چلا جو درد کا اک اور تیر میں بھی نہ تھا

بیانات پر اعتماد کیا جائے یا پھر زمینی حقائق کو دیکھا جائے؟ مشیر تجارت کے تازہ بیان کا جائزہ لیا جائے تو اصولی طور پر اسے مستند ہے ان کا فرمایا ہوا ہی قرار دینا چاہئے کہ وہ مشیر ہیں اور ان کے فرمود کو انگریزی کے محاورے کے مطابق فرام دی ہارسز ماؤتھ ہی قرار دیا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا ہے ملک میں توانائی کا بحران ختم ہوچکا ہے اور اضافی بجلی موجود ہے، ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں، تاہم فی الحال توانائی کے حوالے سے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس تک ہی خود کو محدود رکھتے ہیں اور پھر زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں کہ اگر توانائی کا بحران ختم ہوچکا ہے اور اضافی بجلی بھی موجود ہے تو یہ جو خیبرپختونخواکے مختلف علاقوں بلکہ خصوصاً دارا لحکومت پشاور میں ایک بار پھر لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا گیا ہے اسے کس کھاتے میں رکھا جائے؟ ویسے تو خیبرپختونخوا کے حوالے سے پیسکو یا واپڈا کی پالیسی تبدیل ہونے کا نام نہیں لیتی اور چھوٹے شہروں اور دیہات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے پر وہاں کے عوام مسلسل احتجاج کرتے رہتے ہیں جبکہ پشاور کے مختلف علاقوں میں ان دنوں بغیر کسی اطلاع کے سرشام ہی سے بجلی بند کر دی جاتی ہے اور گزشتہ روز پشاور میں طویل بریک ڈائون کے حوالے سے خود پیسکو کے حکام کی بے خبری کے حوالے سے بھی اخبارات میں خبریں چھپ چکی ہیں، اسلئے اگر مشیر تجارت کے فرمانے کو درست قرار دیا جائے تو پھر لوڈشیڈنگ(غیر اعلانیہ) کی لہر کیا معنی رکھتی ہے؟ یعنی بقول شاعر
کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے
لیگ(ن) پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں پارٹی پالیسیوں کے حوالے سے بحث ومباحثہ کے دوران جو اختلافات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں اگرچہ اسے”اختلاف رائے جمہوریت کا حسن”کے نام سے موسوم کرکے ہر جماعت کی جانب سے ایسی صورتحال پر مٹی پائو کے بیانئے سے ڈھانپنے اور قالین کے نیچے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم ان اختلافات سے آنکھیں بند کرنے کی پالیسی خواہ کسی بھی جماعت کا وتیرہ ہو، غلط ہوتا ہے،اسلئے جیسے کہ ایک بیان مخالفین کی جانب سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) بھی سمٹ سمٹا کر پنجاب کی پارٹی بنتی جارہی ہے اگر مکمل طور پر غلط نہیں ہے تو بھی بہت حد تک درست دکھائی دے رہا ہے، اس سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کیساتھ بھی ایسا ہی ہو چکا ہے اور یہ پارٹی جو کبھی وفاق کی علامت ہوا کرتی تھی اور محترمہ بینظیر شہید کیلئے چاروں صوبوں کی زنجیر، بینظیر بینظیر کا نعرہ بہت مقبول رہا ہے، ان کی شہادت کے بعد پارٹی کی پالیسیوں نے نہ صرف پنجاب سے اس پارٹی کو دیس نکالا دیدیا بلکہ سمٹ سمٹا کر یہ صرف سندھ بلکہ دیہی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی، ملک کے دیگر حصوں میں اگرچہ اس کا وجود باقی ہے لیکن جس طمطراق سے یہ پارٹی کبھی پورے ملک کے سیاسی اُفق پر چھائی ہوتی تھی اب وہ صورت نہیں ہے، لگ بھگ یہی حال اب لیگ (ن) کی نظر آتی ہے اور اس کی وجوہات کے بارے میں اگر خود پارٹی کے اندر سنجیدہ بحث کی جائے تو شاید پارٹی کیلئے بہتر ہو، بظاہر تو حالات اب بھی اتنے تشویشناک نہیں ہیں کیونکہ جس طرح پارٹی کے اقتدار سے محروم ہونے اور پارٹی قیادت پر مقدمات کے باوجود اگر پارٹی اب تک (کچھ حلقوں کی خواہش کے مطابق) بکھرنے نہیں پائی اور وہ جو کچھ مخصوص حلقے یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ پارٹی کے اندر دراڑیں پیدا کر کے اسے ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ان کی اُمیدیں تاحال پوری ہوتی دکھائی نہیں دیں، اس لئے بہتر ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے بقول اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے کو ہی اہمیت دیکر اندرونی اختلافات پر قابو پانے کی کوشش کی جائے تاکہ اگر ایک جانب پارٹی ٹوٹ پھوٹ سے بچ سکے تو دوسری جانب جو حلقے سیاسی جماعتوں کی شکست وریخت سے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں اور ملک میں ایک مضبوط حکومت کے قیام کی راہ کھوٹی کر کے عوام کے حقوق کے حصول کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں، ان کے مقاصد ناکام ہو سکیں، بقول احمد فراز
میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو
چلا جو درد کا اک اور تیر میں بھی نہ تھا
امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ ہونے کے بعد صورتحال پر کسی تبصرے سے ہم نے حتی الامکان گریز کی پالیسی اختیار کی تھی کہ ہم خود کو ان خوش گمان لوگوں کی صف میں کھڑا کرنا چاہتے تھے جو اس امید کیساتھ خاموش تھے کہ اللہ کرے صورتحال میں مثبت تبدیلی آجائے اور خطہ ایک بار پھر امن کا نقیب بن کر اُبھرے مگر جس طرح روسی افواج کے انخلاء کے بعد افغان قیادت کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے خانہ جنگی کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں طالبان اُبھرے تھے، اسی طرح افغانستان کے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں ایک بار پھر صورتحال بہت گمبھیر صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور لگتا ہے کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے بعد طالبان نے اپنی اپنی حکومتوں کے قیام کا جو اعلان کیا ہے اس سے افغانستان میں حالات ایک بار پھر (اللہ نہ کرے) خانہ جنگی کی طرف جارہے ہیں، کیا افغان قیادت اس صورتحال میں کسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے اور حالات پر باہم گفت وشنید سے قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی؟ بصورت دیگر حالات جو رخ اختیار کر سکتے ہیں اس سے تباہی وبربادی کے سوا کچھ ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔