تجاوزات کے باعث سکڑتی سڑکیں

پشاور بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کاصوبائی دارلحکومت بھی ہے یوں صوبہ بھر کے لوگوں کا یہاں آنا ایک فطری سی بات ہے۔ ملحقہ علاقوں اور نزدیکی اضلاع سے لوگ روزگار اور اپنے دفتری کاموں کے سلسلہ میں اس شہر کا رخ کرتے ہیںیہ صرف پشاور شہر کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیابھر کے شہروں کے ساتھ تقریباً اسی طرح ہوا ہے اور ہورہا ہے۔یہ شہر کراچی بھی ہوسکتا ہے اور لاہور بھی ، دہلی بھی ہے اور کلکتہ بھی، کیلی فورنیا بھی اور لندن و پیرس بھی، شہر میں چونکہ روزگارکے مواقع زیادہ ہوتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ لوگوں کی مصروفیت کی وجہ سے کئی چھوٹے موٹے کام وہ خود کرنے کی بجائے کسی اور سے چند سکے دے کرکروالیتے ہیں۔ابتداء میں تو یہ لوگ دیہاتوں سے صبح آتے اور شام ہوتے ہی اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں دن بھر کی محنت مزدوری سے اتنا کچھ کمالیتے ہیں کہ ان کے بیوی بچے گزراوقات کرسکیں لیکن پھریہ دن بھر کے لئے آنے والے آہستہ آہستہ شہر کی رنگینوں میں یوں کھوسے جاتے ہیں کہ پھر یہیں رہ جانے کی ان کی خواہشیں رفتہ رفتہ ضرورتیں بننا شروع ہوجاتی ہیں اور ان کی یہ ضرورتیں انہیں شہر میں زیادہ سے زیادہ رہنے پر اکساتی رہتی ہیں اور صرف دن بھر کی مزدوری کرنے والے شہر میں رہنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔لیکن انہی مزدوروں کے روپ میں بہروپئے بھی آجاتے ہیں جو گائوں میں بھی حسد ولالچ کا پیکر ہوتے ہیں ۔شہر میں بھی یہ لوگ اپنی ذہنیت کے مطابق پہلے پہل تو کرائے کے گھریا جھونپڑی میں گزر اوقات کرلیتے ہیںمگر ان کی نیت میں کچھ اور ہوتاہے ۔شہر کے سادہ لوح لوگ انہیں غریب مزدور سمجھتے ہیں اور اپنے خالی پلاٹوں میں رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن انہیں یہ علم ہی نہیں ہوتا یوں وہ کتنی بڑی مصیبت کو دعوت دے رہے ہیں۔ دیہاتیوں کا روپ دھارے غربت کا سہارا لینے والے پھر بدوکے اونٹ کی طرح شہر میں اپنے آپ کو سمانے کی کوشش کرتے ہیںان میں ہر قماش کے لوگ ہوتے ہیںیہ لوگ کچھ عرصہ شہر کی سڑکوں پر ریڑھی لگاتے ہیں پھر چھابڑی اور پھر کھوکھا اس طرح یہ قبضہ گروپ سارے شہر کے سکون اور خوبصورتی کو غارت کرتے رہتے ہیں۔
ان قبضہ گروپوں میں پہلے بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جن کی سرکاری یا غیر سرکاری نوکری شہر میں لگی ہے یہ اکثر دوپہر تک شہر میں رہتے ہیںاور پھر اپنے بچوںکے پاس واپس پہنچ جاتے ہیں ان کے شہر آنے کا یہ سلسلہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور دن بھر کی مصروفیت کے بعد جیسے ہی دفتر بند ہوتے ہیں یہ لوگ بھی اپنے گھروں کو واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ صبح جب ان کے آنے کا وقت ہوتا ہے عین اسی وقت پشاور شہر کے باسی بھی اپنے اپنے کاموں یا روزگار پر جاتے ہیں ‘ سکولوں کے طلباء و طالبات بھی اسی وقت اپنی سکول وین ‘ بسوں اور رکشوں میں رواں دواں ہوتے ہیں۔دوپہر کو بھی ان سب اداروں کی چھٹی ایک ساتھ ہوتی ہے اور تب بھی حالات تقریباًیہی ہوتے ہیں۔یہ تمام گاڑیاں ایک ساتھ آنے سے بڑی سڑکوں پر ٹریفک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ جیسے ساری ٹریفک چیونٹی کی چال سے چل رہی ہو۔ یوں منٹوں میں طے ہونے والا سفر گھنٹوں میں طے ہوتاہے اور یہ ہیوی ٹریفک سڑک پر موجود رہنے سے جہاں سڑکوں کی تباہی وقت سے پہلے ہوجاتی ہے وہیں پر کاروبار زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے ۔اس صورتحال میں اگر کسی ایمبولینس کو کسی مریض کو لیجانا ہوتواس مریض کو ہسپتال پہنچنے میں اتنی دیر لگی ہے کہ موت پہلے پہنچ آتی ہے ۔اسی طرح اگر شہر کے کسی حصہ میں آگ لگ جائے تو فائربرگیڈ کی گاڑی سڑکوں پر ہی اپنے سائرن بجاتی رہ جاتی ہے اور آگ والی جگہ راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ یہ بے ہنگم ٹریفک کسی سیلاب سے کم نہیں ٹریفک اہلکار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلاکر بھی اس سیلاب کا کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکال سکتے۔پشاور کے باسی کڑھتے ایک دوسرے کوبرے بھلے الفاظ سے نوازے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اس بے ہنگم ٹریفک کے لئے ہم کبھی ٹریفک کے نظام کو کوستے اور کبھی اپنے ہی ناسمجھ لوگوں کو اس کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے دن گزار لیتے ہیں۔آگے بڑھتے ہیں اب ان لوگوں کی بات کرتے ہیں جو شہر آتے ہیں محنت مزدوری کرنے یہ لوگ شہر میں فٹ پاتھوں پرجہاں جس کا جی کرتا ہے قبضہ کرلیتا ہے چھابڑی فروش ریڑھی بان آئے روز یہاں براجمان ہوتے ہیں کچھ تو اتنے پرانے ہوچکے ہیں کہ انہوں نے ایک سے دو اور دو سے چار ریڑھیاں لگالی ہیں حتیٰ کہ اب ان کے بچے بھی اسے اپنی ہی جاگیر گردانتے ہوئے فٹ پاتھ سے بھی ایک قدم آگے بڑھ آئے ہیں۔ان کے یہاں تعلیم وتربیت کا رواج تو ہے نہیں لہٰذا بچہ جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے ریڑی لے کر فٹ پاتھ پر براجمان ہوتا ہے۔ ان کے بے جا قبضے نے شہر کے اندر کی سڑکوں کو مزید تنگ کردیا ہے کچھ تو یہ سڑکیں ہیں تنگ کچھ دکانداروں نے اپنے ڈانڈے آگے بڑھائے ہوئے ہیں اور باقی ماندہ جگہ پر چھابڑی فروشوں اور ریڑھی بانوں کا قبضہ ہے بڑی سڑکوں پر تو ٹریفک کا حقیقی رش ہونے کی وجہ سے ٹریفک اکثر جام رہتی ہے لیکن شہر کے اندر میں ٹریفک کا رش اتنا نہیں ہے یہاں تو چھابڑی فروش اور ریڑھی والے آدھے سے زیادہ روڑ پر قبضہ کرلئے ہوتے ہیں۔