اپنوں سے شکوہ کناں عمران خان

وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر اپنوں اور غیروں سے شکوہ کناں نظر آرہے ہیں بلکہ اس بار ان کا روئے سخن غیروں سے زیادہ اپنوں کی جانب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کیخلاف جھوٹی خبریں چلائی جارہی ہیں، اپوزیشن کچھ نہ کرے تو اپنا کوئی وزیر بیان داغ دیتا ہے کہ جس کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اکثر وزرا دفاتر کی بجائے کوہسار مارکیٹ میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے آٹا اور چینی بحران کے ذمہ داروں کو تحقیقات کے بعد قانون کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ آٹا اور چینی بحران پر رپورٹ سامنے لائیں جو بھی ذمہ دار کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے نہیں چھوڑوں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنوں اور غیروں کا جو شکوہ کیا قطعی بجا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اکثر اپنے غیروں کی محفل سے ہی اُٹھ کر آئے ہیں اور آئے بھی کیا ہیں ”آیا نہیں ہوں لایا گیا ہوں میں” والی کیفیت کا منہ بولتا اشتہار ہیں۔ ایسا بھی نہیں انہیں کسی نے کالر سے پکڑ کر زبردستی لایا ہو مگر حالات، مجبوریاں اور بند فائلیں انہیں اپنا کیمپ بدلنے پر مجبور کرنے کا باعث بنی ہیں۔ اب یہی لوگ تحریک انصاف کا حصہ تو ضرور ہیں مگر وہ اس شعر کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں
اُٹھ کر تو آئے ہیں ہم تیری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
یہ وہی لوگ ہیں جو لکیر کے دوسری جانب تھے تو وسائل کی گنگا جمنا میں نہایا کرتے تھے۔اسی لئے ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کی حکومت ناکام ہوجائے اور اس کی جگہ ماضی کا نظام اور اللے تللے بحال ہوجائیں۔ غیروں کی مجبوری تو زیادہ وضاحت کی محتاج نہیں۔ ان کیساتھ وقت اور حالات اور خود اپنی اداؤں نے جو کچھ کیا ہے وہ بلاشبہ اس کا ذمہ دار عمران خان کو سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عمران خان کا ایک قصور یہ ہے کہ وہ ماضی کی مفاہمتی پالیسی کو اپناتے ہوئے ”کھایا پیا ہضم” کی روایت پر عمل نہیں کرتا۔ گرینڈ ڈائیلاگ، ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن جیسی اصطلاحات اور تجویزیں حقیقت میں اسی خواہش کا ایک روپ اور انداز ہیں۔ عمران خان کی صفوں میں کھڑے اپنے ”ہاتھ کی صفائی” دکھانے سے باز نہیں آتے مگر عمران خان نے احتساب کی باتیں کرکے خوف کا ایک کوڑا ان کے سروں پر لہرا رکھا ہے۔ اب جبکہ حقیقی احتساب کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے مگر وہ اب بھی احتساب کی بات کر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں پارلیمانی نظام کے اندرحقیقی احتساب ممکن ہی نہیں رہا۔ حکمران خواہ کس قدر طاقتور اور پُرعزم کیوں نہ ہو مگر سسٹم کے سپیڈ بریکر اس کا موشن توڑنے میں اپنا کردارادا کرتے چلتے جاتے ہیں۔ پھر بین الاقوامی نظام اور ممالک سیاسی مصلحتوں کی بنا پر ملک سے لوٹی ہوئی ناجائز دولت کا سراغ دینے میں معاونت کرنے اور اسے برآمدکرنے میں تعاون کرنے کی بجائے اس سارے عمل کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ ماضی میں الطاف حسین کیساتھ یہ ہمدردانہ اور مشفقانہ رویہ اپنایا گیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، ہانگ کانگ جیسے ممالک ناجائز دولت کی پردہ پوشی کرنے والوں میں نمایاں ہیں۔ اس عمل کے ذریعے وہ سیاسی حکمرانوں سے نہ جانے کونسے فیصلے کراتے رہے ہوں گے۔ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں عمران خان نے ان بڑے ملکوں کے متضاد رویوں پر کاری ضرب لگائی تھی جو اپنے ملکوں میں کرپشن کیلئے زیروٹالرنس رکھتے ہیں اور غریب ملکوں کی دولت کیلئے دیدہ ودل فرش راہ اور اپنی تجوریاں حاضر رکھتے ہیں اسلئے عالمی اور ملکی ماحول کسی طور احتسابی عمل کا معان نہیں بنتا اور اب کرپشن اس قدر سائنسی رنگ اختیار کرچکی ہے کہ اس کے مرتکبین کا نقش قدم تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو کر رہ گیا ہے۔ عمران خان یا اس ماحول اور سسٹم میں مس فٹ ہیں یا یہ سسٹم ان کیلئے نہیں۔ یہی وجہ ہے عمران خان کی حکومت کو بحرانوں سے سر پھیرنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی۔ غیروں سے جو کسر باقی رہ جاتی ہے وہ اپنے پوری کر دیتے ہیں۔ رنگ برنگے بحران حکومت کو جونک کی طرح چمٹ کر رہ گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان ایک مضبوط اعصاب کے حامل انسان نہ ہوتے تو کب کے پلو جھاڑ کر گھر چل دئیے ہوتے مگر وہ اپنی سرشت میں ایک جنگجو انسان ہیں جن کی تربیت ہی بحرانوں کے مقابلے کیلئے ہوتی رہی اور کھیل کے میدان کی یہی تربیت اور تجربہ پہلے سیاست میں اور اب حکومت میں ان کے کام آرہی ہے۔ وگرنہ سیاست کی راہگزار بھی ان کیلئے کبھی آسان نہیں رہی۔ ملک کے باوسیلہ اور خانقاہوں اور گدی نشینی جیسے تقدس کے حامل طاقتور سیاسی خاندانوں اور خانوادوں کا مقابلہ آسان کام نہیں تھا۔ اس کے بعد اب ایک ”ان گورن ایبل” ملک پر حکمرانی کرنا بھی قطعی آسان نہیں۔ اس کے باجود عمران خان بحرانوں کے اندر اپنی حکومت کیلئے راہ بنارہے ہیں۔ آٹا بحران، چینی بحران، ٹماٹر بحران، کرنسی بحران اور نجانے کس کس نام سے بحرانوں کی ایک بارات حکومت کیساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ اب عمران خان نے ان مصنوعی بحرانوں کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرکے بتا دیا ہے کہ حالات نے ان کے اعصاب کو کمزور نہیں کیا بلکہ ان کے اندر کا جنگجو اب بھی حالات کا مقابلہ کرنے اور مشکلات کا دھارا موڑنے کے عزم پر قائم ہے۔ اپنوں کے رویوں پر تو ان سے فقط یہی کہا جا سکتا ہے
اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے
صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے
مایوسی کی نعمت بڑی مشکل سے ملی ہے
پھر آس بندھاتے ہو تم اچھا نہیں کرتے