ایک ملک تین حکومتیں

اس وقت دنیا کا واحد ملک افغانستان ہے جہاں تین حکومتیں قائم ہیں۔ ایک حکومت کے دعویدار اشرف غنی ہیں، دوسری کے عبداللہ عبداللہ اور تیسری حکومت اسلامی امارت افغانستان ہے جو طالبان کی قائم کردہ ہے، جس پر امریکا نے نائن الیون کے چکر میں حملہ کردیا تھا، گو اس وقت جبکہ طالبان کیساتھ امریکا نے برابری کی بنیاد پر بیٹھ کر امریکی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کیا ہے افغانستان میں ایک نیا کھیل شروع ہو گیا ہے، اگر فوری طور پر اس کا تدارک نہ ہوا تو افغانستان کے حالات ایک نئے موڑ پر داخل ہو جائیں گے جو علاقائی حالات پر بھی بھیانک اثرات مرتب کرنے کا سبب بنیں گے اور خود افغانستان کے عوام کیلئے خطرناک عفریت سے کم ثابت نہیں ہوں گے، ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں افغان عوام کو سکون سے رہنے دینا نہیں چاہتیں، ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اور اس کے حواری جب بھی کسی خطہ سے نکلے ہیں یا گزرے ہیں وہاں کے عوام کیلئے فتنہ چھوڑ گئے ہیں۔ برطانیہ کے ہندوستان سے انخلاء کے بعد آج پاکستان اور بھارت جس نہج پر کھڑے ہیں وہ سب برطانیہ کا وراثتی فتنہ ہی تو ہے۔ اب افغانستان میں تاریخ کا انوکھا کھیل کھیلا جا رہا ہے، بیک وقت افغانستان کے دو صدر بن گئے، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے ایک ہی روز اور ایک ہی وقت میں افغانستان کے صدر کے عہدے کا حلف اُٹھا لیا، گو ہنوز طے نہیں پایا جاسکا ہے کہ ان دونوں حکومتوں کی مستقبل میں کیا صورتحال رہے گی مگر طالبان ان دونوں بلکہ امریکی تسلط سے بھی زیادہ مضبوط ہیں اور ملک کے نصف سے زیادہ حصے پر ان کا کنٹرول قائم ہے جس کا اعتراف امریکا بھی کرتا ہے۔ بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ اشرف غنی کی حکومت کو امریکا کی آشیرباد حاصل ہے اور دنیا بھی اسی کو تسلیم کرلے گی کیونکہ سہاگن وہی کہلائے جو من پیا بھائے۔ افغانستان میں صدارتی انتخاب اپنے انعقاد کے روز سے ہی متنازع قرار پا رہے تھے، افغانستان کی سب سے بڑی جہادی تنظیم کے سربراہ گلبدین حکمت یار جو خود بھی اُمیدوار تھے نے صدارتی انتخاب کے نتیجہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور عبداللہ عبداللہ کا رویہ تو اس معاملے بہت سخت گیر رہا۔ حلف برداری کی تقریب امریکا کیساتھ طالبان کے معاہدے سے قبل منعقد ہو رہی تھی مگر امریکی دباؤ پر اس کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔ امریکا کا اشرف غنی کی حمایت کا اندازہ اس امر سے ہو رہا ہے کہ اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے امریکی نمائندے خلیل زلمے، کابل میں امریکی سفیر اور امریکی فوج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر نے شرکت کی جبکہ عبداللہ عبداللہ کی تقریب حلف برداری میں کوئی امریکی نمائندہ شریک نہ تھا تاہم جنگجو لیڈر جنرل رشید دوستم اور شیعہ رہنماء علامہ محمد محقق کی حمایت حاصل ہے۔ جنرل رشید دوستم کو ایک سفاک قسم کا جنگجو تسلیم کیا جاتا ہے جس نے طالبان پر امریکی حملہ کے وقت طالبان کیخلاف اہم جنگجوانہ کردار ادا کیا تھا اور اس موقع پر رشید دوستم کو ایران کی حمایت حاصل رہی تھی، گویا افغانستان میں امریکی تسلط کے قیام میں جنرل دوستم اور محقق کا اہم کردار رہا، شمالی اتحاد کو طالبان کے مقابلے میں سیاسی اور عسکری وسیاسی حمایت اور پشت بانی ایران، بھارت اور کسی حد تک روس کی رہی ہے، کچھ ایسی صورتحال اب بھی نظر آرہی ہے، روس کسی حالت میں نہیں چاہتا کہ اس خطے میں امریکا کو کوئی مستحکم ٹھکانہ مل پائے۔ بھارت جو امریکی تعاون سے افغانستان میں گھس بیٹھنے کی مساعی میں رہا ہے اس کو طالبان کیساتھ معاہدہ کے بعد بے حد مایوسی کا سامنا ہے کیونکہ طالبان کی طاقت غیرمسخر ثابت ہو چکی ہے اور طالبان بھارت پر اعتماد کبھی نہیں کریں گے۔
امریکا سے معاہدے کے بعد بین الافغانی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا ہے جس کیلئے طالبان نے اپنا وفد تشکیل دیدیا ہے مگر افغانستان کی حکومت کی جانب سے ہنوز کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے، افغان حکومت کی جانب سے کون نمائندگی کریگا اس بارے میں سبھی لاعلم ہیں جبکہ امریکا نے افغانستان سے رخت سفر باندھ لیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات میں سدھار لانے کیلئے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقاتیں کیں تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا، ایک اطلاع یہ بھی ملی ہے کہ اشرف غنی نے مذاکرات سے قبل طالبان قیدیوں کی رہائی کی حامی بھرلی ہے لیکن اس میں بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے جبکہ طالبان کا مؤقف ہے کہ جنگی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ امریکا کیساتھ معاہدے کا حصہ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی سے قبل کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بعض بیرونی طاقتوں نے کمر کسی ہوئی ہیں چنانچہ یہ بھی اُڑائی گئی کہ طالبان معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں، طالبان نے اس کی سختی سے تردید کی جبکہ امریکی سینیٹ کے اجلاس میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے بتایا کہ طالبان تشدد میںکمی کے وعدے پر مخلصانہ عمل کر رہے ہیں اور ہنوز کوئی ناخوشگوار واقعہ طالبان کی جانب سے رونما نہیں ہوا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ افغانی شیعہ تنظیم حزب وحدت کے رہنماء عبدالعلی مزاری کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب میں مسلح گروہ کی جانب سے فائرنگ میں اکیس افراد جان بحق ہوئے تھے، اس تقریب میں عبداللہ عبداللہ، سابق صدر حامد کرزئی، حزب وحدت کے رہنماء محقق اور امن کونسل کے سربراہ کریم خلیلی بھی شریک تھے جس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ برسی کے حوالے سے دراصل یہ اشرف غنی کیخلاف سیاسی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ واضح رہے کہ ایران نے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کو رد کر دیا ہے اس حملے کا مقصد بھی یہ نظر آرہا تھا کہ اس طرح طالبان کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کئے جائیں مگر طالبان نے فوری طور پر اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی اس طرح یہ کھیل ناکام ہوگیا بہرحال دو صدور کے حلف اُٹھانے سے صورتحال گمبھیر ہو چکی ہے۔