بجلی گیس کی قیمتیں منجمد نہیں کم کی جائیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی ہوجائے بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھنے نہیں دیں گے بلکہ انہیں کم کریں گے۔ وزیراعظم نے قوم سے یہ وعدہ ایک ایسے وقت کیا جب روس کی جانب سے اوپیک کے مطالبے پر تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں موجودہ کم سطح پربرقرار رہیں تو معقول ٹیکس وصولیوں کیساتھ یکم اپریل سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت باآسانی20 روپے لیٹر تک کم کی جا سکتی ہے۔ فرنس آئل کی قیمت میں کمی سے تیل پر چلنے والے بجلی گھروں سے بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی گرسکتی ہے جبکہ سی این جی کی قیمت میں بھی 20 روپے فی کلو کمی ممکن ہے جس کے باعث صنعتوں کو بھی کم قیمت میں گیس دی جاسکتی ہے۔ایسی صورتحال میں ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بہتر اور روپے کی قدر مستحکم ہو سکتی ہے اور پاکستان جیسے ملکوں میں مہنگائی میں کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔جہاں ایک جانب نہایت موافق حالات پیدا ہورہے ہیں اور یہ اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ مہنگائی میں کمی ممکن ہے وہاں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں اضافہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی شرح کے مطابق کم نہ کرنے سے حوصلہ افزاء صورتحال دکھائی نہیں دیتی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ درآمدات میں کمی اور تیل کی قیمتیں گرجانے سے بجائے اس کے کہ ڈالر کی قیمت میں بھی کمی آتی ڈالر اچانک دو روپے چونتیس پیسے مہنگا ہوگیا ہے جس کے اثرات کے باعث مہنگائی میں کمی کا عمل ممکن نہیں ہوگا۔ بہرحال اس صورتحال سے قطع نظر تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو حکومت عوام تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے تو حکومت کے پاس مہنگائی میں کمی لانے اور مہنگائی پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہونے کا موقع ہے۔ جہاں تک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے اعلان کا سوال ہے حکومت بجلی،گیس،پیٹرولیم مصنوعات سمیت ہر چیز کی قیمت میں برسراقتدار آنے سے تاایندم اضافہ دراضافہ کا جو سبب بنتی رہی ہے اس کے باعث تمام چیزوں کی قیمت اس بلند ترین نشان کو چھو چکی ہے جسے افادہ مختتم سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا اعلان کوئی خوشخبری نہیں بلکہ اس کی گنجائش ہی نہ تھی، وزیراعظم اگر عوام کو ریلیف دینے کے خواہاں ہیں تو قیمتوں میں کمی اور اگر ممکن ہوسکے تو غیرمنصفانہ شرح سے وصول شدہ رقم کی بلوں میں ایڈ جسٹمنٹ کا انتظام کرے تاکہ عوام کو تھوڑا سا ریلیف ملے۔ وزیراعظم کے اعلان کے باوجود بجلی اور گیس کی قیمتیں زیادہ عرصہ منجمد رہنے کا امکان نہیں، وزیراعظم کو اپنے وعدے کی تکمیل کے عزم کیساتھ عملی اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف مل سکے۔
لاحاصل اجتماعات کی ضرورت ہی کیا؟
پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والی قوم پرست اورمذہبی سیاسی جماعتوں کے طلب کردہ قومی جرگے، کل جماعتی کانفرنسز اور اتحاد پختونوں کے مسائل کا حل نکالے بغیر منطقی انجام کو پہنچتے رہنے کا تسلسل ٹوٹنے کی اُمید اسلئے نہیں کہ یہ جماعتیں جماعتی سیاسی گروہی اور ذاتی مفادات قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ان کی اس قسم کی سرگرمیوں کا مقصد مسائل کا حل اور حقوق کے حصول کی بجائے سیاسی طور پر متحرک رہنے ہی میں نظر آتا ہے۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے مختلف ناموں پر اجتماعات کا انعقاد ضرورت کے وقت درپیش سیاسی چیلنج سے نکلنا ہے وگرنہ اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں مفادات سے بالا تر ہو کر کام کریں تو حکومت اور حزب اختلاف کی تفریق بھی باقی نہیں رہنی چاہئے اور ایسا ہونے پر ہی صوبے کے حقوق کی صدا بلند ہوگی اور ہماری آواز اسلام آباد میں نہ صرف سنی جا سکے گی بلکہ ہمارے مسائل کے حل اور خاص طور پر بجلی خالص منافع کے بقایا جات سمیت ادائیگی پر آمادگی کا اظہار ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو عوام کے اجتماعی مفاد اور صوبے کی تعمیر وترقی کیلئے بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر نشستند و گفتتند وبرخواستند سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
شجرکاری کیساتھ تحفظ اشجار پر بھی توجہ کی ضرورت
مختلف صوبائی وزراء مشیروں اور حکام کی جانب سے صوبے میں شجر کاری کی مہم میں بھرپور شرکت اور ایک ہی دن میں ریکارڈ پودے لگانے کا عمل خوش آئند اور قابل تحسین امر ہے۔اسی تسلسل میں ایک صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا ہے کہ شجرکاری مہم کا مقصد عوام میں ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنا ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبہ کے تحت صوبہ میں ایک ارب سے زیادہ پودے لگائے گئے جس سے صوبہ میں جنگلات کے رقبے میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنے کیلئے صوبے میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنی ہوگی تاکہ صوبے کومضر اثرات سے بچاجاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے حکومت کیساتھ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔ صوبائی وزیر کے زریں خیالات سے عدم اتفاق ممکن نہیں حکومتی عزم اور مساعی کا بھی اعتراف ہے البتہ اس مہم میں جس ضروری امر پر توجہ کی ضرورت ہے اور جس کے بغیر شجرکاری مہم بے معنی ہو جاتا ہے وہ پودوں کی نگہداشت وآبیاری پر عدم توجہ ہے،زیادہ سے زیادہ پودے لگانا اس صورت ہی سود مند ہوسکتا ہے جب ان پودوں کی اس طرح حفاظت کی جائے کہ یہ شجرسایہ دار بن جائیں۔ کتنی ہی ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں پودے اگلے دوسرے تیسرے دن سوکھ گئے، لوگ آکر پودوں کو اُکھاڑ لے گئے یا پھر پودے موسمی شدائد کی نذر ہوگئے۔ حکومت کو شجر کاری کیساتھ تحفظ اشجار کی بھی مہم چلانی چاہئے اور پودوں کو ضائع ہونے سے بچانے پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ جن وزراء مشیروں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے اس سال شجرکاری مہم میں حصہ لیا ہے یا پچھلے سال جو پودے لگائے گئے تھے ان کا برموقع خود دورہ کر کے صورتحال سے آگاہی حاصل کریں تو یہ بڑا معاون امر ہوگا۔ اس طرح سے پودوں کی نگہداشت وتحفظ کے کام میں بہتری ممکن ہے۔توقعی کی جانی چاہئے کہ پودوں کے ضیاع، وسائل اور محنت کے رائیگاں جانے کے اس جاری عمل کی روک تھام کیلئے جلد ہی سنجیدہ اقدامات نظر آئیں گے۔