افغانستان امریکی عزائم اور پاکستان

اگر بین الافغان مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو افغانستان ایک اور خانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے۔ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے سے یوں لگتا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں کسی نئی خانہ جنگی کی کوئی زیادہ پروا نہیں اور امریکی صدر صرف اور صرف امریکی وٹروں پر توجہ دیئے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر نے مستقبل میں افغانستان پر طالبان کی حکومت بننے کے امکانات کا بیان دے کر خفیہ دستاویز اور اس کے مندرجات کی تصدیق کی ہے۔اگر بین الافغان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور طالبان افغانستان میں اماراتِ اسلامیہ کی تشکیل کی کوشش میں جنگ چھیڑتے ہیں تو اس خانہ جنگی میں علاقائی طاقتیں بھی دخل اندازی کریں گی یوں افغانستان ایک بار پھر علاقائی کشمکش کا گڑھ بن جائے گا۔ایران کے وزیرِ خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، امریکا کو افغان عوام کے مستقبل کے تعین کا حق نہیں۔ بھارت پہلے ہی اس معاہدے میں باہر رکھے جانے پر پریشان ہے اور اشرف غنی انتظامیہ کو مدد کے وعدے کر رہا ہے۔اس خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان اپنے مغربی بارڈر پر ہونے والی کشمکش سے متاثر ہوگا۔ پاکستان کو ان حالات کا مکمل ادراک ہے اسی لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے پہلے وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے امریکا کا ذمہ دارانہ انخلا چاہتا ہے۔ وزیرِ خارجہ کے بیان میں سوویت انخلا کے بعد امریکیوں کی بے اعتنائی کی طرف اشارہ تھا۔دوحہ معاہدے کے بعد اشرف غنی، امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے امن عمل پر افغان امریکا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکا افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کے لیے معاہدوں میں سہولت کاری کا کام کرے گا۔ اس پر پاکستان کا ردِعمل واضح تھا کہ افغانستان کسی بھی معاہدے کے لیے براہِ راست بات کرے، امریکا افغانستان سے انخلا کی تیاری کر رہا ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ رہنا ہے۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جو معاہدہ سامنے آیا ہے یہ اصل معاہدے کا محض ایک حصہ ہے جو دنیا کو دکھانے کے لیے ہے، اس معاہدے کا ایک بڑا حصہ خفیہ ہے جو شاید کبھی بھی سامنے نہیں آسکے۔ امریکی کانگریس کے ارکان بھی ان خفیہ دستاویزات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کسی بھی خفیہ دستاویز کی تردید کی لیکن پھر امریکی عہدیداروں کی طرف سے تصدیق کے بعد انہیں بھی ماننا ہی پڑا۔ امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر سے سوال کیا گیا کہ 4 صفحات پر مشتمل معاہدے میں تشدد میں کمی کے الفاظ موجود نہیں، اس پر مارک ایسپر نے کہا کہ یہ الفاظ شاید اس معاہدے کے ساتھ ضمنی دستاویزات میں موجود ہیں۔ مارک ایسپر نے اس طرح خفیہ دستاویزات کا اعتراف کیا۔ امریکی صدر کے کانگریس میں سب سے بڑے حمایتی سینیٹر لنزے گراہم اور رکن کانگریس لز چینی نے بھی ان خفیہ دستاویزات پر تحفظات کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔خاتون رکن کانگریس لز چینی نے کانگریس میں سماعت کے دوران کہا کہ یہ خفیہ دستاویزات افغان طالبان نے دیکھی ہیں اور میرے خیال میں امریکی عوام بھی یہ جاننے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغان طالبان کے ساتھ ان کے نام پر کیا معاہدہ کیا ہے؟ دوسری طرف سینیٹر لنزے گراہم نے افغان طالبان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کو امریکا کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے خاتمے کی طرف پہلے قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور نومبر کے الیکشن میں ایک انتخابی وعدہ پورا کرکے دوسری مدت صدارت کے متمنی ہیں۔امریکا اور طالبان کے مابین خفیہ معاہدے کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ مکمل انخلا نہیں ہوگا بلکہ امریکا انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے لیے دستے تعینات رکھے گا۔ یہ دستے داعش کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ دار ہوں گے، یوں 19 سال کی جنگ کے بعد امریکا اور طالبان دوست یا اتحادی کا درجہ اختیار کرلیں گے۔معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں افغان طالبان اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے امریکی اور غیر ملکی افواج پر داعش کے حملوں کو روکنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ معاہدے میں فریق امریکا اور ‘اماراتِ اسلامیہ’ ہیں۔ معاہدے میں اماراتِ اسلامیہ کا لفظ لکھنے کے ساتھ بظاہر یہ وضاحت شامل ہے کہ امریکا اس سے متفق نہیں لیکن معاہدہ اسی فریق کے ساتھ ہوا ہے یوں امریکا نے طالبان کی حکومت تسلیم کی ہے جو افغان دھڑوں اور باقی دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ امریکی سیاستدان اور ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جب افغانستان سے انخلا کی بات کرتے ہیں تو لڑاکا دستوں کی واپسی کی بات کرتے ہیں۔ لڑاکا دستے فوج کی اصطلاح نہیں بلکہ سیاسی اصطلاح ہے، اور سفارت خانوں میں تعینات سی آئی اے کے آپریٹوز، فوجی ٹرینرز، ایڈوائزرز، انٹیلی جنس رابطہ کار، ایئر اسٹرائیک فارورڈ آبزرورز، ڈرون آپریٹرز، لاجسٹک عملہ اس اصطلاح کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن ہاں اسپیشل فورسز ان لڑاکا دستوں میں شامل نہیں ہوتے۔سابق فوجیوں کے گروپ کامن ڈیفنس نے پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنگوں کے خاتمے کے لیے ایک کانفرنس بلائی اور جنگیں ختم کرنے اور فوجی واپس بلانے کے وعدے کا ایک مسودہ بنایا جس پر ڈیموکریٹ صدارتی امید وار وں میں سے صرف2 نے دستخط کیے اور ان2 میں سے بھی ایک خاتون امیدوار الزبتھ وارن مقابلے سے باہر ہوچکی ہیں اور دوسرے امیدوار برنی سینڈرز ہیں جو اب تک دوڑ میں شامل ہیں جبکہ باقی ڈیموکریٹ امیدوار اس پر دستخط سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ (باقی حصہ کل ملاحظہ فرمائیں)