پختون قومی جرگہ کے مطالبات

پختون قومی جرگہ کے مشترکہ اعلامیہ میں قومی ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد کرنے' تمام پرائیویٹ ملیشیا نیٹ ورکس کیخلاف قانونی کارروائی، آپریشن کے باوجود شدت پسندوں کے منظم ہونے کو روکنے، آبی وسائل پر صوبوں کا اختیار تسلیم کرنے ، قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے، قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اجرائ، بجلی خالص منافع کی ادائیگی، قبائلی علاقوں میں انتظامی قانونی اور سیاسی اصلاحات و ترقی کیلئے25ویں آئینی ترمیم کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پختون جرگہ کے جو مطالبات صوبے کے عوام کے مفادات اور حقوق کے حوالے سے ہیں ان کے حصول کی سعی وقت کی ضرورت ہے البتہ جرگہ کے مطالبات میں بعض ایسے معاملات بھی شامل کئے گئے ہیں جو جرگہ میں شامل محدود عناصر کے مطالبات ہوسکتے ہیں کیونکہ جرگہ میں شریک سیاسی جماعتوں کی پالیسی اور موقف میں نہ تو یہ مطالبات کبھی شامل رہے ہیں اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں نے کبھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔ اس اعلامیہ کی اگرچہ کسی جانب سے مخالفت سامنے نہیں آئی جسے متفقہ اعلامیہ نہ ہونے کا تصور کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد کا مطالبہ متفقہ ہوسکتا ہے لیکن تمام پرائیویٹ ملیشیا نیٹ ورکس کیخلاف قانونی کارروائی کے مطالبہ پر سوال اُٹھتا ہے کہ ان کا کوئی وجود ابھی باقی ہے، بہتر ہوتا کہ اعلامیہ میں ان مبینہ پرائیویٹ ملیشائوں کے ناموں کی بھی نشاندہی کی جاتی یا کم ازکم یہ جن علاقوں میں مبینہ طور پر سرگرم ہیں ان علاقوں کی نشاندہی ہوتی تو ان کیخلاف کارروائی کے مطالبے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پختون قومی جرگہ کے نام پر منعقدہ جرگہ میں متنازعہ اور بلا ٹھوس ثبوت کے مطالبات کو اعلامیہ میں شامل کرنے کی بجائے اور عرصے سے حل طلب مسائل جیسا کہ آبی وسائل،بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات ،قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے اجراء جیسے بنیادی اور متفقہ مطالبات پر ہی زور دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ضم اضلاع کے بارے میں شرکاء کے مطالبات خاص طور پر توجہ طلب ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی روز ہی وزیراعلیٰ نے بھی ضم اضلاع کے منتخب نمائندوں اور قبائلی عمائدین کے مشاورتی جرگہ سے خطاب کیا اور قبائلی اضلاع میں تیرہ سو پچیس ارب روپے کے ناقابل یقین خطیر رقم خرچ کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے جن ترقیاتی کاموں اور سہولیات کی فراہمی کا عوام سے وعدہ کیا اگر حقیقی معنوں میں ان پر عملدرآمد ہو جائے تو قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے اور ضم اضلاع کے حوالے سے آئین ودستور کے تقاضوں کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگی جس کے بعد پختون قومی جرگہ سمیت قبائلی عوام سبھی کے مطالبات دہرانے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ قبائلی اضلاع کے حوالے سے خیبرپختونخوا منرل ایکٹ پر جرگہ کے تحفظات اور مقامی وسائل پر مقامی افراد کے حق کو تسلیم کرنے اور بلاک شناختی کارڈ بحال کرنے کے مطالبات سے انحراف کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات کے جنگلات،کاروبار،معدنیات اور وہاں موجود مواقع ہی کو بہتر ومنظم انداز میں قبائلی عوام کے نمائندوں کی مشاورت اور عوامی مطالبات کے مطابق بروئے کار لایا جائے تو ایک طرف جہاں عوامی مطالبات پورے ہوں گے وہاں حکومت کو بھی بہت زیادہ فنڈز وسائل مختص کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پختون قومی جرگہ میں حکمران جماعت سمیت تقریباً تمام جماعتوں کے نمائندوں کی موجودگی میں مسائل کی نشاندہی اور مطالبات تو کئے گئے چونکہ اس طرح کے مطالبات پہلی مرتبہ نہیں ہورہے ہیں بلکہ مطالبات کا تسلسل ہے ایسے میں جرگہ کے عمائدین اگر مطالبات پر عملدرآمد کیلئے کسی لائحہ عمل اور طریقہ کار کا بھی اعلان کرتے تو زیادہ مناسب ہوتا، بہرحال اگلے جرگہ میں اس پر توجہ دی جاسکتی ہے تاکہ عوام کے مسائل کے حل اور حقوق کے حصول کی جدوجہدنشستند وگفتند وبرخواستند تک محدود نہ رہے اور اس میں پیشرفت ہو۔