امن معاہدے کو ایک اور دھچکا

امریکا اور روس نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ عالمی برادری اسلامی امارتِ افغانستان’ کی بحالی کی حمایت یا اسے قبول نہ کرے۔دوسری جانب 2روز قبل طالبان کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ 2001 میں امریکا کی جانب سے کابل حکومت کے خاتمے سے قبل جو ‘اسلامی حکومت’ قائم تھی اسے بحال کرنا ان کا فرض ہے ۔اس معاہدے کے تحت افغانستان سے14 ہزار امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کیلئے کچھ شرائط رکھی گئیں تھیں اور کابل میں نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کیلئے بین الافغان بات چیت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے باجود طالبان کا اصرار ہے کہ ان کے رہنما ملا ہیبت اللہ افغانستان کے واحد قانونی حکمراں’ ہیں اورافغانستان میںاسلامی حکومت کی بحالی ان کا فرض ہے۔طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ امن معاہدہ کے بعد اختیار کردہ طرزعمل سے کسی طور یہ نظر نہیں آتا کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جو امن معاہدہ طے پایا ہے اس کی کامیابی کیلئے جن سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے وہ اختیار کئے جائیں۔ امریکہ اور طالبان میں جو معاہدہ طے پایا ہے اس میں امارت اسلامی افغانستان کا لفاظ استعمال کیا گیا ہے اس نام پر ہونے والے معاہدے کے بعد کسی فریق کی جانب سے اس سے ہٹنامعاہدے سے انحراف کے زمرے میں آئے گا۔عالمی برادری اور بالخصوص روس کو اس سے اتفاق نہ کرنے اور اس کی مخالفت کی نہ صرف پوری گنجائش موجود ہے بلکہ حقیقت بھی یہ ہے کہ اس وقت کابل حکومت اور افغانستان میں انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت ہی عالمی برادری کیلئے تسلیم شدہ حیثیت کی حامل ہے البتہ امریکہ نے طالبان کے اصرار پر اس نام کو معاہدے کی حد تک تسلیم کرچکاہے۔اس نئے قضیہ سے قطع نظر افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کی شرط ماننے سے انکار،امریکہ کا طالبان حملہ آوروں پر فضائی حملہ، امریکی اداروں کی جانب سے طالبان کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کے شکوک کا بلاوجہ اظہار اور اب اسلامی امارت افغانستان کے نام کے حوالے سے مخالفانہ موقف ان ساری تاویلات سے معاہدے کا خطرے میں پڑ جانا فطری امر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیک وقت مختلف خیالات کا اظہار کرنے سے بھی صورتحال کا درست رخ سمجھنا مشکل ہے جو ایک جانب افغانستان میں بے شمار فوجیں بھیجنے اور دوسری جانب کابل پر طالبان حکومت کے قیام کے امکانات کی پیشگوئی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان سارے عوامل سے کسی طور یہ نظرنہیں آتا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں قوتیں سنجیدگی کیساتھ امن معاہدے کی کامیابی کیلئے کوشاں ہیں۔ ویسے بھی اس معاہدے کے وقت ہی جو سب سے اہم سوال اُٹھایا گیا وہ یہی تھا کہ اس معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کیسے ہوگا اور اس معاہدے کے نتیجے میں افغانستان میں بین الافغان مذاکرات کی راہ کیسے ہموار ہوگی۔تازہ ترین معاملے پر طالبان کے ردعمل کے آنے کے بعد ہی اس امر کا علم ہوسکے گا کہ آیا طالبان اسلامی امارت افغانستان کے نام سے دستبرداری اختیار کرتے ہیں یا پھر اپنے زیراثر علاقوں میں وہ اس نام کی ایک طرح کی حکومت کے طور پر اسے جاری رکھتے ہیں بہرحال جو بھی ہوامن معاہدے کو درپیش خطرات میں اضافہ اور اس کی کامیابی کا امکان آئے روز کم سے کم ہوتا جارہا ہے جس سے بین الافغان مذاکرات اور افغانستان میں قیام امن واستحکام امن کی توقعات وابستہ ہیں۔