تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب ہم پشاور یونیورسٹی کے لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے کی نیت سے پہنچے تھے۔ حق مغفرت کرے پروفیسر اے یو خان ڈیپارٹمنٹ آف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے انٹرویو بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے انگریزی زبان میں مخاطب ہوکر کہا کہ تمہیں کیا دلچسپی ہے لائبریری سائنس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے کی، جس کے جواب میں، میں نے تُکا مارتے ہوئے کہہ دیا کہ ”کتابیں میرا اوڑھنا بچھونا ہیں”۔ میری یہ بات سن کر انٹرویو بورڈ کے عملہ کو ہنس دینا چاہئے تھا، لیکن کسی نے ایسا نہیں کیا۔ میں ایک مصنف ہوں، میں نے ڈھینگ ماری، کونسی کتاب لکھی ہے تو نے، انٹرویو بورڈ کے عملے میں سے ایک پروفیسر نے پوچھا، اور میں نے ہندکو زبان پر لکھی جانے والی اپنی کتابوں کے نام گنوا دئیے۔ کتنی پرانی ہے ہندکو زبان؟ ان میں سے ایک صاحب نے سوال کر دیا اور میں ان کو یوں لیکچر دینے لگا جیسے وہ میرے شاگرد ہوں اور میں ان کا اُستاد۔ میں نے ان کو بتایا کہ ہندکو زبان اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ سرزمین ہند کا نام پرانا ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ سرزمین ہند کتنی پرانی ہے تو میں عرض کروں گا اس سرزمین کا یہ نام دارا کیکاؤش کے کتبوں میں بھی ملتا ہے۔ سرزمین ہند پر ایران کے آتش پرستوں کی بھی عملداری رہی۔ بودھ بھکشوؤں کی گندھارا تہذیب بھی یہاں پروان چڑھتی رہی، سفید ہن قبائل کا بھی غلبہ رہا، یونانی تہذیب کے لوگ بھی سکندراعظم کیساتھ آئے، طلوع اسلام کے بعد سبگتگین اور اس کا شہزادہ محمود غزنوی بھی آتا اور جاتا رہا، یہاں مغلوں کا بھی راج رہا۔ اتنی دور کی کوڑیاں لانے کے دوران نہ جانے اور کتنا بولتا کہ اے یو خان نے بریک بریک کے سے انداز میں میری بات کاٹتے ہوئے کہہ دیا کہ یقینا تم لائبریری سائنس پڑھنے کے اہل ہو اور ہم تم کو ڈیپارمنٹ میں داخلہ دیا چاہتے ہیں۔ تو جناب یوں ہم ہندکو ہندکو کرتے رہنے کے صدقے، پشاور شہر میں1924 میں قائم ہونے والی پبلک لائبریری کے لائبریری آفیسر کا عہدہ سنبھالنے کے سفر پر روانہ ہوگئے اور آج آپ کو اپنی زندگی کے اس سفرنامہ کے اقتباس کو مزے لے لیکر دہرانے کا شرف حاصل کر رہے ہیں، اب آپ یہ بات پوچھنے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں کہ ہمیں اس داستان کو دہرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، تو اس کے جواب میں عرض کئے دیتے ہیں کہ مارچ کے مہینے کی7تاریخ کو خطہ پشاور کی ایوارڈ یافتہ شاعرہ اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بشریٰ فرخ ہدف کالج پشاور میں خواتین مصنفین کی کتابوں کی رونمائی کر رہی تھیں اور عین اسی روز میرا جسم میری مرضی کے سلوگن کے موضوع پر شین کی ڈائری شائع ہوئی تھی چونکہ یہ تقریب خواتین کی تھی سو میں نے اپنی درگت بننے کے خدشہ کے پیش نظر وہاں جانے کی بجائے پاکستان ہندکووان تحریک کی مجلس عاملہ کے ماہانہ اجلاس میں جاکر ہندکو زبان وادب سے کئے ہوئے عہدوفا کی تجدید کرنے کو مناسب سمجھا اور پہنچ گیا ہندکووانوں کے بہی خواہوں کی اس محفل میں جہاں ہندکووان تحریک کے کارپرداز سرجوڑ کر ہندکو وانوں کے مستقبل کے متعلق سوچ رہے تھے، راقم السطور کے وہاں پہنچتے ہی تحریک کی مجلس عاملہ نے اس ناچیز کی جتنی عزت افزائی کی اس کا بیان کرنا شروع کردوں تو یار لوگ اپنے منہ میاں مٹھو کا الزام دھرنے لگیں گے، سو اس حوالہ سے اگر کچھ عرض کرنا ہے تو صرف اتنا ہی کہ وہ
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
ہندکووانوں کی شان رفتہ کو بحال کرنے کے غم میں ہلکان ہوئے جارہے تھے، وہ اپنی کاہشوں اور کاوشوں کو ایک سیاسی پارٹی کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، ایسی سیاسی پارٹی جو پاکستان بھر کے ہندکو وانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر سکے، ہم نے اس سیاسی پارٹی کے بانی اراکین اور ان کی قیادت کی آنکھوں میں کچھ کرجانے کے عزم کی جو چمک دیکھی، اس کو لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں، پاکستان ہندکو وان تحریک مستقبل قریب میں ہندکو وان نوجوانوں میں درجنوں موٹر سائیکل تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، انہوں نے مستحق بچوں کو مفت تعلیم دلوانے کے علاوہ ”بوٹ پواؤ” یا بوٹ پہناؤ تحریک کے آغاز کا بھی اعلان کیا اور مستحق ہندکو وانوں کو قرضہ حسنہ دینے کی سکیم کے اجراء کا بھی اعلان کیا، پاکستان ہندکووان تحریک کے بانی اراکین جاگتی آنکھوں سے جو خواب تراش رہے تھے، ہم نے ان کی تعبیر کیلئے سب کیساتھ ملکر دست دعا بلند کئے، اور یہ سوچ کر خوش ہوتے رہے کہ گزرے ہوئے کل جب ہم ہندکو ہندکو کر رہے تھے، تو لوگ ہمیں باؤلا سمجھنے لگے تھے، لیکن آج جب ہم نے
مکتبہ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
کے مصداق اپنے مشن اور وژن کا منظرنامہ دیکھا تو بے اخیتار ہوکر پکار اُٹھے کہ آپ سب ہمارے خوابوں کی تعبیر بن کر ہمارے دلوں کی طمانیت کا باعث ہیں، تو ہماری اس بات پر کسی نے بھی ہمیں پاگل، مجنوں یا باؤلا نہیں کہا اور ہم اپنی منزل مراد کے پھریروں کو تازہ دم اور پرعزم جوانوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ایک بار پھر پاگل، مجنوں اور باؤلا بننے کی خواہش میں تڑپ تڑپ کر کہہ اُٹھے کہ
تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تونے