ رکھے۔ چین میں پھنسے واپسی کے خواہشمند طالب علموں کے والدین کو صبر وتحمل کا مشورہ تو دیا جاسکتا ہے ان کو اسلامی تعلیمات اور ہدایت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین تو کی جاسکتی ہے لیکن اگر بے قراروالدین بضد ہیں تو ان کے بچوں کو واپس آنے سے روکنے کا اقدام خواہ وہ پاکستان کی طرف سے ہو یا پھر جس ملک میں مقیم ہیں اس ملک کی طرف سے رکاوٹ ڈالی جائے قابل قبول امر نہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے اپنے شہریوں کو ابتداء ہی میں چین سے نکال کر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے، پاکستان کے پاس اس امر کا کوئی جواز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے انخلاء کیلئے اقدامات نہ کرے۔ اب تو کورونا وائرس کے پھیلائو اس کی مضر رسانی اور علاج معالجہ بارے بڑی حد تک صورتحال واضح ہوچکی ہے اور اموات کی شرح میں کمی آرہی ہے، ایسے میں اس ضمن میں والدین کی تشویش صرف ان کا وہم اور شفقت پدری و مادری ہی نظر آتا ہے۔ بہرحال حکومت کو اس معاملے میں پریشان حال والدین کے مطالبات پر غورکرنے اور ان کیلئے قابل قبول اقدامات میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
صوتی آلودگی کا سنگین مسئلہ
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے منعقد کئے گئے سروے میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں شور کی اوسط شرح اس وقت 74.5ڈیسی بیل ہے جو قومی ماحولیاتی معیار سے زیادہ ہے۔ قومی ماحولیاتی معیار کے مطابق شور کی شرح زیادہ سے زیادہ 65ڈیسی بیل ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شور کی شرح میں اضافہ شہریوں کیلئے خطرناک ہے اور بلند فشار خون سمیت دیگر امراض قلب کی وجوہات بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں شور کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک کو قرار دیا گیا ہے جہاں ٹریفک جام کے باعث مسلسل ہارن کے استعمال سے شور پیدا ہوتا ہے جبکہ کافی تعداد میں لوگوں کا دیہی علاقوں سے پشاور آمد بھی شہر کے شور میں اضافے کا باعث ہے۔ سرکاری رپورٹ میں صوتی آلودگی اور کثافت کی مقدار و وجوہات دونوں کا مفصل تذکرہ موجود ہے جس کے بعد اس حوالے سے حکومتی اقدامات کا سوال ہی اُٹھایا جاسکتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے شور میں کمی کی ایک بڑی اُمید بی آر ٹی کی فعالیت سے وابستہ ہے۔ حکومت جتنا جلد بی آر ٹی چلا سکے اتنا ہی بہترہوگا۔ رش میں پھنسنے کے باعث ہارن بجانے کو ڈرائیوروں نے ایک نفسیاتی حل سمجھ رکھا ہے، علاوہ ازیں بھی بعض ڈرائیور بلا وجہ ہارن بجاتے ہیں۔ اس ضمن میں شعور و آگہی دینے کے علاوہ ان کیخلاف کارروائی ہی ایک امکان باقی رہ جاتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے گی اور ماہرین سے مشاورت کے بعد صوبائی آلودگی میں کمی لا کر شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات و مشکلات کا ازالہ کرے گی۔