ایک نیام میں تین تین تلواریں

جنگ زدہ ملک افغانستان میں ایک ہی دن صدرمملکت کے عہدے کیلئے دو دو افراد کا حلف اُٹھانا اور طالبان کی جانب سے امارت اسلامی افغانستان کا دعویٰ ایک نیام میں تین تین تلواروں کا باعث امر ہے، جو ایک نیام دو تلواریں کی ہیئت تبدیلی کا حامل انوکھا واقعہ ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں غیرملکی افواج کی واپسی اور بین الافغان مذاکرات کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس ملک میں اتحادواتفاق اور ہم آہنگی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں پر انتخابات میں معمولی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹیو کے طور پر گزشتہ افغان حکومت میں برابر کا شریک عبداللہ عبداللہ اورافغان حکومت اور انتخابات کو سرے سے تسلیم نہ کرنے والے طالبان کی صورت میں تین طاقتور فریقوں اور ان کے حامیوں اور حلیفوں کی موجودگی میں حکومتی وریاستی معاملات کیسے آگے بڑھیں گے اس سوال کا جواب ہی مشکل ہے کجا کہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہو۔ کابل پر بلاشرکت غیرے اشرف غنی کی حکومت ہوتی اور عبداللہ عبداللہ سمیت ان کو مقتدر افغان قوتوں کی حمایت حاصل ہوتی یا کم ازکم تصادم کا خطرہ نہ ہوتا تو بین الافغان مذاکرات کی اُمید کا برآنا ممکن تھا۔افغانستان میں دو بلکہ تین متوازی حکومتوں کی موجودگی جنگ زدہ افغانستان کو شدید بحران سے دوچار کرنے کا باعث ہوگا جبکہ افغانستان میں پیچیدہ صورتحال امریکہ کیلئے بھی پیچیدہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بہرحال امریکہ کو اس امر کی جلدی ہے کہ وہ کس طرح سے اپنی فوجوں کا انخلاء کرے۔ ان تمام حالات کے باوجود امریکہ نے اپنی فوجوں کا انخلاء شروع کردیا ہے جس کے بعد خانہ جنگی کی صورت میں افغان گروہوں کے درمیان بیچ بچائو کرنے والی قوت کی بھی تعداد گھٹ جائے گی۔ دم تحریر پروگرام کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی اور قیدیوں کا تبادلہ شروع نہیں ہو سکا ہے البتہ اس حوالے سے صدر اشرف غنی آمادہ بہ تعاون ہیں جو امید کی ایک کرن ہے۔ افغانستان میں ایک ہی دن دو دو صدور کی تقریب حلف برداری کے باوجود بہرحال اشرف غنی ہی افغانستان کے قانونی صدر ہیں اولاً یہ کہ افغان الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں کامیاب قرار دیا گیا ہے اور ان کی تقریب حلف برداری میں مختلف ملکوں کے نمائندوں اور سیاسی زعماء نے شرکت کی ہے۔ عبداللہ عبداللہ کے ان کو چیلنج کرنے کا مقصد کیا تھا اور وہ کن شرائط اور عہدوں پر راضی ہوں گے اس کے امکانات فی الوقت روشن نہیں، اُن کا ایک باغی صدر کے طور پر امور مملکت میں دخیل ہونا بہرحال کوئی آسان کام نہ ہوگا، خاص طور پر ایسا کرنے کی صورت میں تصادم کی جو کیفیت پیدا ہوگی اس سے افغانستان کی تقسیم کا خطرہ پیدا ہوگا۔ طالبان پہلے ہی ایک طرح سے متوازی حکومت کی صورت میں ملک کے چالیس فیصد حصوں میں موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال کا واحد حل وسیع البنیاد بین الافغان مذاکرات ہی ہے، صدر اشرف غنی کے پاس مذاکرات اور وسیع البنیاد قومی حکومت کا قیام ہی ایک ایسا راستہ ہے جسے اختیار کر کے خانہ جنگی اور سیاسی انتشار کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔